Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مشکوک پتنگوں کی نگرانی

پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں راستے دھند میں لپٹے ہوئے ہیں اور سمتوں کا تعین مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ اجتماعی شعور کے زوال کی علامت ہے۔ ریاست، سیاست اور سماج تینوں ایک ایسی دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں ہر قدم آگے بڑھانے کے بجائے مزید دھنسنے کا احساس دیتا ہے۔ 2026 ء کا آغاز امید کے بجائے بے یقینی اعتماد کے بجائے خوف اور مکالمے کے بجائے خاموشی لے کر آیا ہے۔ہم نے ماضی میں بھی آمریت دیکھی، سیاسی انجینئرنگ کا تجربہ کیا، منتخب حکومتوں کو بنتے بگڑتے دیکھا، مگر اس بار معاملہ مختلف ہے۔ اب صرف حکومتیں نہیں بدلی جا رہیں بلکہ سیاسی رویے آئینی قدریں اور شہری شعور بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اختلاف کو جرم سوال کو گستاخی اور احتجاج کو بغاوت بنا دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں جمہوریت محض ایک لفظ رہ جاتی ہے۔ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کو اس انداز میں دیوار سے لگایا گیا ہے کہ اس کی سانسیں بھی نگرانی میں ہیں۔ قیادت قید ہے کارکن عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں،خاندان دبا ئومیں ہیں اور ہمدرد خوف میں مبتلا۔ عمران خان کی قید محض ایک فرد کی قید نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کی علامتی گرفتاری ہے۔ ان کی صحت ان سے ملاقاتوں کی پابندیاں اور قانونی رکاوٹیں ایک ایسے نظام کی تصویر پیش کرتی ہیں جو سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔یہ سب کچھ کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک منظم عمل ہے۔ پہلے بیانیہ بدلا گیا پھر کرداروں کو متنازع بنایا گیا پھر قوانین سخت کئے گئے، پھر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا، پھر میڈیا کو خاموش کیا گیا اور اب عوام کو بے بس کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ریاست آہستہ آہستہ شہریوں کو رعایا میں بدل دیتی ہے۔
آج کی اتحادی حکومت کے پاس عوامی اعتماد کمزور اور اخلاقی جواز محدود ہے۔ معیشت کا حال سب کے سامنے ہے۔ مہنگائی عام آدمی کی سانسیں چھین رہی ہے۔ نوجوان تعلیم مکمل کر کے بے روزگاری کی قطار میں کھڑے ہیں۔ کسان اپنی فصل کی قیمت پر رو رہا ہے۔ متوسط طبقہ کرایہ، بجلی اور بچوں کی فیس کے درمیان پستا جا رہا ہے۔ مگر حکمران طبقہ ان مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی بقا میں مصروف ہے۔طاقت کے مراکز شاید یہ سمجھتے ہیں کہ خوف کے ذریعے استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خوف وقتی خاموشی تو دے سکتا ہے، پائیدار امن نہیں۔ جب عوام کو یہ احساس ہو جائے کہ ان کی آواز کی کوئی وقعت نہیں تو پھر وہ یا تو ملک چھوڑنے لگتے ہیں یا دل ہی دل میں بغاوت پالنے لگتے ہیں۔ آج پاکستان میں دونوں رجحانات واضح نظر آ رہے ہیں۔ پنجاب میں بسنت کی اجازت ایک معمولی واقعہ نہیں یہ اس خوف کی علامت ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ تہوار کو بھی ضابطوں میں جکڑ دیا گیا۔ پتنگوں کو بھی مشکوک بنا دیا گیا۔خوشی کو بھی نگرانی کے دائرے میں لے آیا گیا۔ یہ وہ ریاست ہے جو ہوا میں اڑتے کاغذ سے گھبرا جاتی ہے۔جب اپوزیشن ختم ہو جائے تو احتساب بھی دفن ہو جاتا ہے۔ پھر فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، پالیسیاں عوام کی مرضی کے بغیر بنتی ہیں اور پارلیمنٹ محض رسمی ادارہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت کا ڈھانچہ کھڑا رہتا ہے مگر روح نکل جاتی ہے۔اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ نوجوان سیاست سے بدظن ہو رہے ہیں۔ گھروں میں بیٹھے بزرگ ماضی کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں۔ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ ہر شخص اپنے اپنے دائرے میں غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہ صرف سیاسی بحران نہیں یہ اعتماد کا بحران ہے۔خارجہ دنیا بھی یہ سب دیکھ رہی ہے۔ سرمایہ کاری رک رہی ہے۔
سفارتی وزن کم ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک غیر مستحکم ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اندرونی انتشار نے ہماری خارجہ پوزیشن کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ریاستیں طاقت سے نہیں اعتماد سے بنتی ہیں۔ قومیں بندوق سے نہیں مکالمے سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر سیاسی اختلاف کو جگہ نہ دی گئی اگر آئین کو محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھا گیا اگر عوام کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا تو پھر انجام اچھا نہیں ہوتا۔اب بھی وقت ہے۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ اپوزیشن کو بولنے دیا جائے۔ میڈیا کو سانس لینے دی جائے۔ اداروں کو آئینی حدود میں واپس لایا جائے۔ یہ ملک کسی ایک جماعت یا طبقے کی جاگیر نہیں۔ یہ کروڑوں لوگوں کا گھر ہے۔اگر یہ راستہ نہ بدلا گیا تو یہ سیاسی دلدل ہمیں مزید اندر کھینچ لے گی۔ پھر نہ حکومت بچے گی نہ اپوزیشن اور نہ ہی وہ پاکستان جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔اور ایسے میں، عام آدمی کی امید صرف اللہ پر رہ جاتی ہے۔میڈیا کی خاموشی بھی اس پورے منظرنامے کا ایک تکلیف دہ پہلو ہے۔ وہ میڈیا جو کبھی عوام کی آواز ہوا کرتا تھا آج اشتہارات اور دبا کے درمیان اپنی شناخت کھو بیٹھا ہے۔ ٹاک شوز میں مخصوص موضوعات گھمائے جاتے ہیں اصل سوالات سے گریز کیا جاتا ہے اور صحافت کو محض بیانات کی ترسیل تک محدود کر دیا گیا ہے۔ صحافی نوکری کے خوف میں سچ لکھنے سے گھبراتے ہیں، ایڈیٹرز سرخ لکیروں کے اندر رہ کر خبریں ترتیب دیتے ہیں اور ناظرین آہستہ آہستہ اس تماشے سے اکتا چکے ہیں۔عام آدمی کی زندگی اس سیاسی کھیل میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ محلے کی دکان پر کھڑا مزدور مہنگائی کا شکوہ کرتا ہے، رکشہ چلانے والا روزانہ کا ایندھن پورا کرنے کی فکر میں ہے۔ سرکاری اسکول کا استاد تنخواہ کے انتظار میں دن گنتا ہے اور یونیورسٹی کا طالب علم مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس نہ جلسوں کی طاقت ہے نہ عدالتوں تک رسائی مگر ریاست کی ہر پالیسی کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے۔خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ کیفیت طویل ہو گئی تو معاشرہ مایوسی کی ایسی سطح پر پہنچ جائے گا جہاں قانون اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری سب کمزور پڑ جائیں گے۔ جب شہری کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی آواز بے معنی ہے تو وہ یا تو خود کو حالات کے حوالے کر دیتا ہے یا پھر کسی انتہا کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں ایسے موڑ پر اکثر غلط فیصلے کرتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آنے والی نسلوں کو ہم کیسا پاکستان دے کر جا رہے ہیں۔ کیا وہ ایک ایسا ملک دیکھیں گی جہاں اختلاف جرم ہے اور خاموشی فرض، یا پھر ایسا وطن جہاں رائے کا احترام ہو اور آئین سب سے بالاتر؟ یہ فیصلہ آج کے حکمرانوں ہی کو نہیں بلکہ ہم سب کو مل کر کرنا ہے۔ریاست اگر واقعی مضبوط پاکستان چاہتی ہے تو اسے سیاسی کشادگی دکھانا ہوگی۔ طاقت کے بجائے اعتماد کو ترجیح دینا ہوگی۔ ورنہ تاریخ بے رحم ہوتی ہے، وہ کسی کی کمزوری نہیں دیکھتی صرف فیصلوں کا حساب لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں