(گزشتہ سے پیوستہ)
چونکہ جے ایف-17ایک مشترکہ پاکچین منصوبہ ہے،اس لیے ہربرآمدی معاہدے میں چین کی شمولیت لازمی ہوگی۔چین تکنیکی منظوری،سپلائی چین اورپاکستان ٹیکنالوجی کنٹرول میں کلیدی کردارادا کرے گا۔یہ سوال فطری اور بجاہے کہ آیاپاکستان بڑے پیمانے پریہ طیارے بروقت تیارکرسکتاہے یانہیں ۔ مگرایسے سوالات دفاعی ریاستوں میں کھلے بازارمیں زیرِبحث نہیں لائے جاتے۔پالیسی سطح پریہ تسلیم کیاجاتاہے کہ بڑے پیمانے کے آرڈرز کیلئے پیداواری صلاحیت ایک حساس معاملہ ہے۔تاہم یہ ایک تدریجی اورقابلِ توسیع نظام ہے جسے ضرورت کے مطابق بڑھایاجاسکتاہے۔مگردفاعی صنعت میں پیداواری صلاحیت محض فیکٹریوں سے نہیں،ریاستی عزم، منصوبہ بندی اوروقت سے مشروط ہوتی ہے۔
وزیرِدفاعی پیداوارکا جواب نہایت معنی خیزتھا: یہ قومی دفاع کاسوال ہے اورقومی راز،رازہی رہنے چاہییں۔انہوں نے مثال دے کر واضح کیاکہ جدیددفاعی نظام وقت، محنت اور تدریج مانگتاہییہ جدیددفاعی نظام کسی ایک دن کی تخلیق نہیں۔ پیداواری اہلیت،سپلائی چین اورڈیلیوری ٹائم لائنزسے متعلق تفصیلات قومی سلامتی کے دائرے میں آتی ہیں۔ان معلومات کاعوامی سطح پرانکشاف پالیسی کے منافی ہوگا۔یہ بیان دراصل صنعتی حقیقت اورریاستی احتیاط کاعکاس ہے۔
دفاعی ماہرین خبردارکرتے ہیں کہ ایسے معاہدے برسوں میں طے پاتے ہیں۔جذباتی یا جلدبازی پرمبنی فیصلے مستقبل میں مشکلات پیدا کرسکتے ہیں،سپلائی چین ،تکنیکی تعاون،سفارتی دبائوجیسے مسائل پیداکرسکتے ہیں۔ ڈیلیوری میں تاخیر،سپلائی چین میں رکاوٹ، سفارتی دبائوپالیسی کے تحت ان خطرات کے لئے پیشگی حکمت عملی تیارکرناضروری ہے۔اس لئے حکمت اور تدبر لازم ہے۔
چونکہ اس منصوبے کے اہم حصے چین سے آتے ہیں،اس لیے پاکستان کوایسے معاہدوں سے اجتناب اورگریزکرناہوگاجوسپلائی یا ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان کی استعدادسے بڑھ کرہوں یاتکنیکی انحصارمیں خلل ڈال سکیں۔یہ معاملہ صنعتی حقیقت پسندی کا تقاضاکرتاہے،نہ کہ محض سیاسی جوش کا۔اس لئے پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں کامیابی کاتقاضا ہے کہ سپلائی چین کے لئے فول پروف نظام مرتب کیاجائے۔
اکثرتجزیہ کارمتفق ہیں کہ چین اس منصوبے میں سینئرپارٹنرہے اوروہ ہرسطح پرفروختی عمل پرگہری نظررکھے گایہ فطری بھی ہے اورناگزیربھی۔اس کامطلب یہ ہے کہ حتمی منظوری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اوربرآمدی پالیسی میں چین کاکردار فیصلہ کن ہوگا۔ پالیسی سطح پریہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ چین اس منصوبے میں سینئرپارٹنر ہے۔ برآمدی فیصلے دوطرفہ مشاورت سے ہوں گے اور حتمی منظوری مشترکہ ہوگی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تمام آرڈرز میں کامیابی کاسہرارب کریم کی عنایات،پاک فضائیہ اورپاک افواج کے اس دلیرانہ صلاحیت کا ہے جواس نے مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں ثابت کیا۔
سی آئی جی آئی کے سینئر فیلواینارتانجن کے مطابق،پاکستان طیارہ فروخت کرسکتاہے مگرٹیکنالوجی کاکنٹرول چین کے پاس ہی رہے گا۔یوں یہ ایک مشترکہ ایکسپورٹ ماڈل ہوگا جس میں چین کی بالادستی مسلمہ ہے۔اس سے حساس ٹیکنالوجی کے غیرمجازپھیلائو کو روکاجاسکے گا۔چین اورپاکستان کویہ اندیشہ بھی لاحق ہے کہ کہیں کسی تیسرے فریق کے ذریعے اس کی حساس ٹیکنالوجی مغربی ممالک تک نہ پہنچ جائے۔اسی لئے ہر معاہدہ پاک بیجنگ کی نگرانی میں ہوگا۔ یہ خدشہ عالمی طاقتوں کی ٹیکنالوجی وار کا حصہ ہے اور اسی لئے پاک بیجنگ ہر معاہدے پرمشترکہ کڑی نظررکھیں گے۔اس خدشے کے پیشِ نظربرآمدی پالیسی سخت کنٹرول میں رکھی جائے گی۔
وزیرِدفاعی پیداوارکے الفاظ میں کوئی بھی ریاست اپنی بندوق دشمن کونہیں بیچتی۔جے ایف17- صرف دوست ممالک کیلئے ہے،اورہر فیصلہ جیوپولیٹیکل تناظرمیں کیاجاتاہے۔ پاکستانی وزیرکے مطابق جے ایف 17-ہرملک کے لئے نہیں۔یہ فیصلہ جیوپولیٹیکل حالات،دوستی اوردشمنی کی بنیادپرکیاجاتاہے۔یہ ریاستی دانش ہے کہ کوئی قوم اپنی دفاعی قوت دشمن کومنتقل نہیں کرتی۔پالیسی کے مطابق جے ایف-17صرف دوست اورتزویراتی شراکت دارممالک کوفروخت کیا جائے گا۔جیوپولیٹیکل عوامل ہرمعاہدے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
(جاری ہے)