Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

25 سال بعد بسنت کی واپسی

بسنت ایک قدیم موسمی تہوار ہےجو موسم بہار میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔بنیادی طورپریہ تہوار ہندوئوں سے منسوب ہے۔ تاریخ میں اس کا تعلق مشہور سرسوتی دیوی سے بتایاجاتا ہےجو ہندومت میں موسیقی اور آرٹ کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔بسنت برصغیر پاک و ہند میں برسوں سے منائی جا رہی ہے۔اسے دیگر مذاہب کے لوگ بھی بڑے ذوق و شوق اور اہتمام سے مناتے ہیں۔تاویل یہ دیتے ہیں کہ چونکہ سردیوں کے موسم میں لوگ عمومی طور پر گھروں میں بند رہتے ہیں اور درجہ حرارت مناسب ہونے پر گھروں سے نکلتے ہیں اس لیے خوشی کے اظہار کے لیے وہ نئے کپڑے پہنتے ہیں۔اس موقع پر رنگ برنگی پتنگیں اڑائی جاتی ہیں جس سے آسمان پر رنگ بکھرتے ہیں سب ان بکھرتے رنگوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ بسنتی تہوار ماگھ کی پانچ تاریخ یعنی فروری کےمہینےمیں آتا ہےجس میں پتنگیں اڑا کرخوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔اس موقع پر من پسند کھانے پکتے ہیں۔موسیقی سے بھی لطف اندوز ہواجاتا ہے۔25 سال قبل پتنگ بازی کےحوالے سے پیش آنے والےخونی حادثات و واقعات کے بعد گورنمنٹ آف پنجاب نے اس پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔پابندی کے باعث بہار کے موسم میں موسم کی سب رونقیں ماند رہیں جبکہ اس صنعت سے وابستہ سینکڑوں افراد نےبھی بے روزگاری کی زندگی گزاری۔اس کے شوقین بھی غمزدہ اور افسردہ دکھائی دیئے۔تاہم اس باربہار آنےسے پہلے حکومت پنجاب نے پتنگ بازی پرلگائی جانےوالی پابندی ختم کرنےکا اعلان کیا تو ہرطرف خوشی کی لہردوڑ گئی۔حکومت نےایس اوپیز کےساتھ فروری کی چھ،سات اور آٹھ تاریخ کو بسنت منانےکی اجازت دی تو شوقین افراد نے تیاریاں شروع کردیں۔اس صنعت سے وابستہ افراد میں بھی مسرت اور اطمینان پایا گیا۔بسنت کا سنسکرت میں لفظی مطلب بہار کا ہے۔اسے بسنت پنچمی بھی کہا جاتا ہے کہ ہر ماگھ کی پانچ تاریخ کو انعقاد پذیر ہوتی ہے۔یہ دن عموماً فروری کے مہینے میں آتا ہے۔ لوگ موسم کی تبدیلی پر اپنے والہانہ شوق کا اظہار اکثر پتنگ بازی سےکرتے ہیں۔سپاٹ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سج جاتا ہے اور فطرت انگڑائیاں لینے لگتی ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔بہار کے اس موسم میں پرندوں کی چہچہاہٹ بھی خوشیوں کا پیغام لاتی ہے۔یہ سندیسہ دیتی ہے کہ بسنت دراصل جشن بہاراں ہے۔لوگ فطرت کے ان رنگوں میں شریک ہوتےہیں تو عجیب سماں دیکھنے میں آتا ہے۔ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں۔پنجاب کے کیپیٹل لاہور میں بسنت کی تاریخ کم ازکم سات سو سے آٹھ سو سال پرانی ہے۔لاہور ہمیشہ ہی سے بسنت کے اس موسمی تہوار کاسب سےبڑا مرکز رہا ہے۔13ویں ، 14ویں صدی میں بھی سلطنت دہلی کے وقت لاہور اہم ثقافتی شہر تھا۔اسی دورمیں بسنت نےیہاں باقاعدہ ایک تہوارکی شکل اختیار کی۔روایت ہے حضرت نظام الدین اولیاکےمرید امیرخسرو نےلاہوراور دہلی میں بسنت کو مقبول بنانے میں کردار ادا کیا۔پیلا لباس،گیت اور بہار کے استقبال کی روایت اسی دور سے جڑی ہوئی ہے۔مغلیہ دور سلطنت میں لاہور مغلوں کادارالحکومت رہا۔ جہانگیر،شاہجہاں اور اکبر کے زمانے میں بسنت شاہی سرپرستی میں منائی جاتی تھی۔شاہی قلعہ،شالا مار باغ اور فصیلِ شہر کےگردبسنت کےمیلے لگتے تھے۔مرخین کے مطابق لاہور میں بسنت کےموقع پرپتنگ بازی، موسیقی،مشاعرے اور مختلف نوعیت کے عوامی جشن ہوتے۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بھی لاہور میں بسنت منائی جاتی رہی جس کی سرپرستی مہاراجہ رنجیت سنگھ خود کرتے تھے۔ ہندوستان میں برطانوی دور آیا تو تب بھی بسنت ایک عوامی ثقافتی تہوار کا درجہ حاصل کیےہوئے تھی۔اسے ہمیشہ اس شہر میں موسمی اور ثقافتی جشن کے طور پر منایا گیاجس میں ہرمکتبہ فکر اور طبقے کی شمولیت دیکھی گئی۔بسنت منانے والوں کو اکثر یہ کہتے سنا ہےکہ موسم سرما جب رخصت ہوتا ہےبہار کی آمد آمد ہوتی ہے تو بسنت کا تہوار منایا جاتا ہےجبکہ شرعی حقائق اس کے برعکس ہیں۔سبھی مفتیان کرام کا یہ کہنا ہے جو بھی افرادبسنت مناتےہیں،درحقیقت وہ ہندوئوں کےتہوار کی پیروی کررہے ہوتے ہیں۔مسلمانوں کے لیے اس تہوارکو منانا،بسنتی کپڑے پہننا،بسنتی پکوان بنانااورپتنگ اڑانا وغیرہ سب خلاف شریعت اورناجائز ہے۔مسلمانوں کوسوچنا چاہیے کہ بسنت کا تہوار ہندووانہ تہوار تو ہے ہی،یہ بہت سے جانی اورمالی نقصانات کابھی سبب بنتاہے۔یہ فضول خرچی میں بھی آتا ہے۔ دوسروں کو تکلیف اور اذیت بھی پہنچاتا ہے۔اس سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔اس لیئے بسنت کےاس تہوار کی حمایت اورترویج نہیں کی جانی چاہیے۔غیروں کی تقلید میں اس تہوارکا منائےجانا کوئی اچھی روایت نہیں بلکہ سراسر غیر اسلامی ہے۔ایک اسلامی معاشرے میں اس کی ممانعت ہونی چاہیے۔لاہور میں ہرطرف جشن کا سماں دیکھنےمیں آرہا ہے۔ خصوصااندرون شہر کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔دہلی گیٹ،موچی،لوہاری،شیرانوالہ،بھاٹی اورٹیکسالی دروازوں کےاندرپتنگ بازی کے لیے تین،پانچ اورایک کنال کےگھروں پر محیط چھتیں بھی کرایہ پر دی گئیں ہیں۔مالکان نے شوقین افراد سے منہ مانگے دام وصول کیے۔کئی ہوٹلز اور پلازوں کی چھتیں بھی اس ایونٹ کے لیے کرایہ پر دی گئیں۔جن کا کرایہ لاکھوں میں ہے۔شواہد تو نہیں لیکن رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ایک بڑے ہوٹل کی چھت بسنت ایونٹ کے لیے ایک کروڑ کرایہ پر دی گئی ہے۔لذیذ لذیذ کھانے پکنےہیں اور خوب ہلا گلا ہو گا۔شہر میں پولیس بھی ہائی الرٹ ہے۔حکومتی اقدامات کے باعث کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں