کیا واقعی یہ وہی مغرب ہے جسے ہم ترقی، تہذیب اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتے آئے ہیں؟ کیا یہ وہی مہذب دنیا ہے جو ہمیں ہر وقت عورتوں کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا درس دیتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر جیفری ایپسٹین کی خفیہ فائلوں نے مغرب کے اس چمکتے ہوئے چہرے پر پڑا ہوا نقاب کیوں نوچ کر رکھ دیا ہے؟ ایپسٹین فائلز صرف چند عدالتی دستاویزات نہیں، بلکہ یہ مغربی تہذیب کے اس اخلاقی زوال کی داستان ہیں جسے برسوں سے خوبصورت نعروں کے پردے میں چھپایا گیا تھا۔ یہ فائلیں اس حقیقت کا آئینہ ہیں کہ طاقت، دولت اور ہوس کا گٹھ جوڑ کس طرح انسانیت کو روندتا رہا، اور دنیا کے نام نہاد مہذب طبقے نے کس طرح اپنی گندگی کو قانون، میڈیا اور سیاست کے ذریعے چھپائے رکھا۔جیفری ایپسٹین کوئی عام مجرم نہیں تھا وہ ایک ایسا کردار تھا جو عالمی اشرافیہ کے دروازوں تک رسائی رکھتا تھا۔ اس کا جزیرہ لٹل سینٹ جیمز محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں دنیا کے طاقتور ترین افراد کی اخلاقی کمزوریاں بے نقاب ہوتی تھیں۔ ان فائلوں میں سامنے آنے والے نام عام نہیں ہیں۔ سابق امریکی صدور، برطانوی شاہی خاندان کے افراد، عالمی شہرت یافتہ اداکار، سرمایہ دار اور سائنسدان سب اس فہرست میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کن کن کے نام آئے، مگر اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ سب برسوں تک کیسے چلتا رہا؟ کیا مغربی میڈیا کو خبر نہیں تھی؟ کیا ان کے ادارے بے خبر تھے؟ یا پھر طاقت ور طبقے کے سامنے قانون بھی بے بس تھا؟مغرب کی منافقت کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں اخلاقیات کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فورمز پر کھڑے ہو کر تیسری دنیا کے ممالک کو نصیحتیں دی جاتی ہیں کہ کم عمری کی شادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، خاندانی نظام پسماندگی کی علامت ہے، اور مذہبی اقدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ہمارے معاشروں میں اگر شریعت کے مطابق نکاح ہو جائے تو مغربی این جی اوز شور مچا دیتی ہیں، رپورٹس شائع ہوتی ہیں، پابندیوں کی باتیں ہوتی ہیں اور ہمیں مہذب دنیا کے معیار پر پورے نہ اترنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب مغرب کے طاقت ور افراد نابالغ لڑکیوں کے ساتھ انسانیت سوز جرائم میں ملوث نکلے تو ان کے اپنے دانشور، میڈیا اور لبرل حلقے کیوں خاموش ہیں؟یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ پاکستان میں جب مولانا فضل الرحمن کم عمری کی شادی کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر پیش کرتے ہیں تو لبرل طبقہ آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ انہیں رجعت پسند، قدامت پسند اور انسانی حقوق کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سوچ معاشرے کو پیچھے لے جا رہی ہے۔ مگر جب مغرب کے ایپسٹین جیسے اسکینڈلز سامنے آتے ہیں، جہاں کم سن بچیوں کا منظم استحصال ہوا تو یہی لبرل طبقہ کیوں خاموش ہو جاتا ہے؟کیا انسانی حقوق صرف مذہبی معاشروں کے لیے ہیں؟ کیا اخلاقیات کا پیمانہ صرف کمزور قوموں پر لاگو ہوتا ہے؟ اگر مولانا فضل الرحمن نکاح کی بات کریں تو وہ جرم بن جاتا ہے، مگر مغرب کی اشرافیہ اگر جزیرے پر جا کر نابالغ لڑکیوں کا استحصال کرے تو وہ اسکینڈل کہلا کر چند دن میں میڈیا کی سرخیوں سے غائب ہو جاتا ہے؟یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ایپسٹین کا معاملہ محض اخلاقی بے راہ روی نہیں، بلکہ کئی مبصرین کے نزدیک یہ عالمی بلیک میلنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک تھا۔ طاقتور افراد کو ایک ایسے ماحول میں لے جایا جاتا تھا جہاں ان کی حرکات خفیہ کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی جاتی تھیں۔ بعد میں یہی ریکارڈنگز انہیں کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جاتیں۔ اگر یہ مفروضہ درست ہے تو پھر دنیا کی سیاست، جنگوں اور عالمی فیصلوں پر اس نیٹ ورک کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔یہاں سوال یہ نہیں کہ کون مجرم تھا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی قیادت واقعی آزاد ہے یا اپنی کمزوریوں کی غلام؟مغربی تہذیب کے دعوے دار ہمیں بتاتے ہیں کہ ترقی کا راستہ مذہب سے دوری اور روایت سے بغاوت میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شرم و حیاء ، خاندانی نظام اور مذہبی اقدار انسان کو محدود کرتی ہیں۔ مگر ایپسٹین کی کہانی نے ثابت کر دیا کہ جب انسان خدا کے خوف اور اخلاقی ذمہ داری سے آزاد ہو جائے تو وہ علم، دولت اور طاقت کے باوجود اندر سے ایک درندہ بن جاتا ہے۔پاکستانی معاشرے کے لئے یہ واقعہ ایک بڑے سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں احساس کمتری سے نکلنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری دینی اقدار، ہمارا خاندانی نظام اور ہماری اخلاقی روایات کوئی کمزوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہیں۔
مغرب کی چمک دمک کے پیچھے چھپی ہوئی اخلاقی گندگی کو دیکھ کر ہمیں اپنے نظام پر فخر کرنا چاہیے، نہ کہ شرمندگی محسوس کرنی چاہیے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں مسائل موجود ہیں، مگر کم از کم ہمارے ہاں اخلاقی گرائوٹ کو تہذیب کا نام نہیں دیا جاتا۔ ہمارے ہاں جرم کو قانون کے پردے میں جائز قرار نہیں دیا جاتا۔آج سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے لبرل دانشور مغرب کی اس روشن خیالی پر اب بھی فخر کریں گے؟ کیا وہ اب بھی مغربی تہذیب کو ہمارے لیے مشعل راہ سمجھیں گے؟ کیا وہ اب بھی مولانا فضل الرحمن جیسے رہنمائوں پر تنقید کریں گے اور ایپسٹین جیسے اسکینڈلز پر خاموش رہیں گے؟اگر ایسا ہے تو پھر یہ خاموشی نہیں، بلکہ فکری دیوالیہ پن ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب قوموں کے خواص اخلاقی پستی کا شکار ہو جائیں تو ان کی سلطنتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔ جب طاقتور طبقہ قانون سے بالاتر ہو جائے، جب اخلاقیات صرف کمزوروں کے لئے رہ جائیں اور جب جرم کو آزادی کا نام دیا جائے تو پھر زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ایپسٹین کا جزیرہ صرف ایک جزیرہ نہیں تھا، بلکہ وہ مغربی تہذیب کے ضمیر پر لگا ہوا ایک بدنما داغ تھا۔ یہ ایک ایسا تماشائے عبرت ہے جس سے سبق لینے والے بہت کم ہیں۔سوال یہ ہے کہ ہم کس راستے کا انتخاب کریں گے؟ مغرب کی اس تہذیب کا، جہاں اخلاقیات محض ایک نعرہ ہیں؟ یا اپنے اس نظام کا، جہاں کم از کم گناہ کو گناہ اور جرم کو جرم کہا جاتا ہے؟فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔