(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت عمر ؓمدینہ منورہ سے آ رہے تھے، اونٹ تھوڑے تھے اور مسافر زیادہ تھے، اس لیے حضرت عمر ؓاپنے غلام کے ساتھ باری باری سواری پر سوار ہوتے تھے۔ جب بیت المقدس شہر میں داخل ہونے کا وقت تھا تو سواری کی باری غلام کی تھی، اس نے عرض کیا کہ حضرت! اب ہم شہر میں داخل ہو رہے ہیں، پروٹوکول کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ سوار رہیں۔ لیکن حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نہیں! یہ تیرا حق ہے تو سوار ہوگا اور لگام میرے ہاتھ میں ہوگی۔ جب اس کیفیت میں حضرت عمرؓ فلسطین میں داخل ہوئے تو عیسائی علماء نے ہتھیار ڈال دیے کہ یہی وہ بندہ ہے جسے ہم نے چارج دینا ہے۔ اس کی ایک علامت یہ بھی ہےکہ جب وہ داخل ہوگا تو اونٹ پر غلام سوار ہوگا اور امیر کے ہاتھ میں لگام ہوگی۔ عیسائیوں نے بیت المقدس کا چارج حضرت عمر ؓکے حوالے کر دیا۔
میں نے سیرت طیبہ اور حضرت عمرؓ کے حوالے سے دو واقعات عرض کیے ہیں۔ درمیان کے سارے مراحل چھوڑتے ہوئے چودہ سو سال پھلانگ کر موجودہ صورتحال پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔
اسرائیل ۱۹۴۸ء میں بنا تھا ، غلط اور ناجائز ، لیکن برطانیہ نے بنایا تھا اور اقوام متحدہ نے منظوری دی تھی۔ اس وقت ہمارے قومی لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ یہ ناجائز ریاست ہے ہم اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ ہمارا قومی موقف تب سے یہی ہے۔ دیکھیں، کسی علاقے میں لوگ آ کر آباد ہونا چاہیں، اگر انہیں علاقے کے لوگ قبول کریں تو ٹھیک ہے۔ لیکن علاقے کے لوگوں کو وہاں سے نکال کر کسی اور کو لا کر وہاں آباد کرنا، یہ دنیا کے کس قانون کی رو سے انصاف ہے؟ آج کی دنیا سے پہلا سوال یہ ہے کہ جب یہودیوں کو برطانیہ ساری دنیا سے اکٹھا کر کے فلسطین میں لایا تھا تو کیا وہاں کے لوگوں سے پوچھا تھا؟ وہاں کے لوگ تو رضامند نہیں تھے، ان کو نکالا گیا تھا، بھگایا گیا تھا، اور زبردستی بستیاں خالی کروا کے یہودیوں کو قبضہ دلوایا گیا تھا۔
جبکہ بیت المقدس تو اقوام متحدہ کی تقسیم میں بھی اسرائیل کا حصہ نہیں ہے کہ یروشلم کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی تھی۔ اسرائیل نے جس طرح ۱۹۶۷ء میں بیت المقدس پر ناجائز قبضہ کیا تھا اسی طرح آج غزہ پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتا ہے،جو کہ اقوام متحدہ کے نقشے کے مطابق فلسطین کا حصہ ہے۔ اتنی دھاندلی، اتنا ظلم۔ اور منافقت کی انتہا ہے کہ امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے چند روز قبل خود کہا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کا قبضہ غلطی ہو گی، اور اب اسرائیل کو سپورٹ کرنے کے لیے جوبائیڈن سب سے آگے ہے۔ مغربی ممالک بدمعاشی اور دھکے کے ساتھ غزہ پر اسرائیل کا قبضہ کروانا چاہتے ہیں، زبان سے کہتے ہیں کہ غلط قبضہ ہو گا لیکن عملاً قبضہ کروا رہے ہیں، ورنہ اکیلے اسرائیل کو یہ کہاں حوصلہ ہو سکتا ہے؟
اس صورتحال میں فلسطینی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ خواہ مخواہ شکوک و شبہات پیدا کرنا کوئی انصاف کی بات نہیں ہے۔ جس علاقے پر کوئی قبضہ کرنا چاہے یا قبضہ کر لے اور اس کے خلاف علاقے کے لوگ مزاحمت کریں تو یہ آزادی کی جنگ ہوتی ہے اور فلسطینی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہ اپنے ملک پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تسلیم نہیں کر رہے اور مزاحمت کر رہے ہیں۔ لیکن مسلمان حکمران کہاں ہیں؟ اسرائیل کی مدد کرنے والے تو اسرائیل میں پہنچے ہوئے ہیں مگر فلسطین کی حمایت کرنے والے کہاں ہیں؟ ان سے اتنا بھی نہیں ہوا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا سربراہی اجلاس بلا کر زبان سے ہی کوئی بات کہہ دیں۔ اپنے گھر میں بیٹھے جو مرضی کہتے رہو۔ کیا وہاں ان کی مدد کے لیے کوئی جانے کو تیار ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ ہم بے غیرت ہو گئے ہیں، ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ معاملہ دین ، جہاد اور حمیت کا ہوتا ہے لیکن ہم این او سی امریکہ سے لیتے ہیں۔ اس لیے میں عرض کروں گا کہ یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے، ملی حمیت اور غیرت کا مسئلہ ہے، ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، جس کے تین دائرے ہیں:
پہلا دائرہ یہ ہے اللہ کرے ہمارے حکمرانوں کی حمیت جاگے کہ جو لوگ فلسطینیوں کی مدد کے لیے وہاں جا سکتے ہیں انہیں وہاں پہنچائیں۔ اگر اپنے کندھے یہ بوجھ برداشت نہیں کرتے تو دنیا بھر سے جو مجاہدین وہاں جانا چاہتے ہیں ان کو تو جانے کے راستے دیں تاکہ وہ جا کر ان کے ساتھ لڑیں۔ فلسطینیوں کی اصل حمایت یہ ہے کہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر یہودیوں سے لڑا جائے۔ میں چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ مشرقی یورپ کے بوسنیا اور سربیا کے مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، وہاں ہم نے مسلمانوں کا قتل عام روکنے کے لیے جو مدد کی تھی، وہ اب کیوں نہیں کر سکتے؟ اس لیے مسلم حکمرانوں سے گزارش ہے کہ مہربانی کریں کہ کم از کم اتنا ہی کر دیں جتنا بوسنیا اور سربیا میں کیا تھا۔
دوسرا دائرہ ہے کہ اگر اس کا حوصلہ نہیں ہے تو فلسطین کی سفارتی جنگ میں کردار ادا کریں۔ فوری طور پر یہ تقاضہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی میٹنگ بلائی جائے اور بیٹھ کر اس مسئلے پر غور کریں۔ ہمارے دو بڑے فورم ہیں، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم، یہ دونوں اکٹھے ہوں، نہتے فلسطینیوں کا حال پوچھیں اور عالمی فورم پر فلسطین کی سفارتی جنگ لڑیں۔ دیکھیں، کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کا ہے لیکن عالمی سطح پر اس کی جنگ پاکستان لڑ رہا ہے۔ فلسطینیوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کا وکیل کوئی نہیں ہے۔ ہم کشمیریوں کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرتے ہیں، مگر فلسطین میں تو اتنا بھی نہیں ہو رہا کہ عالمی سطح پر ان کا کوئی نمائندہ نہیں ہے۔ یہ جنگ سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور مصر کو لڑنی چاہیے کہ یہ چاروں اس پوزیشن میں ہیں۔
تیسرا محاذ عوامی ہے اور ہم تیسرے محاذ کے لوگ ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ’’فان لم یستطع فبلسانہ‘‘ جو ہاتھ سےمنکر کو نہیں مٹا سکتا وہ زبان کے ذریعے اپنا فرض ادا کریں۔ ہم جذبات کا اظہار تو کریں، اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت تو کریں، ان کو حوصلہ تو دلائیں۔
اس لیے میں دو گزارشات کروں گا۔ ایک گزارش علماء کرام سے ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کریں، بیداری پیدا کریں اور لوگوں کو اس کام کے لیے تیار کریں۔ دوسری گزارش آپ سے ہے کہ فلسطین کی حمایت کے حوالے سے مذہبی ، سیاسی یا سماجی جو پارٹی بھی جو کام بھی کر رہی ہے اس کے ساتھ شریک ہوں۔ اور باہمی اختلافات چھوڑ دیں کیونکہ جب مکان کو آگ لگی ہوئی ہو تو پانی ڈالنے والوں سے یہ نہیں پوچھا کرتے کہ تم کون ہو؟ اس لیے اس وقت کوئی تفریق پیدا نہ کریں، جو بھی فلسطین کی حمایت کرتا ہے اس کا ساتھ دیں، اس وقت ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ فلسطینیوں کو حوصلہ دلانے کے لیےاور ان کو کھڑا رکھنے کے لیے ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کرگزریں۔ اللہ رب العزت مجھے اور آپ سب کو توفیق عطا فرمائیں، اللہ رب العزت فلسطینیوں کی غیبی نصرت و مدد فرمائیں اور ان کو اس جہاد میں کامیابی سے ہمکنار فرمائیں۔ آمین یا ارحم الراحمین۔