Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ترلائی بم دھماکے پر!

ملک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مسجد جدیجہ الکبریٰ میں نمازیوں کے لہو کی ہولی کھیلی جارہی تھی اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت میں گھروں کی چھتوں ہر ’’بوکاٹا‘‘کا شوربرپا تھا ۔یہ ملک کسی جغرافیے کا نام نہیں رہا، یہ اب ایک شور ہے مسلسل، بے سمت اور اذیت ناک شور۔ ایک ایسا شور جس میں نہ اذان کی روح باقی ہے، نہ آئین کی وقعت، نہ سیاست میں شرافت کی کوئی رمق۔ یہ شور پیدا کرتے ہیں دوقبیلے مذہبی ٹھیکیدار(دہشت گرد)اور سیاسی طبلچی۔ دونوں الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔مذہبی ٹھیکیدار وہ ہیں (یاد رہے کہ مذہب اور دین میں زمیں آسمان کا فرق ہے ،ہم دین کے پیروکار ہیں، مذاہب کے الگ الگ خدا ہیں اور دین کا ایک اللہ وحدہ لا شریک اللہ )جن کے ہاتھ میں خدا کی رسید بک ہوتی ہے۔ یہ جنت کے پلاٹ الاٹ کرتے ہیں، دوزخ کے پرمٹ جاری کرتے ہیں اور ایمان کو نعرے میں بدل کر بازار میں اچھالتے ہیں۔ انہیں نہ خدا کی خشیت سے غرض ہے، نہ انسان کے دکھ سے۔ ان کا خدا ایک سیاسی ضرورت ہے، ایک ہتھیار، ایک لاٹھی جس سے وہ سوچنے والے سروں کو توڑتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہر ظلم کے بعد فتوی جاری کرتے ہیں اور ہر خونریزی پر مصلحت کا پردہ ڈال دیتے ہیں۔ ان کی درس گاہوں میں سوال جرم ہے۔
اختلاف ارتداد، اور شعور بغاوت۔ یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں،حکمران ظالم ہو تو صبر کرو، کیونکہ صبر میں اجر ہے مگر جب اقتدار کا دسترخوان لگے تو سب سے پہلے یہی لوگ پلیٹ اٹھا کر قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔دوسری طرف سیاسی طبلچی ہیں ضمیر سے عاری، دلیل سے خالی، اور زبان سے مسلح۔ یہ وہ مخلوق ہے جو ہر دور میں زندہ رہتی ہے، بس نعرہ بدل لیتی ہے۔ کل جو آمریت کے قصیدے پڑھ رہے تھے، آج جمہوریت کے چیمپئن بنے بیٹھے ہیں۔ ان کا کوئی نظریہ نہیں، صرف وفاداری کی قیمت ہوتی ہے۔یہ طبلچی سچ کو یرغمال بناتے ہیں۔ ان کی تحریر، ان کی گفتگو، ان کا بیانیہ سب کرائے کا ہوتا ہے۔ جو زیادہ دے، وہی محبِ وطن ،جو سوال کرے، وہی غدار۔ ان کے نزدیک مہنگائی عارضی قربانی ہے، بے روزگاری ملکی مفاد، اور بدعنوانی سیاسی مجبوری۔
اصل المیہ یہ ہے کہ مذہبی ٹھیکیدار اور سیاسی طبلچی ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ سیاست کو مذہب کی بیساکھی چاہیے اور مذہب کو اقتدار کی چھتری۔ منبر سے عوام کو سلایا جاتا ہے، اسٹیج سے بہکایا جاتا ہے۔ ایک خدا کے نام پر خوف بیچتا ہے، دوسرا وطن کے نام پر جھوٹ۔جب سوال اٹھتا ہے تو مذہبی ٹھیکیدار فتویٰ لے آتے ہیں، اور سیاسی طبلچی غداری کا سرٹیفکیٹ۔ اس ملک میں سب کچھ جرم ہے سوائے منافقت کے۔سچ بولنا خطرہ ہے،سوال کرنا بغاوت،اور سوچنا سب سے بڑا گناہ۔ ہم نے دین کو مائیک کے سپرد کر دیا اور سیاست کو شطرنج کی بساط کے حوالے، ہم نے مسجد کو نعروں میں دفن کیا،اور پارلیمان کو سودے بازی میں۔ یہ وہ پاکستان ہے جہاں بھوکا مزدور غیر مرئی ہے، مگر مذہبی جلوس کی کوریج براہِ راست۔جہاں بچی ریپ ہو جائے تو مغربی ایجنڈا ڈھونڈا جاتا ہے،اور اربوں کی لوٹ مار پر خاموشی افضل قرار پاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ مذہبی ٹھیکیدار اور طبلچی کیوں ہیں؟اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیوں سہہ رہے ہیں؟ہم کب تک اس شور میں سچ کے لاشے اٹھاتے رہیں گے؟
کب تک یہ ملک ضمیر فروشوں کی تجربہ گاہ بنا رہے گا؟کب تک خدا کو سیاست اور سیاست کو کاروبار بنایا جاتا رہے گا؟یاد رکھئے!قومیں بیرونی دشمن سے نہیں مرتیں،وہ اندرونی جعل سازوں سے مرتی ہیں۔وہ ان لوگوں سے مرتی ہیں جو مذہب کو ڈھال اور سیاست کو دکان بنا لیتے ہیں۔جب تک مذہب اور سیاست ٹکراتے رہیں گے ،مساجد اور امام بارگاہوں میں بم پھٹتے رہیں گے انسان مرتے رہیں گے ،لاشے اٹھتے رہیں گے۔یہ اظہاریہ ایک نوحہ ہے ۔ان کے خلاف جو منبر پر کھڑے ہو کر اقتدار کی تسبیح پڑھتے ہیں اور ان کے خلاف بھی جو اسٹیج پر کھڑے ہو کر جھوٹ کا ڈھول پیٹتے ہیں۔اگر یہ نوحہ آپ کو ناگوار لگے،تو سمجھ لیجئے تیر نشانے پر لگا ہے۔ترلائی کلاں کسی اور کا نہیں ہمارا ہی ہے، اس کے وہ لوگ بھی ہمارے ہی تھی جو دہشت گردوں کے ستم کا لقمہ بنے ،یونہی ظلم کی دوپہریں ڈھلتی رہیں ، بے گناہ انسانوں کے جنازے اٹھتے رہے تو ہمارا کیا بنے گا ؟ ہمارے ملک پاکستان کا کیا بنے گا ؟

یہ بھی پڑھیں