خبر یہ ہے کہ بسنت کے موقع پر پتنگ بازی یعنی گڈی اور ڈور خرید و فروخت پر لاہوریوں نے صرف چار دنوں میں ایک ارب 22 کروڑ خرچ کر ڈالے ، بادشاہ نے کہا، شہر کو آگ لگا کر تماشے کا شوق پورا کرو، تو سبھی شاہ پرستوں نے سر جھکا کر کہا کہ حضور کا شوق سلامت رہے۔یہ جملہ محض ایک استعارہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی نفسیات کی عکاسی ہے۔ جب کوئی رسم، روایت یا تہوار معاشرے میں رچ بس جائے تو لوگ اس کے نقصانات، اخلاقی پہلو اور دینی حدود کو نظرانداز کر کے محض تفریح اور روایت کے نام پر اسے جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ بسنت بھی ہمارے معاشرے میں ایسا ہی ایک تہوار ہے، جسے خوشی، رنگ اور ثقافت کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کے پس پردہ تلخ حقائق اور سنگین نتائج اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔بسنت کو عموماً بہار کی آمد کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں، چھتوں پر لوگوں کا ہجوم، موسیقی، شور و غل اور مقابلییہ سب ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کہ اس دلکشی کی قیمت کیا ہے؟ کیا یہ محض ایک بے ضرر تفریح ہے یا اس کے پیچھے ایسے نقصانات چھپے ہیں جو ہمارے معاشرے، معیشت اور اخلاقی اقدار کو کھوکھلا کر رہے ہیں؟سب سے پہلے بات کرتے ہیں پتنگ بازی کے مالی اور وقتی ضیاع کی۔ بسنت کے موقع پر لاکھوں روپے صرف پتنگوں، ڈور، کیمیکل، کھانے پینے اور دیگر لوازمات پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ نوجوانوں کا قیمتی وقت، جو تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں میں صرف ہونا چاہیے، چھتوں پر گھنٹوں پتنگ اڑانے میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو پہلے ہی تعلیمی اور معاشی بحران کا شکار ہو، کیا وہ اس عیاشی کا متحمل ہو سکتا ہے؟پھر بات آتی ہے انسانی جانوں کی۔
کیمیکل ڈور اور دھاتی تاروں سے ہونے والے حادثات اب کوئی نئی بات نہیں رہے۔ ہر سال بسنت کے دوران متعدد افراد زخمی ہوتے ہیں، کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹ جاتے ہیں، بچے چھتوں سے گر جاتے ہیں، بجلی کی تاروں سے حادثات پیش آتے ہیں اور بعض اوقات آتش زدگی کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی تہوار کی خوشی انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے؟ کیا چند لمحوں کی تفریح کے لئے ہم اپنے بچوں، بھائیوں اور شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟سماجی پہلو سے دیکھا جائے تو بسنت کا تہوار اکثر بے ہنگم رویوں کو جنم دیتا ہے۔ اخلاقی حدود پامال ہوتی ہیں، شور شرابہ بڑھتا ہے، فضول خرچی عام ہوتی ہے اور نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے۔ معاشرے میں پہلے ہی اخلاقی انحطاط کا مسئلہ موجود ہے، ایسے میں ایسے تہوار اس مسئلے کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہیں جن پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن بسنت کے حوالے سے سب سے اہم اور بنیادی سوال دینی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابط حیات ہے، جو انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام میں تہواروں کا تصور بھی واضح ہے۔ شریعت کے مطابق مسلمانوں کے لئے صرف دو تہوار مقرر کئے گئے ہیں، عید الفطر اور عید الاضحی۔ ان کے علاوہ کسی خاص دن کو مذہبی یا تہذیبی تہوار کے طور پر منانا اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں بھی مختلف تہوار منائے جاتے تھے، جن میں نیروز اور مہرجان شامل تھے۔ جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگوں کو ان تہواروں میں کھیل کود اور تفریح کرتے دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، یعنی عید الفطر اور عید الاضحی۔ اس ارشادِ نبوی سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں غیر اسلامی تہواروں کو اپنانے کی گنجائش نہیں۔
بسنت کا تعلق تاریخی طور پر غیر مسلم تہذیب سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ ہندوانہ رسم کے طور پر معروف رہی ہے، جو مخصوص عقائد اور ثقافتی پس منظر سے جڑی ہوئی ہے۔ جب کوئی قوم دوسری قوم کے مذہبی یا تہذیبی رسوم کو اختیار کرتی ہے تو یہ صرف ایک ثقافتی عمل نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ فکری اور اعتقادی اثرات بھی مرتب کرتا ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں غیر مسلم اقوام کی مخصوص مذہبی اور تہذیبی رسوم سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہے۔یہ کہنا کہ بسنت محض ایک ثقافتی تہوار ہے اور اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، حقیقت سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ ہر رسم کا ایک تاریخی اور تہذیبی پس منظر ہوتا ہے، اور جب کوئی قوم کسی دوسری قوم کی رسوم کو بغیر سوچے سمجھے اپناتی ہے تو اس کے اثرات صرف ظاہری نہیں رہتے بلکہ فکری اور اعتقادی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ بسنت تو محض خوشی کا موقع ہے، اس میں کیا برائی ہے؟ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر خوشی جائز ہوتی ہے؟ اسلام خوشی سے منع نہیں کرتا بلکہ جائز اور پاکیزہ خوشیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ لیکن وہ خوشی جو انسانی جانوں کے ضیاع، اخلاقی بگاڑ، فضول خرچی اور غیر اسلامی رسوم کے فروغ کا سبب بنے، اسے کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہم اپنی خوشیوں کو اسلامی حدود کے اندر رہ کر منائیں تو کیا ہماری زندگی سے رنگ ختم ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اسلام نے ہمیں عیدین کی صورت میں بہترین مواقع فراہم کیے ہیں، جہاں ہم عبادت کے ساتھ خوشی بھی منا سکتے ہیں، ایک دوسرے سے محبت بھی کر سکتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں۔بسنت کے حامی اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر ثقافتی روایت قابلِ قبول ہوتی ہے؟ اگر کوئی روایت انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے، اخلاقی اقدار کو پامال کرے اور دینی اصولوں سے متصادم ہو، تو کیا اسے صرف اس لیے جاری رکھا جائے کہ وہ ثقافت کا حصہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر معاشرہ وقت کے ساتھ اپنی روایات کا جائزہ لیتا ہے اور نقصان دہ روایات کو ترک کر دیتا ہے۔ ہمیں بھی یہی رویہ اپنانا ہوگا۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بسنت کے نام پر جو کاروبار پروان چڑھتا ہے، وہ اکثر غیر قانونی اور خطرناک طریقوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ کیمیکل ڈور کی تیاری، غیر محفوظ مواد کا استعمال اور ناجائز منافع خوری، یہ سب ہمارے معاشرے کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو محفوظ اور مہذب بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسی سرگرمیوں کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑا ہونا ہوگا۔دین اسلام ہمیں اعتدال، ذمہ داری اور شعور کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ چیز جو ہمیں خوشی دے، ضروری نہیں کہ ہمارے لیے مفید بھی ہو۔ حقیقی ترقی اور خوشی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم اپنی زندگی کو اخلاقی اور دینی اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بسنت جیسے تہواروں پر جذباتی بحث کے بجائے سنجیدہ مکالمہ کریں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اصل خوشی علم، اخلاق اور خدمتِ انسانیت میں ہے، نہ کہ خطرناک کھیلوں اور فضول سرگرمیوں میں۔ ہمیں اپنے معاشرے کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ انسانی جان، اخلاقی اقدار اور دینی شناخت کسی بھی ثقافتی تہوار سے زیادہ قیمتی ہیں۔اگر ہم نے آج بھی بسنت جیسے تہواروں کے نقصانات کو نظرانداز کیا تو کل ہمیں اس کی قیمت مزید بھاری ادا کرنا پڑے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم روایت اور حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھیں، اور اپنی اجتماعی زندگی کو ایسے راستے پر گامزن کریں جو ہمیں دنیا میں بھی عزت دے اور آخرت میں بھی کامیابی۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خوشی منانا انسانی فطرت ہے، مگر خوشی کا معیار اور طریقہ درست ہونا چاہیے۔ بسنت جیسے تہوار، جو انسانی جانوں، اخلاقی اقدار اور دینی اصولوں کے لیے خطرہ بن جائیں، ان سے اجتناب ہی دانشمندی ہے۔ یہی ہمارے معاشرے، ہماری نسلوں اور ہماری دینی شناخت کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔