یہ تاریخ کااٹل فیصلہ ہے کہ کچھ رشتے زمانے کے کٹہرے میں تولے نہیں جاتے،وہ زمانے کوتولتے ہیں۔کچھ تعلقات سفارت خانوں کی فائلوں میں نہیں پلتے،وہ دلوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتے ہیں۔تاریخِ اقوام میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جومحض معاہدوں،مفادات یا سفارتی بیانات کے مرہونِ منت نہیں ہوتے،بلکہ وہ ایمان، تہذیب، قربانی اور مشترکہ مقدس اقدارکے تاروں سے بنے جاتے ہیں۔پاکستان اورسعودی عرب کا تعلق بھی انہی نادررشتوں میں شمارہوتا ہے ایک ایسا تعلق جس کی بنیادکاغذپرلکھی سطروں سے نہیں بلکہ دلوں میں ثبت عقیدت سے رکھی گئی ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کاتعلق بھی اسی قبیل کا رشتہ ہے،ایسارشتہ جومعاہدوں سے پہلے وجود میں آیااورمعاہدوں کے بعدبھی ایمان کی طرح باقی رہے گا۔
حرمین شریفین کی حفاظت وہ مرکزہے جہاں پاکستان کے اجتماعی شعور،قومی غیرت اور ایمانی حمیت ایک نقطے پرآکرسمٹ جاتے ہیں۔جب مکہ ومدینہ کانام لیاجاتا ہے توپاکستان کے طول وعرض میں صرف لب جنبش نہیں کرتے،دل بھی لرز اٹھتے ہیں۔حرمین شریفین کی حفاظت کسی ریاستی پالیسی کا باب نہیں بلکہ ہرپاکستانی کے ایمان کاحصہ ہے۔ یہ محض ایک سفارتی موقف نہیں بلکہ ہرپاکستانی کے دل میں موجزن وہ عہدہے جس کے تحت حرمِ مکہ ومدینہ کی طرف اٹھنے والی ہرمیلی آنکھ کے مقابل اپنی جان قربان کرناایمان کا عین تقاضاسمجھا جاتاہے۔
حرمین شریفین کی حفاظت کسی ریاستی پالیسی کاباب نہیں بلکہ ہرپاکستانی کے ایمان کاحصہ ہے۔ یہ وہ مقدس امانت ہے جس کیلئے جان دیناقربانی نہیں،سعادت سمجھی جاتی ہے؛اورجس پر آنچ آ جائے توپاکستان کاہرفردسپاہی بن جاتاہے بغیر وردی،بغیرحکم،صرف ایمان کے بل پر۔ایسے میں جب پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی بات ہوتی ہے تووہ محض طیاروں، ہتھیاروں یامالی معاملات کی گفتگو نہیں رہتی،بلکہ ایک عہدکی تجدیدبن جاتی ہے وہ عہدجوخونِ شہدا، دعائوں ،اور قبل اول وثانی کی حرمت سے بندھا ہوا ہے۔
اسی تاریخی،ایمانی اورتہذیبی پس منظرمیں جب پاک سعودی دفاعی تعاون کی بات کی جاتی ہے تووہ محض اسلحہ،طیاروں یامعاہدوں کی گفتگو نہیں رہتی، بلکہ ایک مشترکہ اسلامی دفاعی شعور کی جھلک بن جاتی ہے۔جے ایف۔17تھنڈرجیسے دفاعی منصوبے اسی بڑے تناظرمیں اپنی معنویت پاتے ہیںیہ صرف ایک جنگی جہازنہیں بلکہ اعتماد، خودمختاری اوربرادرانہ انحصار کی علامت ہے۔ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں، جہاں طاقتیں مفادات کے ترازومیں دوستی تولتی ہیں اور وعدے ضرورت کے موسم تک محدود رہتے ہیں، پاکستان اورسعودی عرب کاتعلق ایک اخلاقی استثنا بن کرابھرتاہے۔
جے ایف۔17تھنڈرجیسے دفاعی منصوبے اسی عہدکی جدیدتعبیرہیںیہ فولادسے بنے پرندے نہیں بلکہ اعتماد،خودداری اورمشترکہ دفاعی شعور کے اڑتے ہوئے استعارے ہیں لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ نے ایک قدم اتحادکی طرف بڑھایا ،دشمن طاقتیں اضطراب میں مبتلا ہوگئیں۔آج بھی سوال یہی ہے:کیامسلم دنیا کے دل ایک ساتھ دھڑکنے دیے جائیں گے؟ کیا اس ابھرتے ہوئے اسلامی دفاعی اشتراک کووہ قوتیں پنپنے دیں گی جومسلم دنیاکے کسی بھی مشترکہ قدم کواپنے مفادات کیلئے خطرہ تصور کرتی ہیں؟ اورکیا وہ قوتیں،جومسلم اتحادکواپنے مفادات کیلئے خطرہ سمجھتی ہیں،اس ابھرتی ہوئی یکجہتی کوخاموشی سے قبول کرلیں گی؟ کیاپاکستان اورسعودی عرب کایہ دفاعی اشتراک صرف ایک معاہدہ رہے گا،یا امتِ مسلمہ کے اجتماعی تحفظ کی بنیاد بنے گا؟اسی سوال کے گردیہ تحقیقی مطالعہ گردش کرتاہے جہاں دفاعی حکمتِ عملی،عالمی سیاست، اورامتِ مسلمہ کے اجتماعی مستقبل کے خدوخال باہم گتھے ہوئے نظر آتے ہیں۔
سعودی جدید فضائی طاقت کے ہوتے ہوئے کیاجے ایف۔17کی ضرورت ہے؟یہ تزویراتی سوال بظاہرسادہ مگرباطن میں نہایت عمیق ہے کہ جدیدترین لڑاکا طیاروں کے انبار کے باوجودکیا سعودی عرب کوجے ایف۔17تھنڈر جیسے طیارے کی حاجت محسوس ہوسکتی ہے؟عسکری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محض طاقت کاانبارہی دفاع کی ضمانت نہیں ہوتا،بلکہ توازن،خودمختاری اور حکمتِ عملی وہ عناصرہیں جواقوام کی سلامتی کا اصل زادِراہ بنتے ہیں۔بین الاقوامی دفاعی مطالعات میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ کسی ریاست کی عسکری ضروریات کاتعین صرف اس کے موجودہ ہتھیاروں کی برتری سے نہیں بلکہ تزویراتی خود مختاری، لاگت ، رسد،اور سیاسی انحصارسے ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس اگرچہ دنیاکے جدیدترین لڑاکا طیارے موجودہیں ، تاہم جے ایف۔17 تھنڈر جیسے4.5 جنریشن طیارے کی ممکنہ شمولیت کومحض تکنیکی موازنہ کی سطح پردیکھنا تحقیقی سطحی پن ہوگا۔اصل سوال یہ ہے کہ آیاریاض اپنے فضائی دفاع کوتنوع اور سیاسی لچک دیناچاہتا ہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے جے ایف۔17 تھنڈ رمیں دلچسپی کے اظہارکے بعدذرائع ابلاغ میں یہ سرگوشیاں بھی گونجنے لگیں کہ حرمین شریفین کا امین،سعودی عرب بھی اس پاکستانی ساختہ طیارے کی طرف متوجہ ہے۔گویاعالمی مارکیٹ میں جے ایف 17لڑاکاطیارہ کی ساکھ کوتقویت ملی ہے۔اسی تناظرمیں سعودی عرب کی مبینہ دلچسپی کودفاعی سفارت کاری کے ایک نئے باب اورنئے زاویہ کے طور پردیکھاجارہاہے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق ریاض،اسلام آباد کو دیے گئے دوارب ڈالرکے قرض کودفاعی معاہدے ،خصوصاًجے ایف۔17تھنڈرکی خریداری میں تبدیل کرنے پرغورکررہاہے گویا دوارب ڈالر کے قرض کودفاعی معاہدے میں بدلنے کی تجویز اس امرکی علامت ہے کہ دفاع اب محض عسکری نہیں بلکہ مالی وسفارتی آلے کے طورپربھی استعمال ہورہا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے سفارت اور دفاع ایک ہی کشتی کے دومسافر بن گئے ہوں۔
ترجمان دفترِخارجہ پاکستان نے حسبِ روایت احتیاط کادامن تھامتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب دفاع سمیت کئی شعبوں میں تعاون کرتے ہیں،تاہم کسی مخصوص پلیٹ فارم یامالی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق علم نہیں۔مگراسی خاموشی میں سوالات نے جنم لیاکیا سعودی عرب، جس کے پاس پہلے ہی جدیدترین مغربی طیارے موجود ہیں،پاکستان کے جے ایف۔17 میں کیوں دلچسپی لے گا؟اورجب امریکاایف۔35 جیسے جدید ترین جہازدینے پرآمادہ ہے توپھریہ کشش کیوں؟
دفترخارجہ پاکستان کامحتاط موقف اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ اس نوعیت کے معاہدے اسٹریٹجک ابہام کے اصول کے تحت رکھے جاتے ہیں۔تاہم بھارت اورپاکستان میں یہ سوال شدت سے اٹھایاجارہاہے کہ کیاسعودی عرب واقعی جے ایف۔17جیسے طیارے کی ضرورت محسوس کرتا ہے؟جب ایف۔35دستیاب ہوسکتاہے تومتبادل کیوں؟یہ سوالات دراصل مغربی عسکری اجارہ داری پرعدم اعتماد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ان سوالات کے جواب سیقبل ضروری ہے کہ ہم سعودی فضائی قوت کے موجودہ خدوخال اورجے ایف۔17کی فنی وحربی خصوصیات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں،جوجذبات کی بجائے حقائق کی بنیادپر ہواورتحقیقی دیانت کابھی تقاضاہے کہ کسی بھی نتیجے سے قبل سعودی فضائیہ کی موجودہ ساخت اورجے ایف۔17کی تکنیکی،عملی اور لاجسٹک خصوصیات کاتقابلی مطالعہ کیاجائے،نہ کہ محض نسلی درجہ بندی پرانحصارکیاجائے۔ (جاری ہے )