اس کی جمالیاتی حس بھی بہت تیز تھی ،تحریر کی مہارت بھی رکھتا تھا اور محبت کا جذبہ بھی ، وہ چاہتا تو یونیورسٹی کے دنوں میں ایک بھر پور رومان پروان چڑھا کر ’’جھوٹ روپ کے درشن‘‘جیسی کتاب مرتب کرکے راجہ انور کی طرح اردو ادب میں شہرت دوام حاصل کر سکتا تھا ،۔مگر اس نے اپنے لئے ایک کٹھن ترین راستہ چنا۔خار زار سیاست ،جس کے کانٹے کبھی کبھی روح تک کے چولے کو تار تار کرکے رکھ دیتے ہیں ۔ سیاست کے خارزار میں چلنے والے اکثر لوگ چہرے بدلتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو راستے بدلتے ہیں مگر اپنے اندر کا انسان نہیں بدلنے ۔ مخدوم جاوید ہاشمی انہیں میں سے ایک ہیں کہ ۔ ان کی شخصیت صرف جلسوں کے نعروں، پارلیمانی تقاریر اور جیل کی سلاخوں تک محدود نہیں تھی، ان کے اندر ایک حساس دل، ایک بیدار جمالیاتی شعور اور لفظوں سے رشتہ رکھنے والی روح بھی آباد تھی۔ وہ چاہتے تو اپنی جوانی کے دنوں میں محبت کے رنگوں کو لفظوں میں ڈھال سکتے تھے، ان کے پاس مشاہدہ بھی تھا، جذبہ بھی، اور بیان کی وہ لطافت بھی جو دلوں میں اتر جائے۔مگر انہوں نے ایک اور راستہ چنا ،وہ راستہ جو پھولوں کی نہیں، کانٹوں کی سیج تھا؛ جو شہرت کی نرم روشنی نہیں بلکہ اصول کی تیز دھوپ مانگتا تھا۔ انہوں نے محبت کی کہانی لکھنے کے بجائے مزاحمت کی تاریخ رقم کی ۔
ان کی زندگی کا المیہ بھی یہی ہے اور عظمت بھی، وہ سیاست میں آئے مگر محض سیاست دان نہ بن سکے، ان کے اندر کا انسان، ادیب اور عاشقِ اصول ہر موڑ پر ان کے فیصلوں میں بولتا رہا۔شاید اسی لیے ان کی سیاسی زندگی کو صرف جماعتوں کی تبدیلی یا اختلافات کی فہرست سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسے سمجھنے کے لئے اس دل کی دھڑکن سننا ہوگی جو اقتدار کے ایوانوں میں بھی ایک طالبِ محبت کی طرح سچ کی تلاش میں رہا، اور جیل کی کوٹھڑی میں بھی لفظوں کی روشنی سے اپنا حوصلہ جلاتا رہا۔ مخدوم جاوید ہاشمی کی داستان دراصل ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس کے پاس نرم راستہ اختیار کرنے کا پورا جواز تھا، مگر اس نے اپنے لیے وہ راستہ منتخب کیا جو دارورسن کا راستہ تھا۔تو کیا مخدوم جاوید ہاشمی سیاست کا بھٹکا ہوا راہی تھے؟ اگر بھٹکنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اقتدار کے مرکزی راستے سے ہٹ جائے، تو شاید ہاں۔ مگر اگر بھٹکنے کا مطلب اصول کھو دینا ہے، تو پھر نہیں وہ بھٹکے نہیں، بلکہ اکثر وہیں کھڑے رہ گئے جہاں باقی لوگ آگے بڑھ جانے کو کامیابی سمجھتے رہے۔ان کی زندگی ہمیں یہ تلخ سچ یاد دلاتی ہے کہ سیاست میں سب سے مشکل کام درست ہونا نہیں، مستقل درست رہنا ہے۔ لمحاتی جوش میں نعرہ لگانا آسان ہے، مگر برسوں تک تنہائی میں اپنے موقف کے ساتھ کھڑا رہنا آسان نہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے شاید سیاسی حکمت عملی کے اعتبار سے غلطیاں کی ہوں، اندازوں میں چوک بھی ہوئی ہو، مگر ان کی جدوجہد کو محض جماعتوں کی تبدیلی سے نہیں ناپا جا سکتا۔ وہ ہر بار ایک سوال اٹھاتے رہے ، طاقت کس کے تابع ہے؟ قانون کے، یا خواہش کے؟ان کی شخصیت میں ایک عجیب تضاد تھا: وہ سیاست میں تھے مگر سیاست کے روایتی مزاج کے آدمی نہیں تھے۔ وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے، مگر اقتدار کی زبان سیکھ نہ سکے۔ وہ قافلوں کے ساتھ چلے، مگر ہر موڑ پر قافلے سے سوال بھی کرتے رہے۔ یہی سوال انہیں بار بار تنہا کرتا رہا، اور یہی سوال انہیں تاریخ میں ایک الگ جگہ بھی دیتا ہے۔آج جب سیاست زیادہ شور، زیادہ الزام اور کم ظرفی کا میدان بنتی جا رہی ہے، تو ہاشمی جیسے کردار یاد دلاتے ہیں کہ اختلاف غداری نہیں ہوتا اور سوال بغاوت نہیں ہوتا۔ وہ شائد کامیاب سیاستدانوں کی فہرست میں نمایاں نہ گنے جائیں، مگر وہ ان لوگوں میں ضرور شامل رہیں گے جنہوں نے سیاست کو صرف اقتدار کا کھیل ماننے سے انکار کیا۔اس لیے انہیں بھٹکا ہوا کہنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ شاید وہ راستہ ہی بدل گیا تھا، اور وہ شخص اب بھی وہیں کھڑا تھا جہاں سیاست کو اصول کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد جب مخدوم جاوید ہاشمی دوبارہ سیاسی افق پر نمودار ہوئے تو وہ پہلے جیسے نہ تھے اور نہ ہی ملک کی سیاست ویسی رہی تھی۔
برسوں کی اسیری نے ان کے لہجے میں تلخی نہیں بلکہ ٹھہرائو پیدا کیا تھا۔ وہ اب بھی وہی اصولی آدمی تھے، مگر تجربے کی دھوپ نے ان کی بات میں ایک دھیمی سنجیدگی شامل کر دی تھی۔ عوام نے بھی انہیں فراموش نہیں کیا تھا۔ انتخابات میں ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستانی ووٹر کبھی کبھی اصول پر کھڑے رہنے والوں کو پہچان لیتا ہے، چاہے تاخیر سے ہی سہی۔مگر رہائی کے بعد شروع ہونے والا سفر سیدھا نہیں تھا۔ سیاسی جماعتیں بدلیں، اتحاد بدلے، رفاقتیں بنیں اور ٹوٹیں۔ ناقدین نے یہی مرحلہ ان کے خلاف سب سے بڑا استدلال بنایا کہا گیا کہ وہ مستقل مزاج نہ رہے، وہ ایک سے دوسرے قافلے میں جاتے رہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی قافلے بدلتے رہے، یا قافلے ان سے دور ہوتے گئے؟ کیونکہ ہر مرحلے پر ان کا اختلاف کسی ذاتی مفاد پر نہیں بلکہ طریقِ کار اور اصول پر تھا۔جب انہوں نے ایک نئی جماعت کا ساتھ دیا تو ان کی امید یہی تھی کہ شاید یہاں جمہوری طرزِ سیاست کو فروغ ملے گا، مگر جب انہیں محسوس ہوا کہ احتجاج کی سیاست جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے تو وہ وہیں کھڑے ہو گئے جہاں ان کا ضمیر انہیں کھڑا دیکھنا چاہتا تھا۔ اس فیصلے نے انہیں ایک بار پھر تنہا کر دیا۔ سیاست میں تنہائی اکثر شکست سمجھی جاتی ہے، مگر کچھ لوگوں کے لئے یہی تنہائی ان کی اصل پہچان بن جاتی ہے۔یہ وہ مقام تھا جہاں ان کی شخصیت کا المیہ اور عظمت ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ المیہ اس لیے کہ وہ کسی ایک سیاسی خیمے کے مستقل فرد نہ بن سکے؛ عظمت اس لیے کہ وہ ہر خیمے میں جا کر بھی خود کو خیمے کے رنگ میں پوری طرح رنگنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ وہ جماعتوں کے آدمی کم اور موقف کے آدمی زیادہ تھے۔وقت گزرتا گیا، نئے چہرے ابھرتے گئے، پرانی جدوجہد کی کہانیاں خبروں کے شور میں دبتی گئیں۔ مگر مخدوم جاوید ہاشمی جیسے لوگ تاریخ کے حاشیے پر بھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوتے۔ وہ ایک سوال کی صورت باقی رہتے ہیں ،کیا سیاست میں اصول کے ساتھ زندہ رہا جا سکتا ہے؟ اور اگر ہاں، تو اس کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ان کی زندگی کا بعد کا دور اسی سوال کی عملی تصویر ہے۔ وہ نہ اقتدار کے مرکز میں رہے، نہ مکمل گوشہ نشین ہوئے۔ کبھی بیان دیا، کبھی اختلاف کیا، کبھی خاموش رہے مگر ان کی خاموشی بھی ایک طرح کا احتجاج معلوم ہوتی تھی۔ جیسے ایک ایسا شخص جو شور سے تھک چکا ہو مگر سچ سے دستبردار نہ ہوا ہو۔ان کی اسی روش نے اس پیرانہ سالی میں انہیں زخموں سے چور کیا کہ چند روز قبل سچ کا آئینہ دکھانے پر ریاست کے کارندوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور فقط انہیں ہی نہیں ان کے اندرون خانہ افراد پر تشدد کیا یہاں تک کے ان کیایک ننھے نواسے تک کو زخموں سے چور کیا۔مخدوم جاوید ہاشمی کی حیات کی داستان بہت طویل ہے ،جس کا ایک اظہاریئے میں احاطہ نہیں کیا جاسکتا یہ مجھ پر قرض رہا زندگی باقی، تو یہ قرض ضرور چکائوں گا۔ان شااللہ۔