کوئی حکمرانوں ،سیاست دانوں ،دانشوروں، اینکرز ، اینکرنیوں،پروفسروں اور نام نہاد دینی سکالرز سے پوچھ کر بتائے کہ وہ سارے مل کر پاکستان میں جھوٹ کے کتنے سمندر بنانا چاہتے ہیں ؟سب جانتے ہیں کہ بے بنیادی باتوں کو لوگوں میں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور افواہ کا بازار گرم کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ہاں ! اتنی بات تو ضرور ہے کہ یہی جھوٹ ، چاہے جان کر ہو یا انجانے میں ہو، بہت سے لوگوں کو ایک آدمی سے بدظن کر دیتا ہے، لڑائی، جھگڑا اور خون وخرابے کا ذریعہ ہوتا ہے، کبھی تو بڑے بڑے فساد کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات پورے معاشرے کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ جب جھوٹ بولنے والے کی حقیقت لوگوں کے سامنے آتی ہے، تو وہ بھی لوگوں کی نظر سے گر جاتا ہے، اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے او رپھر لوگوں کے درمیان اس کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔مولانا خورشید قاسمی لکھتے ہیں کہلفظ جھوٹ کو عربی زبان میں کذب کہتے ہیں۔ خلاف ِ واقعہ کسی بات کی خبر دینا، چاہے وہ خبر دینا جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے ہو، جھوٹ کہلاتا ہے۔ (المصباح المنیر) اگر خبر دینے والے کو اس بات کا علم ہو کہ یہ جھوٹ ہے، تو وہ گناہ گار ہو گا۔قرآن کریم میں جھوٹوں کا انجاماللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انسان کوئی بات بلا تحقیق کے اپنی زبان سے نہ نکالے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے ، تو پھر اس کی جواب دہی کے لیے تیار رہے۔ ارشاد ِ خدا وندی ہے :
ترجمہ:اور جس بات کی تحقیق نہ ہو اس پر عمل درآمد مت کیا کر، کان اور آنکھ اور دل ہر شخص سے اس سب کی پوچھ ہوگی۔(سورہ الاسرا:36)
آیت ِ مذکورہ کی تفسیر میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں،یعنی بے تحقیق بات زبان سے مت نکال، نہ اس کی اندھا دھند پیروی کر، آدمی کو چاہیے کہ کان، آنکھ اور دل ودماغ سے کام لے کر اور بقدر ِ کفایت تحقیق کرکے کوئی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے، سنی سنائی باتوں پر بے سوچے سمجھے یوں ہی اٹکل پچو کوئی قطعی حکم نہ لگائے یا عمل درآمد شروع نہ کرے۔ اس میں جھوٹی شہادت دینا، غلط تہمتیں لگانا، بے تحقیق چیزیں سن کر کسی کے درپے آزار ہونا یا بغض وعداوت قائم کر لینا، آبائو اجداد کی تقلید یا رسم ورواج کی پابندی میں خلاف ِ شرع اور ناحق باتوں کی حمایت کرنا، ان دیکھی، یا ان سنی چیزوں کو دیکھی یا سنی ہوئی بتلانا، غیر معلوم اشیا کی نسبت دعویٰ کرنا کہ میں جانتا ہوں، یہ سب صورتیں اس آیت کے تحت میں داخل ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن تمام قوی کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کو کہاں کہاں استعمال کیا تھا؟ بے موقع تو خرچ نہیں کیا؟ (تفسیر عثمانی) انسان جب بھی کچھ بولتا ہے تو اللہ کے فرشتے اسے نوٹ کرتے رہتے ہیں، پھر اسے اس ریکارڈ کے مطابق اللہ کے سامنے قیامت کے دن جزا وسزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ترجمہ: وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا، مگر اس کے پاس ہی ایک تاک لگانے والا تیار ہے۔یعنی انسان کوئی کلمہ جسے اپنی زبان سے نکالتا ہے، اسے یہ نگراں فرشتے محفوظ کر لیتے ہیں۔ (سورہ ق:18)
یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں، خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب اور خیر یا شر ہو یا نہ ہو۔حضرت امام احمد نے سیدنا بلال بن حارث مزنی سے روایت کیا ہے کہ رسول ِ اکرم ﷺنے فرمایا:انسان بعض اوقات کوئی کلمہ خیر بولتا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، مگر یہ اس کو معمولی بات سمجھ کر بولتا ہے، اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ثواب کہاں تک پہنچا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی رضائے دائمی قیامت تک کی لکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کوئی کلمہ اللہ کی ناراضی کا (معمولی سمجھ کر) زبان سے نکال دیتا ہے، اس کو گمان نہیں ہوتا کہ اس کا گناہ وبال کہاں تک پہنچے گا؟ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص سے اپنی دائمی ناراضی قیامت تک کے لیے لکھ دیتے ہیں۔(ابن کثیر، تلخیص، از: معارف القرآن:8/143) جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے اور یہ ایسا گناہ ِ کبیرہ ہے کہ قرآن کریم میں ، جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
ترجمہ:(ہم)لعنت کریں اللہ کی ان پر جو کہ جھوٹے ہیں۔(سورہ آل عمران:61)
حدیث شریف میں جھوٹ کی مذمت جیسا کہ مندرجہ بالا قرآنی آیات میں جھوٹ اور بلا تحقیق کسی بات کے پھیلانے کی قباحت و شناعت بیان کی گئی ہے، اسی طرح احادیث ِ مبارکہ میں بھی اس بدترین گناہ کی قباحت وشناعت کھلے عام بیان کی گئی ہے۔ ہم ذیل میں چند احادیث مختصروضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں ایک حدیث میں یہ ہے کہ جھوٹ او رایمان جمع نہیں ہو سکتے، لہٰذا اللہ کے رسول ﷺنے جھوٹ کو ایمان کا منافی عمل قرار دیا ہے۔ حدیث ملاحظہ فرمائیے:
ترجمہ:حضرت صفوان بن سلیم سے رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا گیا: کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:ہاں۔ پھر سوال کیا گیا: کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ ﷺنے جواب دیا: ہاں۔ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپﷺ نے جواب دیا:نہیں(اہل ِ ایمان جھوٹ نہیں بول سکتا)۔ (مطا امام مالک، حدیث:3630/824)
ایک حدیث شریف میں جن چار خصلتوں کو محمد عربی ﷺنے نفاق کی علامات قرار دیا ہے، ان میں ایک جھوٹ بولنا بھی ہے، لہٰذا جو شخص جھوٹ بولتا ہے، وہ خصلت ِ نفاق سے متصف ہے۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
(جاری ہے)