(گزشتہ سے پیوستہ)
سعودی فضائیہ کے تاجِ زریں میں یورو فائٹر ٹائی فون سرفہرست ہیںاس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کافضائی بیڑاایف۔15 ایس سی، اورٹورناڈوآئی ڈی ایس جیسے طاقتور طیاروں پرمشتمل ہے۔پانچ اعشاریہ چارجنریشن کے یہ ملٹی رول جہازبرق رفتاری،جدیدسینسرز اورمہلک وار کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ ایف۔15 ایس اورایف۔ 15 سی جیسے چوتھی جنریشن کے طیارے بھی موجودہیں،جن کی قوتِ ضرب سے فضائیں لرزتی ہیں۔برطانیہ واٹلی کے مشترکہ شاہکارٹورناڈوآئی ڈی ایس بھی اس بیڑے کاحصہ ہیں ،جبکہ ہیلی کاپٹرز،ایئرٹینکرز اورتربیتی جہازالگ داستان سناتے ہیں۔یہ جہازتکنیکی لحاظ سے بے مثال ہیں،مگرمکمل طورپرمغربی سپلائی چین پر انحصار کرتے ہیں۔اپ گریڈ، اسپیئر پارٹس اورسافٹ ویئر کنٹرول بیرونی ہاتھوں میں ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں عسکری برتری سیاسی کمزوری میں بدل سکتی ہے۔
نومبرمیں ٹرمپ نے ففتھ جنریشن سٹیلتھ ایف۔35طیارے سعودی عرب کودینے کی آمادگی ظاہرکی یہ وہ جہازہے جسے جدیدفضائی جنگ کا استعارہ سمجھاجاتاہے۔انتہائی مہنگا،مکمل امریکی کنٹرول میں ڈیٹااورآپریشنل خودمختاری محدود۔ مگر اس کے برعکس اس کے مقابل جے ایف۔17 تھنڈربلاک تھری،اگرچہ ففتھ جنریشن نہیں، مگر اے ای ایس اے ریڈار، لانگ رینج بی وی آر میزائلزاور4.5جنریشن ملٹی رول صلاحیت کے ساتھ ایک متوازن اورموثر پلیٹ فارم ہے، جو محدود وسائل میں زیادہ نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کم لاگت ، زیادہ دستیابی، قابلیت بمقابلہ کنٹرول کے موثرفرق کے بنیادی تصور کو واضح کرتاہے۔انہی خصوصیات کی بناپرتمام دفاعی ماہرین موجودہ دورکیلئے اسے ایک بہترین نعم البدل کے طورپرانتہائی موزوں سمجھتے ہیں۔
پاکستان اس طیارے کو آذربائیجان، میانمار اور نائجیریاکوفروخت کرچکاہے،جبکہ عراق اور لیبیا کے ساتھ معاہدے طے پاچکے ہیں۔یہ معاہدے اس بات کاثبوت ہیں کہ جے ایف17محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی،آزمودہ اور قابل ِ برآمدپلیٹ فارم ہے۔وزیردفاع خواجہ محمد آصف کے بقول، انڈیاکے ساتھ جنگ میں ان طیاروں کی عملی آزمائش اورجنگی ساکھ ثابت ہوچکی ہے،اور طلب کی یہ کیفیت ہے کہ شایدپاکستان کومستقبل قریب میں آئی ایم ایف کی دہلیزپربھی نہ جاناپڑے۔ سوال یہ ہے کہ کیااسی کامیابی کی بازگشت ریاض تک پہنچی ہے؟
اگرچہ دونوں ممالک نے کسی معاہدے کی تصدیق یاتردیدنہیں کی،مگردفاعی ماہرین کے نزدیک پاکستان اورچین کے اشتراک سے تیار کردہ یہ طیارہ سعودی عرب کیلئے ایک قابلِ عمل آپشن ہوسکتاہے جے ایف۔17پاکستان اورچین کے اشتراک کانتیجہ ہے،جوسعودی عرب کوچین کے ساتھ بالواسطہ دفاعی قربت اورامریکاکے متبادل سپلائی چین فراہم کرسکتاہے۔ خصوصاًایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں اتحادعارضی اورمفادات مستقل ہوتے جارہے ہیں۔یہ نکتہ سعودی خارجہ پالیسی میں کثیرالقطبی رجحان سے ہم آہنگ ہے۔
دفاعی ماہرین یاددلاتے ہیں کہ کسی بھی طیارے کی خریدمحض نام یاطاقت پرنہیں،بلکہ ضرورت، ہتھیاروں کی ہم آہنگی،لاگت،اور سپلائر کے اعتمادپرہوتی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی خریداری میں چارعناصربنیادی ہوتے ہیں۔ مشن کی ضرورت،ہتھیاروں کی مطابقت لاگت اور مینٹیننس،سپلائرکی سیاسی ساکھ۔ پاکستان ان چاروں میں جہاں ایک کم خطرہ کے طورپر ابھرتا ہے وہاں ایک قابلِ اعتمادشراکت دارکے طور پر ابھراہے،جہاں سپلائی میں سیاسی دباؤ یاغیرمتوقع رکاوٹوں کااندیشہ کم ہے۔ اس کے برعکس مغربی طاقتیں اکثردفاعی سازوسامان کودبائو کے آلے کے طورپراستعمال کرتی ہیںکبھی اپ گریڈروک لیا جاتاہے، کبھی اسپیئرپارٹس بندکردیے جاتے ہیں۔ ٹرمپ جیسے غیرمتوقع فیصلوں اور پالیسیوں کے حامل رہنمائوں کے دورمیں یہ بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے،اورعدم اعتمادکومزیدگہراکردیاہے جس نے بیشترممالک کومتبادل راستے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایئر یونیورسٹی سے وابستہ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ اس امرکی علامت ہو سکتاہے کہ دونوں ممالک مشترکہ سسٹمزاپناناچاہتے ہیں۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست،خصوصاًامریکاکے رویے نے کئی ممالک کواسلحہ جاتی تنوع کی طرف دھکیل دیا ہے،تاکہ کسی ایک طاقت پرانحصارمہلک ثابت نہ ہو۔ماہرین کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدوں کامقصد انٹرآپریبلٹی،تربیت میں ہم آہنگی اور ہنگامی حالات میں تعاون ہوتاہے۔جے ایف۔17 اس تناظرمیں ایک موزوں انتخاب بن سکتا ہے ۔
برمنگھم یونیورسٹی کے ماہرین کے نزدیک اگریہ معاہدہ طے پاجاتاہے تویہ جے ایف۔17، پاکستان کے دفاعی صنعتی ڈھانچے اورقومی معیشت کیلئے سنگِ میل ہوگا۔بعض مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب یہ طیارے براہِ راست استعمال کی بجائے کسی اتحادی ملک (مثلاًسوڈان) کومنتقل کرسکتاہے جہاں داخلی سلامتی کے مسائل شدت اختیار کررہے ہیں۔یہ خطے میں پراکسی اسٹیبلائزیشن کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ آخرکار دفاعی ماہرین اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ جے ایف۔ 17تھنڈرکئی حوالوں سے سعودی عرب کوسوٹ کرتاہے۔ یہ جہاز امریکاپر انحصارکم کرنے کاذریعہ بن سکتا ہے، اورسعودی خودمختاری میں اضافہ کاباعث بن سکتا ہے۔ جنگ میں آزمودہ پلیٹ فارم حاصل کرنے اورکم لاگت میںمؤثردفاع کاذریعہ بن سکتاہے اور اس کی تربیت پاکستانی فضائیہ فراہم کرسکتی ہے۔ یوں یہ محض ایک جہازنہیں، بلکہ اعتماد، خودمختاری اورآزمودہ صلاحیت کااستعارہ بن کر ابھرتاہے۔
(جاری ہے)
