(گزشتہ سے پیوستہ)
ترجمہ:جس میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اورجس شخص میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت پائی جائے، تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، وہ اسے چھوڑ دے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو دھوکہ دے او رجب لڑائی جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے۔(صحیح بخاری، حدیث:34)رسول اکرم ﷺنے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔ خیانت تو خود ہی ایک مبغوض عمل ہے، پھر اس کا بڑا ہونا یہ کتنی بڑی بات ہے۔
ایک حدیث شریف میں نبی کریم ﷺنے جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ شمار کیا ہے:
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا،کیا میں تمہیں وہ گناہ نہ بتلائوں جو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑے ہیں؟ تین بار فرمایا۔ پھر صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ہاں!اے اللہ کے رسول!پھر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ﷺ بیٹھ گئے، جب کہ آپ ﷺ(تکیہ پر)ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایا: خبر دار! اورجھوٹ بولنا بھی (کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ ہے) صرف یہی نہیں کہ ایسا جھوٹ جس میں فساد وبگاڑ او رایک آدمی پر اس جھوٹ سے ظلم ہو رہا ہو، وہی ممنوع ہے، بلکہ لطف اندوزی اورہنسنے ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ بولنا ممنوع ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث:2654)
اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: وہ شخص برباد ہو جو ایسی بات بیان کرتا ہے، تاکہ اس سے لوگ ہنسیں، لہذا وہ جھوٹ تک بول جاتا ہے، ایسے شخص کے لئے بر بادی ہو، ایسے شخص کے لیے بربادی ہو۔جھوٹ بولنا حرام ہے ۔(سنن ترمذی، حدیث:2315)
شریعت ِ مطہرہ اسلامیہ میں جھوٹ بولنا اکبر کبائر(کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ) اور حرام ہے، جیسا کہ قرآن واحادیث کی تعلیمات سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:ِ
ترجمہ: پس جھوٹ افترا کرنے والے تویہی لوگ ہیں، جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے۔(سورہ النحل:105)
ایک دوسری جگہ ارشاد ِ خدا وندی ہے:
ترجمہ: او رجن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹ زبانی دعویٰ ہے، ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے،جس کا حاصل یہ ہو گا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگا دو گے، بلاشبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں، وہ فلاح نہ پاویں گے۔ (سورہ النحل:116)
چند مواقع پر جھوٹ کی اجازتشیخ الاسلام ابوزکریا محی الدین یحییٰ بن شرف نووی (676-631ھ) اپنی مشہور کتاب:ریاض الصالحین میں باب بیان مایجوز من الکذب کے تحت رقم طراز ہیں:آپ جان لیں کہ جھوٹ اگرچہ اس کی اصل حرام ہے، مگر بعض حالات میں چند شرائط کے ساتھ جائز ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بات چیت مقاصد (تک حصول) کا وسیلہ ہے، لہٰذا ہر وہ اچھا مقصد جس کا حصول بغیر جھوٹ کے ممکن ہو، وہاں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اگر اس کا حصول بغیر جھوٹ کے ممکن ہی نہ ہو، وہاں جھوٹ بولنا جائز ہے۔ پھر اگر اس مقصد کا حاصل کرنامباح ہے، تو جھوٹ بولنا بھی مباح کے درجے میں ہے۔ اگر اس کا حصول واجب ہے تو جھوٹ بولنا بھی واجب کے درجے میں ہے۔ چناں چہ جب ایک مسلمان کسی ایسے ظالم سے چھپ جائے، جو اس کا قتل کرنا چاہتا ہے یا پھر اس کا مال چھیننا چاہتا ہے او راس نے اس مال کو چھپا کر کہیں رکھ دیا ہو، پھر ایک شخص سے اس حوالے سے سوال کیا جاتا ہے(کہ وہ شخص یا مال کہاں ہے؟)تو یہاں اس (شخص یا مال)کو چھپانے کے لئے جھوٹ بولنا واجب ہے۔ اسی طرح کسی کے پاس امانت رکھی ہوی ہو، ایک ظالم شخص اس کو غصب کرنا چاہتا ہے، تو یہاں بھی اس کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے۔ زیادہ محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان صورتوں میں توریہ اختیار کیا جائے۔ توریہ کا مطلب یہ ہے کہ (بولنے والا شخص)اپنے الفاظ سے ایسے درست مقصود کا ارادہ کرے، جو اس کے لحاظ سے جھوٹ نہ ہو، اگرچہ ظاہری الفاظ اور مخاطب کی سمجھ کے اعتبار سے وہ جھوٹ ہو۔ اگر وہ شخص توریہ سے کام لینے کے بجائے صراحتا جھوٹ بھی بولتا ہے، تو یہ ان صورتوں میں حرام نہیں ہے۔ (باب بیان مایجوز من الکذب، ریاض الصالحین)
جھوٹ اعتماد ویقین کو ختم کر دیتا ہے مذکورہ بالا استثنائی صورتوں کے علاوہ ہمیں جھوٹ بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، لہٰذا جھوٹ بولنا دنیا وآخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے۔ جھوٹ اللہ رب العالمین اور نبی کریم ﷺ کی ناراضگی کا باعث ہے۔ جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے، جو دوسری بیماریوں کے مقابلہ میں بہت عام ہے۔ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں او راس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اس جھوٹ سے انہوں نے کیا پایا او رکیا کھویا؟ جب لوگوں کو جھوٹے شخص کی پہچان ہو جاتی ہے، تو لوگ اس کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والا شخص کبھی کبھار حقیقی پریشانی میں ہوتا ہے، مگر سننے والا اس کی بات پر اعتماد نہیں کرتا۔ ایسے شخص پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیوں کہ وہ پنے اعتماد ویقین کو مجروح کر چکا ہے۔حرف ِ آخرجھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ لوگوں کے درمیان لڑائی، جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان عداوت ودشمنی کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس سے آپس میں ناچاقی بڑھتی ہے۔ اگر ہم ایک صالح معاشرہ کافر وبننا چاہتے ہیں، تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو جھوٹ کے مفاسد سے آگاہ او رباخبر کریں،جھوٹے لوگوں کی خبر پر اعتماد نہ کریں، کسی بھی بات کی تحقیق کے بغیر اس پر ردِ عمل نہ دیں۔ اگر ایک آدمی کوئی بات آپ سے نقل کرتا ہے تو اس سے اس بات کے ثبوت کا مطالبہ کریں۔ اگر وہ ثبوت پیش نہیں کر پاتا تو اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دیں اور اسے دھتکاریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :نبی اکرم ﷺ کو جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت ناپسند نہیں تھی، چنانچہ آپ ﷺ کو اگر کسی کے حوالے سے یہ معلوم ہو جاتا کہ وہ دروغ گو ہے، تو آپ ﷺکے دل میں کدورت بیٹھ جاتی اور اس وقت تک آپ ﷺکا دل صاف نہیں ہوتا، جب تک یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ اس نے اللہ سے اپنے گناہ کی نئے سرے سے توبہ نہیں کرلی ہے۔ (مسند احمد، بحوالہ احیا العلوم:3/209)