Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ایمان،فولاد اور ریاست

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایئر یونیورسٹی سے وابستہ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ اس امرکی علامت ہو سکتاہے کہ دونوں ممالک مشترکہ سسٹمزاپناناچاہتے ہیں۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست،خصوصاًامریکاکے رویے نے کئی ممالک کواسلحہ جاتی تنوع کی طرف دھکیل دیا ہے،تاکہ کسی ایک طاقت پرانحصارمہلک ثابت نہ ہو۔ماہرین کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدوں کامقصد انٹرآپریبلٹی،تربیت میں ہم آہنگی اور ہنگامی حالات میں تعاون ہوتاہے۔جے ایف۔17 اس تناظرمیں ایک موزوں انتخاب بن سکتا ہے ۔
برمنگھم یونیورسٹی کے ماہرین کے نزدیک اگریہ معاہدہ طے پاجاتاہے تویہ جے ایف۔17، پاکستان کے دفاعی صنعتی ڈھانچے اورقومی معیشت کیلئے سنگِ میل ہوگا۔بعض مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب یہ طیارے براہِ راست استعمال کی بجائے کسی اتحادی ملک (مثلاًسوڈان) کومنتقل کرسکتاہے جہاں داخلی سلامتی کے مسائل شدت اختیار کررہے ہیں۔یہ خطے میں پراکسی اسٹیبلائزیشن کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ آخرکار دفاعی ماہرین اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ جے ایف۔ 17تھنڈرکئی حوالوں سے سعودی عرب کوسوٹ کرتاہے۔ یہ جہاز امریکاپر انحصارکم کرنے کاذریعہ بن سکتا ہے، اورسعودی خودمختاری میں اضافہ کاباعث بن سکتا ہے۔ جنگ میں آزمودہ پلیٹ فارم حاصل کرنے اورکم لاگت میںمؤثردفاع کاذریعہ بن سکتاہے اور اس کی تربیت پاکستانی فضائیہ فراہم کرسکتی ہے۔ یوں یہ محض ایک جہازنہیں، بلکہ اعتماد، خودمختاری اورآزمودہ صلاحیت کااستعارہ بن کر ابھرتاہے۔
تاریخ کے افق پرایک حقیقت سورج کی طرح روشن ہے کہ مسلم دنیاکی کمزوری اس کے وسائل کی کمی نہیں،اس کی اصل آزمائش اس کا انتشار رہاہے۔یہ حقیقت تاریخ کے اوراق میں بارہا لکھی جاچکی ہے کہ جب بھی مسلم دنیا نے باہمی اتحاد، خودانحصاری اور مشترکہ دفاع کی طرف قدم بڑھایا،اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔جب بھی اس انتشار کے خلاف کوئی آواز اٹھی،جب بھی کسی نے خود انحصاری اورمشترکہ دفاع کاخواب دیکھا،سازشوں کے بادل امڈ آئے، خدشات کی سرگوشیاں پھیل گئیں،اورخوف کے بیج بودیے گئے۔
آج بھی جب پاکستان اورسعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے امکانات ظاہرکررہاہے،تومسلم دشمن قوتوں کی تشویش محض اتفاق نہیں۔آج پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات پراٹھنے والی تشویشیں اسی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔اسرائیل کی بے چینی،امریکی نظامِ دفاع کی اجارہ داری، اور مغربی میڈیاکافکری اضطراب یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ امتِ مسلمہ کاایک قدم بھی اگر خودداری کی سمت بڑھ جائے توطاقت کے ایوانوں میں ارتعاش پیداہوجاتاہے۔
اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کو جدیدامریکی طیاروں کی فراہمی پرکھلے اضطراب کا اظہار دراصل اسی خوف کی علامت ہے کہ کہیں مشرقِ وسطی اورجنوبی ایشیامیں ایک ایسا دفاعی محور نہ تشکیل پاجائے جومغربی اجارہ داری کوچیلنج کر دے۔ مگریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جے ایف۔17 تھنڈرمحض ایک جنگی طیارہ نہیںیہ ایک پیغام ہے۔یہ پیغام ہے کہ مسلمان اب اپنی سلامتی کے فیصلے خودکرناچاہتے ہیں۔یہ اعلان ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کاعزم کسی ایک ریاست تک محدودنہیں،بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جسے فولاد ، ایمان اوراتحادسے سینچاجارہاہے۔
جے ایف۔17تھنڈرکاممکنہ سعودی فضائی بیڑے میں شامل ہونا،یااس سے جڑے کسی بھی دفاعی انتظام کی صورت،محض ایک تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی،تہذیبی اورایمانی اعلان ہوگا کہ مسلم دنیااب اپنی سلامتی کے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے،اوروہ دوسروں کی اجازت یادباؤ کی محتاج نہیں۔پاکستان کیلئے یہ شراکت محض معاشی یاصنعتی کامیابی نہیں بلکہ اس تاریخی ذمہ داری کی توسیع ہے جواس نے اپنے قیام کے وقت سے اوڑھ رکھی ہے،حرمین شریفین کے تحفظ کواپنی سلامتی سے مقدم جاننے کی ذمہ داری۔پاکستان کیلئے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اشتراک محض ایک کامیاب معاہدہ نہیں بلکہ اس وعدے کی تجدیدہے جواس قوم نے اپنے قیام کے دن کیاتھاکہ حرمین شریفین کی طرف اٹھنے والے ہرخطرے کے مقابل سینہ سپرہوناہماری قومی شناخت اورایمانی فریضہ ہے۔تاہم یہ راہ آسان نہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ یہ اتحادکیوں ضروری ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیاامتِ مسلمہ اس تاریخی موقع کوپہچانے گی؟کیاعالمِ اسلام اپنی صفوں میں وحدت پیداکرپائے گا؟کیایہ دفاعی تعاون ایک نئے مشترکہ اسلامی دفاعی نظام کاپیش خیمہ بنے گا؟کیایہ دفاعی تعاون محض محدود معاہدوں تک رہے گایاامتِ مسلمہ کیلئے ایک مشترکہ دفاعی نظام کی بنیادبنے گا؟اورکیا مسلم دشمن قوتیں اس اتحادکوروکنے میں کامیاب ہو سکیں گی؟اور سب سے بڑھ کر،کیاوہ قوتیں جو مسلم اتحادکواپنے مفادات کیلئے خطرہ سمجھتی ہیں، اس خواب کوتعبیر پانے دیں گی؟
ان سوالات کے جواب مستقبل کے دریچوں میں پوشیدہ ہیں،تاریخ گواہ ہے جب ایمان، حکمت اوراتحادایک صف میں آکھڑے ہوںتو کوئی طاقت،کوئی سازش،کوئی دبائو اس صف کومنتشرنہیں کرسکتامگرایک حقیقت اٹل ہے، جب تک حرمین شریفین کی طرف رخ کیے کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑکتے رہیں گے، اور جب تک پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ ایمان، قربانی اوراعتمادپرقائم رہے گاتب تک یہ اتحادمحض ممکن ہی نہیں، ناگزیربھی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں