(گزشتہ سے پیوستہ)
عوام کے دلوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ مذہبی زبان دراصل سیاسی مفاد کا پردہ ہے۔اس صورت میں مذہب طاقت کو مہذب بنانے کے بجائے طاقت کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ لوگ دین سے نہیں بلکہ دین کے نام پر ہونے والی سیاست سے بدظن ہونے لگتے ہیں۔ یہ بدظنی آہستہ آہستہ اخلاقی زوال پیدا کرتی ہے، جسے پھر محض قوانین پر نہیں کر سکتے۔کچھ معاشروں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ مذہب کو مکمل طور پر نجی دائرے تک محدود کر دیا جائے اور سیاست کو اس سے آزاد کر دیا جائے۔ بظاہر یہ تصادم سے بچنے کا راستہ لگتا ہے، مگر اس کے اپنے نقصانات ہیں۔
جب سیاست اخلاقی بنیاد سے بالکل کٹ جائے تو وہ محض طاقت اور مفاد کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے۔ قانون موجود ہوتا ہے مگر انصاف کی کمزور روح کے ساتھ،ریاست اگر یہ اعلان کر دے کہ اسے اخلاقی سوالات سے کوئی سروکار نہیں، تو طاقت کا بے رحم استعمال آسان ہو جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں نظم تو ہوتا ہے، مگر معنی کھو جاتے ہیں۔کسی بھی معاشرے میں اصل ضرورت کسی انتہا کی نہیں بلکہ توازن و اعتدال کی ہوتی ہے۔ مذہب کا کام یہ نہیں کہ وہ براہِ راست اقتدار سنبھالے، اور سیاست کا کام یہ نہیں کہ وہ خود کو مقدس قرار دے۔ بہتر صورت یہ ہے کہ مذہب معاشرے کے اخلاقی شعور کو زندہ رکھے، اور سیاست اس شعور کی روشنی میں قابلِ عمل قوانین اور ادارے تشکیل دے۔مذہب سیاست کو یاد دلاتا رہے کہ طاقت امانت ہے، انسان خطاکار ہے اور احتساب ناگزیر ہے۔ سیاست مذہب سے یہ نہ کہے کہ وہ اس کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کرے، بلکہ یہ سمجھے کہ اخلاقی نگرانی اس کے لیے بوجھ نہیں بلکہ حفاظت ہے۔مذہب اور سیاست کی راہیں اس وقت جدا ہوتی ہیں جب دونوں اپنی اپنی حدود دے تجاوز کرنے پر تل جائیں ۔مذہبی قیادت اقتدار کو دین کی تکمیل سمجھنے لگے، اور سیاسی قیادت مذہبی زبان کو اپنے اقتدار کے دوام کا ذریعہ بنا لے، تو دونوں کے اصل مقاصد دھندلا جاتے ہیں۔ ایک طرف روحانیت سیاست کی نذر ہو جاتی ہے، دوسری طرف سیاست احتساب سے آزاد ہو جاتی ہے۔اختلافِ رائے کو بغاوت اور سوال کو بے ادبی سمجھا جانے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ توازن ٹوٹ چکا ہے۔ جہاں سوال کی گنجائش ختم ہو، وہاں نہ سیاست صحت مند رہتی ہے نہ مذہب کا وقار قائم رہتا ہے۔ایک صحت مند تصورِ اجتماعایک متوازن معاشرے میں مذہب دلوں کو نرم رکھتا ہے اور سیاست ہاتھوں کو مضبوط رکھتی ہے۔ مذہب یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ ہر انسان باعزت ہے،سیاست اس عزت کے تحفظ کے لیے قوانین بناتی ہے۔ مذہب ظلم کو گناہ کہتا ہے،سیاست اسے جرم قرار دیتی ہے۔ مذہب معافی کی فضیلت سکھاتا ہے، سیاست انصاف کی حد مقرر کرتی ہے۔یوں دونوں مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر سکتے ہیں جہاں طاقت بے لگام نہ ہو اور اخلاق بے اثر نہ رہے۔مراد یہ کہ پاکستان مذہب اور سیاست دو الگ راستے ضرور ہیں، مگر یہ راستے انسانی زندگی کے ایک ہی دھارے میں آ کر ملتے ہیں۔ انہیں مکمل طور پر جدا کر دینا بھی نقصان دہ ہے اور انہیں ایک دوسرے میں اس طرح ضم کر دینا بھی کہ پہچان مٹ جائے، تباہ کن ہے۔ اصل دانش یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی اصل پہچان برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو متوازن رکھیں۔مذہب ضمیر کا چراغ جلائے رکھے اور سیاست اختیار کو جواب دہ بنائے رکھے۔ جب چراغ بجھ جائے تو اختیار اندھا ہو جاتا ہے، اور جب اختیار بے لگام ہو جائے تو چراغ بھی محفوظ نہیں رہتا۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ تہذیبیں اسی توازن پر قائم رہتی ہیں اور اسی کے بگڑنے سے زوال کا سفر شروع ہوتا ہے۔