کافی عرصے سے لوگ شاید یہ سمجھنے لگے تھے کہ ان کے گھر کی چھت واقعی ان کی اپنی ہےاور وہ اسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں اور غیر یقینی فراہمی سے تنگ آ کر انہوں نےاپنی مدد آپ کے تحت راستہ نکالا۔ کسی نے قرض لے کر، کسی نے جمع پونجی لگا کر شمسی نظام نصب کیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے اخراجات کم کریں گے،توانائی کےبحران کو کم کرنےمیں اپناحصہ ڈالیں گے اور ملک کو درپیش مشکلات میں کمی لائیں گے۔ مگر شاید یہ خود مختاری زیادہ دیر قابلِ قبول نہ تھی۔پچھلے چند برسوں میں ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ عوام نے بجلی کے بڑھتے نرخوں اورطویل بندشوں سے تنگ آ کر اپنی چھتوں کا رخ کیا۔ جس کے پاس تھوڑی سی گنجائش تھی، اس نےسولر پینل لگا لئے۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کررہاہے۔ لوگ سمجھے کہ وہ اپنے گھروں کے اخراجات کم کر رہے ہیں، قومی گرڈ پر بوجھ کم کر رہے ہیں اور ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ مگر شاید وہ یہ بھول گئے تھے کہ اجتماعی فیصلے عوام نہیں کرتے،عوام صرف بل ادا کرتے ہیں۔یہ بھی بڑی عجیب بات تھی کہ لوگ اپنی چھتوں کو واقعی چھت سمجھنے لگے تھے۔ کسی نے وہاں شمسی نظام نصب کرلیا، کسی نے اپنی بجلی خود پیدا کرنےکاخواب دیکھ لیا۔ گویا چھت اب صرف پرانا سامان رکھنے، قربانی کےجانور پالنے یا سیاسی جھنڈا لہرانے کے لیے نہیں رہی تھی۔ عوام نے پہلی بار چھت کو معیشت سے جوڑ دیا تھا۔ مگر شاید یہ آزادی زیادہ دیر برداشت نہیں کی جا سکتی تھی۔شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنا اور پھراضافی بجلی قومی نظام کو واپس دینا ایک ایسا تصور تھا جس نے عام آدمی کو پہلی بار یہ احساس دیا کہ وہ صرف صارف نہیں بلکہ شراکت دار بھی ہے۔ مگر شراکت داری کا یہ تصور شاید کچھ حلقوں کو ناگوار گزرا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک فیصلہ آیا اور پورامنظربدل گیا۔ وہی نظام جسے کل تک ترقی کی علامت کہاجا رہاتھا، آج بوجھ قراردےدیاگیا۔ وہی عوام جو کل تک گرین انرجی کے ہیرو تھے، آج خاموشی سے نئےحساب کتاب سمجھنے پر مجبور ہیں۔ہمیں سمجھایاجارہاہےکہ یہ سب قومی مفاد میں ہے۔ یقینا ہوگا۔
قومی مفادکی تعریف ہمیشہ وسیع ہوتی ہے،اتنی وسیع کہ اس میں عوام کا فوری نقصان بھی سماجاتا ہے۔ جو لوگ اپنی جمع پونجی لگا کر شمسی نظام نصب کرچکے تھے، وہ اب نئے نرخوں اور نئی شرائط کے ساتھ بیٹھے حساب لگا رہے ہیں۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ فکر نہ کریں، بجلی تو ویسے بھی آنےجانےوالی چیز ہے۔ اصل بات نظم و ضبط کی ہےاور نظم و ضبط ہمیشہ اوپر سے آتا ہے، نیچے سے نہیں۔یہ سوال کوئی نہیں پوچھ رہا کہ جب لوگوں نے سرمایہ کاری کی، تو کیا انہیں یقین دہانی نہیں کرائی گئی تھی؟ کیا انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ جتنی بجلی پیدا کریں گے، اس کا مناسب معاوضہ ملے گا؟ اگر پالیسی بدلنی تھی تو کیاکوئی تدریجی راستہ اختیار نہیں کیاجا سکتا تھا؟ مگر شاید پالیسیوں کا حسن ہی یہی ہے کہ وہ بدلتی ہیں اور عوام کو ہربار نئے سرے سےخود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ہم ایک طرف دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہمیں قابلِ تجدید توانائی کی طرف جانا ہے اور دوسری طرف جب عوام واقعی اس سمت قدم بڑھاتے ہیں توراستہ بدل دیاجاتا ہے۔ شاید ہمیں ابھی بھی اپنی چھتوں کا اصل مصرف یاد رکھنا چاہیے۔ وہی روایتی استعمال، پرانا سامان رکھنے کے لیے، انتخابی جھنڈے لہرانےکےلیےاور بسنت کے موسم میں پتنگ بازی کے لیے کھلی اور صاف ستھری جگہ کےطور پر۔ معیشت اورتوانائی جیسےسنجیدہ معاملات شاید عوام کےسپردکرنے کےلیےنہیں ہوتے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چھت خودمختاری کی علامت بن جائے اور بسنت کے رنگوں میں کوئی معاشی شعور بھی اڑانے لگے۔
اصل مسئلہ سورج نہیں، اعتماد ہے۔ جب پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو تو سرمایہ کاری کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ جب آج ایک نظام کی حوصلہ افزائی کی جائےاورکل اسے محدود کر دیا جائے تو پیغام صرف یہ جاتا ہے کہ فیصلے مستقل نہیں، وقتی ہیں۔ اور جب عوام کا اعتماد متاثر ہو جائے تو اس کا اثر صرف بجلی کے بل تک محدود نہیں رہتا، وہ معیشت، کاروبار اور مستقبل کی منصوبہ بندی تک پھیل جاتا ہے۔ سورج بھی ہمارا اور فیصلہ بھی ہمارا مگر حقیقت یہ ہے کہ سورج تو واقعی سب کا ہے البتہ فیصلوں کا دائرہ محدود ہے۔ عوام نے اپنے حصے کا کردار ادا کیا، اپنی بچت لگائی، اپنے گھروں کو خودکفیل بنانے کی کوشش کی۔ اب وہی عوام نئے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید یہی ہماری قومی عادت ہے، پہلےحوصلہ افزائی، پھر پابندی اورپھر وضاحت کہ سب کچھ قومی مفادمیں ہے۔اگر واقعی ہم توانائی کے بحران سے نکلناچاہتے ہیں تو ضرورت پالیسی کے تسلسل کی ہے، نہ کہ اچانک تبدیلیوں کی۔ ورنہ ہر نیاقدم عوام کےلیےخطرہ بن جائے گا اور کوئی بھی شہری آئندہ کسی حکومتی اعلان پر مکمل اعتماد نہیں کرے گا۔ سورج کل بھی چمکے گا، آج بھی چمک رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی روشنی سے خود فائدہ اٹھا سکیں گے یا ہر بار کسی نئےفیصلے کا انتظار کریں گے۔قومیں نعروں سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی، شفافیت اور اعتماد سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر عوام کو شراکت دار بنانا ہے تو ان کے فیصلوں کو بھی استحکام دینا ہوگا۔ ورنہ روشنی موجود ہونے کے باوجود اندیشوں کا اندھیرا باقی رہے گا۔