(گزشتہ سے پیوستہ)
پراجیکٹس کے ذریعے سرمایہ کھینچنا،یہ سب کچھ بالواسطہ طورپریواے ای کے قائم کردہ دبئی ماڈل کے لئے براہِ راست چیلنج ہے اور سعودی پالیسی کواپنے لئے براہِ راست معاشی خطرہ سمجھتاہے۔
یواے ای پہلے ہی دبئی اورابو ظہبی کوعالمی مالیاتی مراکزبناچکاہے،لاجسٹکس،ایوی ایشن اورٹریڈ میں برتری رکھتاہے۔خطے کاسب سے کھلااور لچکدار بزنس ماحول فراہم کرتاہے،اسی وجہ سے اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار،تجارتی مراعات اورسرمایہ کاری کے بہائو پردونوں ممالک کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے۔یہ صرف معاشی مسابقت نہیں بلکہ بلکہ اثرورسوخ کی بالادستی کی جنگ ہے۔
یمن جنگ وہ پہلاعملی میدان تھاجہاں سعودی عرب اوریواے ای ایک ساتھ اترے مگروقت کے ساتھ دونوں کے اہداف مختلف ہوتے چلے گئے۔اختلافات نمایاں ہونے کی بنا پر ایک ساتھ نکل نہ سکے۔سعودی عرب یمن میں ایک متحدریاست اورحوثیوں کی مکمل شکست چاہتاتھاجبکہ یواے ای کی توجہ جنوبی یمن، بندرگاہوں اورتجارتی راستوں پرمرکوزرہی اور جنوبی یمن میں اپنے اتحادی مضبوط کرکے بندرگاہوں، تجارتی راستوں اورساحلی پٹی پراثرورسوخ چاہتا تھا۔نتیجہ یہ نکلاکہ یواے ای نے بتدریج اپناعسکری کردارکم کردیا،نتیجہ یہ نکلا کہ سعودی عرب خودکومیدان میں نسبتاتنہامحسوس کرنے لگا۔یہی وہ لمحہ تھاجہاں اعتمادکابحران شروع ہوا۔اوربرسوں سے قائم دوستی کے رشتوں میں دراڑپڑگئی۔
اسی طرح اخوان المسلمون اورسیاسی اسلام کے معاملے پربھی دونوں ممالک کے روئیے اور اختلاف محض جغرافیائی یا معاشی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ یواے ای اخوان المسلمون کواپنی ریاستی سلامتی اور ساخت کے لئے وجودی خطرہ سمجھتا ہے جبکہ سعودی عرب کامؤقف اس معاملے میں زیادہ محتاط،لچکداراور وقتی رہتاہے۔کبھی سختی،کبھی مفاہمت ،یہ ابہام دونوں ممالک کے درمیان فکری فاصلے اور نظریاتی ابہام کے درمیان فکری فاصلے کومزیدبڑھاتاگیا۔
ایران کے معاملے پربھی دونوں ممالک کی سوچ مختلف ہے۔ایران کے حوالے سے سعودی عرب طویل عرصے تک سخت مؤقف رکھتارہاجبکہ یواے ای نے حالیہ برسوں میں خاموش مفاہمت کاراستہ اختیار کیا تجارت،سفارت اورسیکورٹی چینلزکھولے گئے۔اس کے برعکس یواے ای نے اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ کرکے نہ صرف ایک نیاعلاقائی راستہ کھولابلکہ خود کو امریکاکاسب سے قابلِ اعتماد خلیجی اتحادی بھی ثابت کیا جبکہ سعودی عرب اب تک محتاط ہے اورداخلی ومذہبی دباؤ اورخطے میں اپنی تاریخی حیثیت اسے فوری قدم اٹھانے سے روکتی ہے۔یواے ای کاایک قدم آگے نکل جانا ریاض کے لئے ایک خاموش مگرگہراپیغام تھا۔یہ فرق بھی دونوں دارالحکومتوں کے درمیان خاموش تناؤکاسبب ہے۔یہ فرق خلیجی سلامتی کے تصورمیں بنیادی اختلاف کوظاہرکرتاہے۔یہی فرق وہ پس منظرفراہم کرتاہے جس میں یواے ای کابھارت کی طرف جھکاؤسمجھ میں آتاہے۔
سطحی طورپریواے ای بھارت تعلق کودفاعی تعاون کے طورپردیکھاگیا،مگرحقیقت میں یہ ایک ہمہ جہت معاشی شراکت ہے۔گیس کی طویل مدتی فراہمی، اربوں ڈالرکی توانائی سرمایہ تجارت،مصنوعی ذہانت،خلائی صنعت اور ایٹمی ٹیکنالوجی یہ سب اس بات کااعلان ہے کہ یواے ای بھارت کومستقبل کاستون سمجھ رہاہے۔یہ انتخاب محض بھارت کے حق میں نہیں بلکہ ایک ریاض اوراسلام آباد دونوں کے لئے بالواسطہ پیغام بھی ہے۔شیخ محمدبن زاید کابھارت کامختصرمگرغیرمعمولی دورہ محض رسمی ملاقات نہیں تھا۔دفاعی معاہدہ ہویا100سے200 ارب ڈالرکی تجارتی شراکت اصل نکتہ دفاع نہیں بلکہ معیشت ہے۔ یواے ای نے بھارت کو مستقبل کا راکت دار منتخب کیا ہے، بکہ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔
اسی تصویرمیں پاکستان کامقام خاصاًمعنی خیز ہے۔یواے ای کے صدر پاکستان آئے، مگردارالحکو مت کی بجائے فوجی کینٹ گئے،کوئی بڑاتجارتی معاہدہ نہ ہوا،سرمایہ کاری کاکوئی واضح اعلان سامنے نہ آیا۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک خاموش سفارتی اشارہ تھاکہ پاکستان کے ساتھ تعلق اب زیادہ ترسیکورٹی تک محدود ہے، معیشت تک نہیں۔پاکستان خلیجی ممالک کودفاعی خدمات، فوجی تربیت اور سیکورٹی فراہم کرتاہے،مگراس کے بدلے نہ برآمدات بڑھتی ہیں،نہ سرمایہ کاری،صنعت، ٹیکنالوجی اورطویل مدتی تجارت اس تعلق کاحصہ نہیں بن سکیں۔یہ توازن خطرناک حدتک یک طرفہ ہوچکاہے۔
یہاں پاکستان ایک خاموش مگراہم عنصرکے طو پرسامنے آتاہے۔سعودی عرب پاکستان کودفاعی ستون اوراسٹریٹجک ضمانت سمجھتا ہے جبکہ یواے ای کاجھکا ؤتیزی سے بھارت کی طرف بڑھ رہاہے۔یہ فرق مستقبل میں خلیجی سیاست کوجنوبی ایشیاکی طاقتوں سے براہِ راست جوڑدے گا۔یہ سوال یہاں ناگزیرہوجاتا ہے کہ کیا یواے ای نے بھارت کاانتخاب سعودی اثرسے توازن پیداکرنے کے لئے کیا؟ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں، مگرحالیہ معاہدوں نے اسے مزیدمضبوط کیاہے۔ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اوریہی حقیقت اسے خلیجی سیاست میں ایک حساس عنصربناتی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں امریکا کونظرانداز کرنا خودفریبی ہوگی۔واشنگٹن بھارت کوچین کے مقابلے میں مرکزی مہرہ سمجھتا ہے، جبکہ یواے ای اس کاقریبی اتحادی ہے۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات اورغزہ امن بورڈ میں شمولیت اسی حکمتِ عملی کاحصہ ہیں۔یوں یو اے ای کابھارت کی طرف جھکاؤبڑی حدتک امریکی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔امریکا، اسرائیل اور بھارت پر مشتمل غیراعلانیہ ٹرائکا چین روس بلاک کے مقابلے میں صف بندہے۔ پاکستان چونکہ چین کاقریبی اتحادی،سی پیک کامرکز،روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات رکھتاہے، اس لئے اس پردباؤ فطری ہے۔
گزشتہ برس مئی کی پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کی عسکری صلاحیت کوعالمی سطح پرسراہاگیا،مگریہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ عسکری برتری معاشی کشش کا نعم البدل نہیں۔دنیااب یہ نہیں دیکھتی کہ کون بہتر لڑ سکتاہے،بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ کون سرمایہ محفوظ رکھ سکتا ہے، کون طویل مدتی منافع دے سکتاہے،اورکون عالمی سپلائی چین کاحصہ ہے۔اس میدان میں پاکستان پیچھے ہے۔
یہ کہناجذباتی لگ سکتاہے،مگرحقیقت یہ ہے کہ امریکا،اسرائیل اوربھارت پرمشتمل غیراعلانیہ صف بندی پاکستان کومعاشی طورپر کمزور دیکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ آزادخارجہ پالیسی نہ اپنا سکے مگربیرونی دباؤتب ہی کارگر ہوتاہے جب اندرونی کمزوریاں موجودہوں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی بحران یہی ہے کہ وہ آج کوبچانے میں کل کوکھودیتی ہے۔قرض، بیل آٹ اوروقتی سہارااس کا محور بن چکے ہیں،جبکہ معاشی طاقت کی تعمیرنظر انداز ہورہی ہے۔
(جاری ہے)