Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ کہناجذباتی لگ سکتاہے،مگرحقیقت یہ ہے کہ امریکا،اسرائیل اوربھارت پرمشتمل غیراعلانیہ صف بندی پاکستان کومعاشی طورپر کمزور دیکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ آزادخارجہ پالیسی نہ اپنا سکے مگربیرونی دباؤتب ہی کارگر ہوتاہے جب اندرونی کمزوریاں موجودہوں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی بحران یہی ہے کہ وہ آج کوبچانے میں کل کوکھودیتی ہے۔قرض، بیل آئوٹ اوروقتی سہارااس کا محور بن چکے ہیں،جبکہ معاشی طاقت کی تعمیرنظر اندازہورہی ہے۔یہی فرق ہے بھارت اور پاکستان میں۔ اگر پاکستان واقعی خطے میں مؤثر کردارچاہتا ہے تواسے خارجہ پالیسی کومعیشت سے جوڑناہوگا۔ روس، چین اورممکنہ طورپرترکی و ایران کے ساتھ دفاعی وسیاسی کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی بڑھانی ہوگی۔کسی ایک خلیجی کیمپ کااندھا حصہ بننے کے بجائے توازن کی پالیسی اپنائی جائے۔
سعودی عرب اوریواے ای کے درمیان بڑھتا ہوا تنائو،یواے ای بھارت معاہدہ،اورپاکستان کی سفارتی پوزیشن یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔سعودی عرب اوریو اے ای کے درمیان موجودہ تناکوئی حادثہ نہیں بلکہ طاقت کی نئی تقسیم کانتیجہ ہے۔یہ کہانی بتاتی ہے کہ دنیابدل چکی ہے اورطاقت کا معیار بھی۔دنیا جذبات سے نہیں،معیشت،حکمتِ عملی اور مستقل فیصلوں سے چلتی ہے۔ اگرہم نے اب بھی سبق نہ سیکھاتو آنے والے برسوں میں ایسے معاہدے معمول بن جائیں گیاورہم ہرباریہی سوال دہراتے رہیں گے کہ آخر ہمارے ساتھ ایساکیوں ہوا؟
اس پورے منظرنامے کاسب سے تکلیف دہ پہلویہ ہے کہ پاکستان آج خودکوایک ایسے مقام پرکھڑا پاتا ہے جہاں اس کے پاس شکایات تو بہت ہیں، مگرمؤثر جوابات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ افغانستان کاہاتھ سے نکل جانا،بھارت کاوہاں اثرورسوخ بڑھانا،خلیجی ممالک کا پاکستان کومحض سیکیورٹی پارٹن سمجھنااور سرمایہ، تجارت وٹیکنالوجی کے دروازے بندہونا یہ سب کسی ایک بیرونی سازش کانتیجہ نہیں بلکہ اندرونی کمزوریوں، غلط ترجیحات اورپالیسی کی غیرمستقل مزاجی کا حاصل ہے۔
یہاں یہ سوال مقتدراشرافیہ،ریاستی فیصلہ سازوں اورپالیسی سازی کے مراکزسے براہِ راست پوچھناناگزیرہوچکاہے کیاہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ریاستیں جذبات،قربانیوں اورماضی کی خدمات کے اعتراف پرچلتی ہیں؟یاپھریہ حقیقت ماننے کوتیارہیں کہ آج کی دنیا صرف معیشت،ادارہ جاتی استحکام اورمستقل حکمتِ عملی کومانتی ہے؟اب وقت آگیاہے کہ پاکستان خودسے سچ بولے۔ افغانستان کاہاتھ سے نکل جاناکسی ایک واقعے یاایک حکومت کی ناکامی نہیں،بلکہ برسوں پرمحیط غلط پالیسیوں،ادارہ جاتی کمزوریوں اورغیر شفاف فیصلہ سازی کانتیجہ ہے۔یہی ماڈل اگرخلیجی ممالک کے ساتھ بھی دہرایاگیاتونقصان صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی اوراسٹریٹجک ہو گا۔
یہ سوال اب ٹالنے کے قابل نہیں رہاکہ کیا پاکستان کی بیوروکریسی آزادانہ طورپرقومی مفادمیں پالیسی سازی کے قابل نہیں رہی؟یاپھر کچھ نادیدہ قوتیں ہیں جو ریاستی ڈھانچے کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں اورریاستی ڈھانچے کواس اندا میں کنٹرول کررہے ہیں کہ جہاں ایماندار،باصلاحیت، پیشہ وراوراصول پسندافسران کوان کی دیانت کی سزااوایس ڈی بناکر دی جارہی ہے جیساکہ اس سے قبل میرے ایک مضمون میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے ؟اگرپالیسی وہ لوگ بنائیں گے جن کی اولین ترجیح قومی مفاد کی بجائے کسی مخصوص مافیاء، گروہ یاوقتی فائدے کاتحفظ ہو،پالیسیاں مخصوص مفادات کے تابع رہیں،یہی مافیا اپنے فائدے کے لئے ایسی پالیسیاں جاری کریں تونتیجہ یہی نکلے گاکہ ملک ایک بارپھرمعاشی دیوالیہ پن کے دہانے پرجاکھڑاہوگا۔
دنیااب قربانیوں کی کہانیاں نہیں سنتی،دنیا سرمایہ، استحکام اوراعتماددیکھتی ہے۔عسکری صلاحیت اہم ہے، مگر معاشی طاقت کے بغیر وہ سفارتی اثرنہیں بن سکتی۔ پاکستان اگر واقعی خطے میں باوقارکردار چاہتاہے تواسے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو صرف سیکورٹی تک محدودرکھنے کی بجائے تجارت، صنعت،ٹیکنالوجی اورسرمایہ کاری سے جوڑناہوگا۔اسی طرح روس،چین،ترکی اور ایران کے ساتھ توازن پرمبنی اسٹریٹجک ہم آہنگی ناگزیرہوچکی ہے۔
یہ مضمون ایک داخلی احتساب کی دعوت ہے۔ یہ کسی فرد، ادارے یاریاست پرالزام نہیں،بلکہ ایک تنبیہ ہے۔دنیابدل چکی ہے،طاقت کامعیار بدل چکاہے اگر پاکستان نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں توایسے معاہدے معمول بنتے جائیں گے جن میں ہماراذکر صرف ایک ثانوی کردارکے طورپرہوگا۔اگرپاکستان نے اب بھی سبق نہ سیکھاتوآئندہ برسوں میں یواے ای بھارت جیسے معاہدے معمول بنتے جائیں گے،اورہم ہرباریہی سوال دہراتے رہیں گے کہ آخرہمارے ساتھ ایساکیوں ہوا؟
ضروری ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کومعیشت،تجارت اورشراکت پراستوارکرے، یاپھروہ بدلتی دنیامیں محض سوال پوچھتارہ جائے۔ دنیابددعاؤں پرنہیں،معاہدوں،معیشت اورمستقل حکمتِ عملی پرچلتی ہے۔ریاستیں دعوئوں سے نہیں، فیصلوں سے بنتی ہیں اور فیصلوں میں تاخیراب پاکستان کے لئے سب سے بڑاخطرہ بن چکی ہے۔ قومیں سوال پوچھنے سے نہیں، جواب تیارکرنے سے آگے بڑھتی ہیں۔اوریہی وہ امتحان ہے جس میں پاکستان آج کھڑاہے۔

یہ بھی پڑھیں