Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مولانا فضل الرحمن اور گالی برگیڈ

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری کہتے ہیں کہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی کردار کشی افسوس ناک ہے ،قیادت کے خلاف ہر پروپیگنڈے کا ڈٹ کرمقابلہ کرنا آتا ہے۔دلیل کی بنیاد پر اختلاف کے جواب میں یہ رویہ افسوس ناک ہے۔شیشے کے گھر میں بیٹھ کر ہم پر پتھر نہ پھینکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں۔ کردار کشی کرنے والوں کے دامن داغ داغ اور ماضی تاریک ہے ۔ آئین کے دائرے میں شائستہ انداز سے اختلاف کیوں ہضم نہیں ہورہا ۔جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان کی سیاسی فضاء میں اختلافِ رائے ایک فطری اور جمہوری عمل ہے، مگر بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں یہ روایت کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ خصوصاً مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر اور تجربہ کار سیاسی رہنما کے خلاف کردار کشی کی مہم نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ مجموعی سیاسی کلچر کے لئے نقصان دہ بھی ہے۔ اختلاف کو دلیل سے جواب دینا جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب بات ذاتی حملوں اور جھوٹے پروپیگنڈے تک پہنچ جائے تو یہ رویہ قابلِ مذمت بن جاتا ہے۔ باشعور عوام جانتے ہیں کہ قومی امور پر مولانا کا موقف ہمیشہ سے مضبوط اور منفرد رہا ہے لیکن اس کے باوجود ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، مگر شخصی کردار پر حملے کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ پروپیگنڈہ برگیڈ کی اس کے سامنے کیا حیثیت ہے ؟ دلیل کی بجائے دشنام طرازی اور کردار کشی کو ہتھیار بنانے والے سوشل میڈیائی جاہل جان لیں کہ آج سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹ اور سچ کے درمیان حد فاصل مدہم ہو چکی ہے۔ یہی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے بعض عناصر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہیں پھینکے جاتے۔ جو لوگ دوسروں کے ماضی کو کریدتے ہیں، انہیں اپنے دامن پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ کردار کشی کرنے والوں کے اپنے دامن اگر داغ دار ہوں اور ماضی تاریک ہو تو ان کی تنقید کی اخلاقی حیثیت کمزور پڑ جاتی ہے۔سیاست میں اختلاف ایک صحت مند عمل ہے، مگر اس کی بنیاد آئین اور شائستگی پر ہونی چاہیے۔ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کرنا ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے۔ سوال یہ ہے کہ شائستہ انداز سے اختلاف کیوں ہضم نہیں ہو رہا؟ اگر کوئی رہنما حکومتی پالیسی پر سوال اٹھاتا ہے یا قومی معاملات پر تنقید کرتا ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کی ذات کو نشانہ بنا کر، جمہوریت کی روح یہی ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے اور مکالمے کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ علماء کرام ہمارے معاشرے کا قابلِ احترام طبقہ ہیں۔ ان سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر علما کرام کے خلاف زبان درازی نہ صرف ناجائز ہے بلکہ افسوس ناک بھی۔ مذہبی شخصیات کے بارے میں غیر محتاط گفتگو معاشرتی انتشار کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مذہبی قیادت نے اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کے تحفظ اور عوامی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے خلاف بے بنیاد مہمات دراصل معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ عوام باشعور ہیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا جانتے ہیں۔ اس طرح کے حربوں کا زمانہ بیت چکا، جب محض افواہوں سے رائے عامہ کو ہموار کیا جا سکتا تھا۔
آج کا قاری اور ناظر سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرتا ہے۔ اس لئے منفی مہمات زیادہ دیر تک اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی قیادت پر تنقید اگر پالیسیوں اور کارکردگی تک محدود رہے تو وہ اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ مگر جب مقصد صرف کردار کشی ہو تو اس سے نہ صرف سیاسی ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ جمہوری نظام بھی کمزور پڑتا ہے۔ سیاست میں مداخلت اور کردار کشی کے ہتھکنڈے وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر طویل المدت نقصان پورے نظام کو ہوتا ہے۔سیاسی میدان میں اتار چڑھا، مخالفتیں اور آزمائشیں نئی بات نہیں۔ جو رہنما دہائیوں سے عوامی سیاست کا حصہ رہے ہوں، وہ تنقید کا سامنا کرنا بھی جانتے ہیں اور اپنے موقف کا دفاع کرنا بھی۔ ان کے کارکن اور حامی بھی ہر محاذ پر دلیل اور آئینی راستے سے جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اختلاف کو شائستگی کے دائرے میں رکھا جائے اور شخصی حملوں سے گریز کیا جائے۔ملکی سیاست کو اس وقت سنجیدگی، برداشت اور مکالمے کی ضرورت ہے۔ معاشی چیلنجز، داخلی استحکام اور علاقائی صورتحال جیسے اہم مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے میں توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر صرف کرنے کے بجائے قومی مفاد پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ اگر ہر سیاسی قوت آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کو مقدم رکھے تو اختلاف بھی مثبت رخ اختیار کر سکتا ہے۔ کوئی انہیں بتائے کہ کردار کشی کی سیاست سے مولانا فضل الرحمن کا تو کچھ نہیں بگڑے گا،ہاں البتہ اس عمل بد کی وجہ سے ملک میں نفرتوں کی لکیر مزید گہری ہو جا ئے گی، اس خاکسار کی اپیل ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے اور اختلاف کو دشمنی میں نہ بدلا جائے۔ علماء کرام کے خلاف زبان درازی اور سیاسی قیادت کے خلاف بے بنیاد مہمات سے گریز کیا جائے۔ یہی جمہوری رویہ ہے اور یہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان۔ جب تک ہم اس اصول کو نہیں اپنائیں گے، سیاسی استحکام کا خواب شرمند ہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں