Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

لائن میں کھڑے وزیر اعلیٰ مرادعلی شاہ

ایک دوست نے اس خاکسار کے واٹسیپ پر ایک تصویر بھیجی ہے،تصویر میں دکھائی دینے والا منظر بظاہر سادہ ہے، ایک شخص کینیڈا کے ڈرائیونگ لائسنس سینٹر میں قطار میں کھڑا ہے۔ کیپشن بتاتا ہے کہ یہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ ہیں، سوال یہ نہیں کہ وہ قطار میں کیوں کھڑے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ہم اس منظر سے کیا سیکھتے ہیں اور ہمیں اپنے نظام کے بارے میں کیا سوچنا چاہیے۔یہ منظر کئی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے، ایک زاویہ یہ ہے کہ بیرونِ ملک قانون سب کے لئے برابر ہوتا ہے، یہ قانون کی بالادستی کی ایک عملی تصویر ہے۔اب آتے ہیں دوسرے رخ کی طرف، وہ یہ کہ کیا یہی شخص جب اپنے صوبے میں ہوتا ہے تو کیا عام شہری کی طرح سرکاری دفتر کی قطار میں کھڑا ہو سکتا ہے؟پاکستان میں برسوں سے اقتدار اور عوام کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہے، یہ دیوار صرف سکیورٹی یا اختیارات کی نہیں، بلکہ رویوں کی دیوار ہے۔
یہاں عہدہ ملتے ہی انسان خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ سرکاری دفاتر میں وی آئی پی کلچر عام ہے۔ ہسپتالوں میں خصوصی کمروں کا بندوبست، سڑکوں پر پروٹوکول کے نام پر ٹریفک کی بندش، اور عوام کا گھنٹوں انتظار،یہ سب ہمارے نظام کی پہچان بن چکا ہے۔ایسے میں جب کوئی طاقتور شخصیت بیرونِ ملک قطار میں کھڑی نظر آتی ہے تو ایک تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔ اگر کینیڈا میں قانون کی پاسداری ممکن ہے، اگر وہاں قطار میں کھڑا ہونا باعث شرمندگی نہیں تو پاکستان میں یہ سب کیوں ممکن نہیں؟ وہاں قانون کی حکمرانی ہے اور یہاں افراد کی کیوں؟افسوس اس بات کا نہیں کہ ایک وزیر اعلیٰ قطار میں کھڑا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں قطار میں کھڑا ہونا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی یہ تصویر ہمیں ایک آئینہ دکھاتی ہے۔ اس آئینے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مسئلہ افراد کا کم اور نظام کا زیادہ ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ادارے اتنے مضبوط ہوں کہ کوئی بھی عہدیدار قانون سے بالا تر نہ ہو، تو شاید ہمارے ہاں بھی قطار میں کھڑا ہونا معمول کی بات بن جائے۔ لیکن جب ادارے کمزور ہوں اور شخصیات طاقتور تو پھر قانون کاغذی رہ جاتا ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے خود بطور معاشرہ وی آئی پی کلچر کو فروغ نہیں دیا؟ جب ہم کسی طاقتور شخص کے لئے راستہ چھوڑ دیتے ہیں، جب ہم اس کی چاپلوسی کو معمول سمجھ لیتے ہیں، جب ہم قانون شکنی کو اثر و رسوخ کا نام دے کر جائز قرار دیتے ہیں، تو ہم بھی اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں جس پر تنقید کرتے ہیں۔اصل ضرورت نظام کی تبدیلی کی ہے۔ ایسی تبدیلی جو صرف نعروں تک محدود نہ ہو بلکہ عملی ہو۔ پولیس، انتظامیہ، ہسپتال، تعلیمی ادار ے ہر جگہ قانون اور ضابطہ سب کے لئے یکساں ہو۔ کسی کے لئے خصوصی دروازہ نہ ہو، کسی کے لئے الگ قطار نہ ہو۔ اگر وزیر اعلیٰ کو بھی اپنے صوبے میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانا ہو تو وہ بھی اسی عمل سے گزرے جس سے ایک عام شہری گزرتا ہے۔نظام کی تبدیلی کا مطلب صرف قوانین بنانا نہیں، بلکہ ان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ شفافیت، جوابدہی اور احتساب ،یہ تین ستون کسی بھی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جب تک ان ستونوں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، تب تک تصاویر بدل سکتی ہیں مگر حقیقت نہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے یا کام کرتے ہوئے کسی بھی شخص کو وہاں کے قوانین کا احترام کرنا پڑتا ہے۔
اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ یہی مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ملک میں بھی ایسا ہی مہذب نظام قائم کرنے کے خواہش مند ہیں؟ یا ہم صرف دوسروں کے نظام کی تعریف کر کے خود کو مطمئن کر لیتے ہیں؟ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو تصاویر پر واویلا کرنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپے سوالات پر غور کرے۔ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ آخر کیوں ہمارے ہاں ایک عام آدمی کو اپنی باری کے لئے دھکے کھانے پڑتے ہیں؟ کیوں سرکاری دفاتر میں سفارش اور رشوت کے بغیر کام مشکل ہوتا ہے؟ کیوں قانون کا اطلاق کمزور پر سخت اور طاقتور پر نرم نظر آتا ہے؟اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہوگا۔ ہمیں ایسے نظام کا مطالبہ کرنا ہوگا جہاں عہدہ خدمت کی علامت ہو، برتری کی نہیں۔ جہاں اقتدار ذمہ داری ہو، استحقاق نہیں۔ جہاں پروٹوکول عوام کی سہولت کے لیے ہو، نہ کہ عوام کی تکلیف کے لئے۔
مراد علی شاہ کی یہ تصویر محض ایک لمحے کی عکاسی کرتی ہے، مگر اس میں ایک پورا بیانیہ پوشیدہ ہے۔ یہ بیانیہ ہمیں بتاتا ہے کہ قانون کی بالادستی ممکن ہے،اگر ارادہ ہو۔ یہ بتاتا ہے کہ قطار میں کھڑا ہونا ذلت نہیں، بلکہ مساوات کی علامت ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ جب تک ہمارے ہاں بھی یہی اصول رائج نہیں ہوں گے، تب تک ترقی کے دعوے کھوکھلے رہیں گے۔لہٰذا افسوس کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم سنجیدہ مکالمہ شروع کریں۔ نظام کی اصلاح محض ایک شخص یا ایک جماعت کا کام نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ہر شہری برابر ہو، تو ہمیں وی آئی پی کلچر کو مسترد کرنا ہوگا، قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوگا اور اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔شائد تب کسی دن ایسی تصویر پاکستان کے کسی سرکاری دفتر کی ہو،جہاں ایک وزیر اعلیٰ عام شہریوں کے ساتھ قطار میں کھڑا ہو اور کسی کو حیرت نہ ہو وہ دن حقیقی تبدیلی کا دن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں