(گزشتہ سے پیوستہ)
جہاں طاقت کامعیاراخلاق نہیں بلکہ اثرورسوخ ہے۔ایسی طاقت جس کا تعلق نہ اخلاق سے ہے، نہ قانون سے،بلکہ محض قربت اوروفاداری سے ہے۔یہ وہ طاقت ہے جواداروں کوکمزوراورافراد کومضبوط کرتی ہے۔یہ جملہ محض تحسین نہیں،بلکہ طاقت کی ایک نئی تعریف ہے،ایسی طاقت جوقانون سے نہیں بلکہ اثرورسوخ سے جنم لیتی ہے اورایسی قوت جواداروں سے نہیں بلکہ شخصیات سے وابستہ ہوتی ہے۔آذربائیجان، پیراگوئے اورہنگری جیسے ممالک کو ایک ہی سانس میں دنیاکے طاقتورلوگوں کی صف میں کھڑاکرنا،اس حقیقت کو آشکارکرتاہے کہ طاقت اب اصولوں کی نہیں،صف بندی کی مرہونِ منت ہے۔جہاں چھوٹے ممالک بھی بڑی طاقتوں کے سائے میں خودکومحفوظ سمجھنے لگے ہیں۔
آج انڈیامیں اس سوال پرسنجیدہ بحث جاری ہے کہ آیااسے بورڈآف پیس میں شامل ہوناچاہیے یانہیں۔کئی سابق سفارتکاراس کی مخالفت کررہے ہیں، اس بنیادپرکہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803سے متصادم ہے،جوغزہ کی عبوری انتظامیہ کے لئے پہلے ہی ایک واضح،مدت بنداورجواب دہ فریم ورک فراہم کرچکی ہے۔اس قراردادکی مدت ،رپورٹنگ کی شرائط اوروقتی حیثیت اس بات کی ضمانت ہیں کہ یہ بندوبست مستقل عالمی ماڈل نہ بنے۔
بورڈآف پیس اس قراردادکے بالمقابل ایک ایساادارہ ہے جس کی نہ مدت مقررہے،نہ جواب دہی کاواضح نظام۔اس کے برعکس بورڈ آف پیس غیرمعینہ مدت کاحامل ہے۔براہِ راست سلامتی کونسل کوجواب دہ نہیں اوراس کے اختیارات ایک فردکے گردمرکوز ہیں۔ یہ فرق محض انتظامی نہیں بلکہ فلسفیانہ ہییہ قانون کی بالادستی اورشخصی اقتدارکے درمیان فرق ہے۔انڈیاکی یہ خاموشی نہ مکمل انکارہے،نہ واضح قبولیت۔یہ اس کشمکش کی علامت ہے جس میں ایک متعصب ہندتواطاقت یہ سوچ رہی ہے کہ شامل ہوکراصول قربان کیے جائیں؟ یاالگ رہ کراثرورسوخ کھودیاجائے؟یہی وہ مخمصہ ہے جسے تاریخ بارباردہراتی ہے،اورجس میں قوموں کاقدناپا جاتاہے۔ تاہم انڈیاکی خاموشی کی زبان تذبذب کاکھلااظہارہے۔
پاکستان،ترکی،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کی شمولیت اس حقیقت کی غمازہے کہ عالمی سیاست میں فیصلے ہمیشہ اصولوں کی بنیادپرنہیں ہوتے۔کچھ ممالک نے اس بورڈکو امیدکے طورپر دیکھا،کچھ نے خوف کے تحت قبول کیا،اور کچھ نے محض سیاسی مصلحت کے تقاضے پورے کیے۔
سلامتی کونسل کی قراردادکے تحت قائم نظام کی مدت31دسمبر2027ء تک ہے اوراسے ہرچھ ماہ بعدرپورٹ پیش کرنالازم ہے۔اس کے برعکس، بورڈ آف پیس کی نہ کوئی مقررہ مدت ہے اورنہ اس کادائر اختیارغزہ تک محدود دکھائی دیتاہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں تشویش جنم لیتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جوادارے مدت کے بغیرقائم کئے گئے،وہ جلدیابدیر اقتدارکے قلعے بن گئے۔ بورڈآف پیس کی غیرمعینہ حیثیت اسے ایک ایسے تجربے میں بدل دیتی ہے جس کاانجام پیش گوئی سے باہر ہے۔ یہ ادارہ،اپنی ساخت میں،اقوامِ متحدہ سے زیادہ ایک نجی کلب کاتاثردیتاہے،جہاں شمولیت، اخراجات اوراثرورسوخ سب ایک ہی مرکزسے پھوٹتے ہیں۔یہ بورڈ،جس کی کوئی معیاد مقرر نہیں ، محض شراکت داری نہیں بلکہ نجی کلب کا تاثر دیتا ہے ۔ تنخواہیں،اخراجات اورمستقل رکنیت سب ٹرمپ کی صوابدیدسے جڑے ہیں۔یہ صورتحال امریکی صدارت کوعالمی سیاست میں غیرمعمولی تقویت دیتی ہے اوریہی امردنیابھر میں تشویش کاسبب بن رہاہے۔
بورڈکے حامی انڈین سفارتکاروں کامقف ہے کہ انڈیاکی شرکت گلوبل ساتھ کے خدشات کوتقویت دے گی مگرناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگرفیصلہ سازی کامرکزواشنگٹن میں ہو،تودہلی کی آوازکہاں تک سنی جائے گی؟اندیشہ یہ ہے کہ انڈیاکی موجودگی محض اسرائیلی موقف کی نرم توثیق بن کرنہ رہ جائے۔ بورڈآف پیس کے چارٹرمیں ٹرمپ کوجوغیرمعمولی اختیارات دیے گئے ہیںویٹو، تقرری،برطرفی،تحلیل اورجانشینی وہ کسی بھی جمہور ی یاکثیرالقومی ادارے کے تصورسے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ اختیارات ادارے کونہیں،شخص کو مضبوط کرتے ہیں۔ جہاں چیئرمین مطلق العنان حیثیت کاحامل نظرآتاہے۔
اقوامِ متحدہ کے بعض عہدیداریہ عندیہ دے چکے ہیں کہ بورڈآف پیس کاماڈل دیگرتنازعات پربھی لاگوکیاجاسکتا ہے۔اسی وجہ سے بہت سے حلقے اسے اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طورپردیکھ رہے ہیںاوریہ تصورعالمی نظام کے لئے ایک گہراسوال بن چکاہے۔ اقوامِ متحدہ کے بعض عہدیداروں کایہ اشارہ کہ یہ ماڈل دیگرتنازعات میں بھی استعمال ہوسکتاہے،اس خدشے کوتقویت دیتاہے کہ بورڈ آف پیس ایک متوازی عالمی نظام کی بنیادرکھ رہا ہے۔خودٹرمپ کے بیانات اس بورڈکے کردار پر شکوک کومزیدگہراکرتے ہیں۔ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان میں ٹرمپ کے ذاتی دوست،سابق برطانوی وزیرِاعظم،داماد، اور امریکی کارپوریٹ دنیاکے نمائندے شامل ہیں۔ یہ فہرست غیرجانبداری سے زیادہ قربت کاپتہ دیتی ہے اور ٹرمپ سے وفاداری کادائرہ کارمضبوط نظرآتاہے۔
اقوامِ متحدہ،اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود، ایک اصول کی نمائندہ ہے۔یہ اصول کہ دنیاصرف طاقت سے نہیں،بلکہ قانون سے چلنی چاہیے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد2803،جس میں غزہ کی عبوری نگرانی کے لئے واضح مدت اورجواب دہی کا نظام موجودہے،اسی اصول کی مثال ہے۔بورڈ کے حامی انڈین سفارتکاروں کاکہناہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کوچیلنج نہیں کررہا،کیونکہ اس کی نمائندگی محدود ہے ۔ وہ اسے جی20کے متوازی ایک فورم قرار دیتے ہیں،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آج کے محدودفورم کل کے فیصلہ کن مراکزبن جایاکرتے ہیں۔
پاکستان کامؤقف بظاہرواضح ہے:جنگ بندی،انسانی امداداورتعمیرِنومگرچارٹرکی مبہم شرائط خصوصاً رکنیت کی مدت اورمالی اختیاراتیہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آیایہ شمولیت وقتی ہے یاطویل المدت وابستگی۔انڈیاکے لئے یہ شمولیت ایک خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اگربورڈآف پیس نے مستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات پر توجہ دی،تودہلی کے لئے اس فورم سے الگ رہنامشکل ہوجائے گا۔
بورڈآف پیس نہ تواس قراردادکاپابندہے،نہ کسی واضح عالمی فورم کوجواب دہ،یہی وجہ ہے کہ اسے اقوامِ متحدہ کامتبادل یاکم ازکم اس کے اختیارکوچیلنج کرنے کی کوشش سمجھاجارہاہے ۔ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ انڈیاکی شرکت گلوبل ساتھ کے خدشات کو تقویت دے گی۔مگرناقدین کاخیال ہے کہ اگرفیصلہ سازی کامحورایک طاقتورملک ہو،تودیگر ممالک کی موجودگی محض علامتی رہ جاتی ہیاوریہی خدشہ انڈیاکے حوالے سے ظاہرکیاجا رہا ہے۔ بورڈآف پیس کاقیام اس پس منظرمیں ہورہاہے جب امریکانیٹوکوغیرمثرقراردے رہاہے۔اقوامِ متحدہ کے درجنوں اداروں سے علیحدگی اختیارکرچکا ہے اوراپنی خارجہ پالیسی کوطاقت،دبااورسودے بازی کی بنیادپر استوار کررہاہے۔یہ سب مل کرایک ایسے سامراجی وژن کی تشکیل کرتے ہیں جس میں امن،اقتدارکاتابع بن جاتاہے۔
(جاری ہے)