Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بدی بے حیائی ظلم وزیادتی

معاشرہ انسانوں کے مجموعے کا نام ضرور ہے، لیکن اس کی اصل روح اس کے اخلاق، اقدار اور کردار میں پنہاں ہوتی ہے۔جب کسی قوم کے اندر حیاء، عدل، دیانت اور باہمی احترام جیسی صفات زندہ ہوں تو وہ قوم عزت و وقار کی بلندیوں کو چھوتی ہے اور جب یہی اوصاف ماند پڑ جائیں تو اخلاقی زوال اس کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ موجودہ دور میں ہمارا معاشرہ جن اخلاقی و سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں بے حیائی، ظلم و زیادتی اور بدکرداری سرفہرست ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ قومی تشخص اور تہذیبی بنیادوں کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے لئے عزت، حیاء اور تقوی کو زینت قرار دیا۔ لیکن افسوس!آج کا مسلمان معاشرہ اس زینت کو بھلا بیٹھا ہے۔ فحاشی و عریانی کا سیلاب ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں اور بازاروں میں در آیا ہے۔ ’’حیاء ‘‘ جو ایمان کا حصہ تھی، وہ اجنبیت اختیار کر چکی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود احتسابی کریں آخر وہ کون سے اسباب ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرتی وقار اور دینی تشخص کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے؟ اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو خدانخواستہ وہ دن دور نہیں جب ہماری تہذیب و ثقافت مغربی تباہی کی عکاس بن جائے گی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان کے کوچہ و بازار فحاشی وعریانی کے سیلاب میں گھر چکے ہوں،صرف کوچہ و بازار ہی نہیں،بلکہ سکول ،کالجز اور یونیورسٹیاں بھی،اللہ پاک بحیثیت قوم ہم سب کو فحاشی وعریانی کے اس سیلاب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین،اللہ تبارک و تعالیٰ جہاں عدل و انصاف اور صلہ رحمی کا حکم فر ماتا ہے۔ وہاں ظلم و زیادتی اور بے حیائی کے کاموں سے منع فرماتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو(النحل،90)
ہر قبیح خصلت جس کی برائی عقلی اور قانونی طور پر خراب ہو جس سے اللہ تعالیٰ منع فرمائے وہ فاحشہ یا فحشا کہلاتی ہے، اس لئے ان اعمال سے بھی روکا گیا ہے ایسے لباس کے استعمال سے بھی منع کیا گیا ہے جو جسم کی نمائش کرے ،کیونکہ اس سے جنسی اشتعال پیدا ہوتا ہے جو برائی کی طرف دھکیلتا ہے۔ فحاشی، عریانی، جنسی اشتعال انگیزی اورجرائم کی ہر خلاف ورزی برائی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔فحاشی کو فروغ دینے والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے،یہی وجہ ہے کہ اس وقت امت مسلمہ اور بالخصوص مسلمانان پاکستان جس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں وہ پوری دنیا جانتی ہے وطن عزیز میں قتل و غارت گری، لوٹ مار، کرپشن، مہنگائی، سیلاب، طوفان، بے پردگی،بے حیائی، ہمارے لئے پریشان کن ہے اگر کوئی قوم بے حیائی میں مبتلا ہو کر کھلم کھلا اس کا ارتکاب کرنے لگے تو اس قوم میں طاعون اور وہ بیماریاں پھیل جاتی ہیں، جن کا نام ماضی میں نہ سنا گیا ہوں(سنن ابن ماجہ) آج ہم دیکھتے ہیں کہ جب معاشرے میں حیا ء ناپید ہوتی جا رہی ہے اور بے حیائی کا سیلاب ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا تو کیسے کیسے اخلاقی جرائم سر اٹھا رہے ہیں، اپنوں اور غیروں کا فرق تک ختم ہوگیا ہے۔ بے حیائی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ الامان و الحفیظ ، آخر یہ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ کوئی اس معاشرے کو دیکھ کر نہیں کہہ سکتا کہ ایک اسلامی ملک ہے کیونکہ اس کا حال بھی مغرب سے کچھ کم نہیں ، جس تباہی کے دہانے پر آج مغربی دنیا پہنچ چکی ہے اس بے حیائی کے سبب اسی تباہی کے دہانے پر آج پاکستان پہنچ چکا ہے،فتنوں پے فتنے سر اٹھا رہے ہیں،مزید کس فتنے کا انتظار ہے؟ روشن خیالی کے نام پر تاریکیاں مسلط کی جا رہی ہیں، بے حیائی ایک سیلاب کی صورت میں چھا گئی ہے، کسی شادی پر جا کے عوام الناس کی حیاء کی صورت دیکھ لیں لباس کے نام پر بے لباسی عیاں ہے، تعلیم کے نام پر کیا پڑھایا جا رہا ہے اور مخلوط تعلیم لازم،یہ سب اس بڑھتی بے حیائی کا نتیجہ ہے، اگر اب بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے اور فحاشی و عریانی فروغ کو نہ روکا گیا اس کی مذمت نہیں کی گئی تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستانی معاشرہ تباہی کے گڑھے میں گر جائے گا اور شائد پھر کبھی نہ اٹھ سکے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جائو وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں (الانعام151)
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں