(گزشتہ سے پیوستہ)
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جوادارے مدت اوراحتساب کے بغیرقائم ہوتے ہیں،وہ جلدیابدیر طاقت کے قلعے بن جاتے ہیں۔بورڈ آف پیس کی غیرمعینہ حیثیت اسے ایک ایسے ادارے میں بدل دیتی ہے جوامن کی بجائے اثرورسوخ کودوام دے سکتاہے۔ایک سابق سفارتکارکے بقول،چونکہ بورڈ کے چیئرمین خود صد رٹرمپ ہیں،اس لیے ان کے لین دین پرمبنی طرزِ سیاست میں غیرجانب دار انصاف کی توقع رکھنا مشکل ہے۔یہ بھی واضح نہیں کہ آیااس بورڈمیں تمام ممالک کی حیثیت یکساں ہوگی یانہیں۔یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انڈیاکی موجودگی گلوبل ساتھ کے خدشات کوتقویت دے گی،مگرسوال یہ ہے کہ کیاوہ آوازواقعی سنی جائے گی؟ناقدین کاکہنا ہے کہ انڈیادرپردہ اسرائیلی مؤقف کاترجمان بن سکتاہے، جواس کی غیرجانبداری پرسوالیہ نشان ہوگا ۔
بورڈآف پیس ایک ایسے وقت میں وجودمیں آیاہے جب امریکااقوامِ متحدہ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے اوراقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں سے دستبردار ہو رہا ہے۔یہ ادارہ ایک یک قطبی عالمی نظام کومضبوط کرسکتا ہے،جس کے برعکس بظاہرانڈیا کثیرقطبی دنیاکا داعی ہے لیکن اندرونِ خانہ امریکا کے مفادات کے لئے شب وروزکام بھی کررہاہے ۔ بورڈآف پیس کے چارٹرمیں صدرٹرمپ کوجو اختیارات دئیے گئے ہیں وہ کسی جمہوری ادارے سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ ایگزیکٹوبورڈمیں شامل افراداکثریاتوامریکی شہری ہیں یاٹرمپ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کو جنگ بندی،انسانی امداداورغزہ کی تعمیرِنوسے جوڑا ہے۔ یہ نیت اپنی جگہ قابلِ فہم ہے،مگر رکنیت کی مدت اورمالی شرائط کے ابہام نے کئی سوالات کوجنم دیاہے۔چارٹرکی مبہم شرائط یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیانیک نیتی،غیر واضح نظام میں محفوظ رہ سکتی ہے؟کئی ممالک نے اسے اپنی اہمیت کے اعتراف یاامریکی دباکے تحت قبول کیا ہے۔ ماہرینِ خارجہ امورکے مطابق،بورڈکے چارٹرمیں یہ واضح نہیں کہ رکن ممالک کن شرائط کے پابندہوں گے، چارٹر کی تشریح کااختیارکس کے پاس ہوگا اور اختلاف کی صورت میں کیاراستہ اختیارکیاجائے گا۔
یواے ای،سعودی عرب،اسرائیل اورترکی کی شمولیت انڈیاپردبابڑھاسکتی ہے،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دبائومیں لیاگیافیصلہ اکثر پائیدارنہیں ہوتا۔ انڈیاکے لئے سب سے بڑاخدشہ یہ ہے کہ اگر بورڈ آف پیس نے مستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات کواپنے دائرے میں لیا، توانڈیاکی دیرینہ پالیسی تیسرے فریق کی عدم مداخلت خطرے میں پڑسکتی ہے۔یہ بورڈایک ایسے وقت میں وجودمیں آیاہے جب امریکانیٹوسے غیر مطمئن اوراقوامِ متحدہ کے کئی اداروں سے دستبرداری خارجہ پالیسی کو سودے بازی میں بدل چکی ہے،یہ سب ایک سامراجی ذہنیت کی نشانیاں ہیں۔ انڈیا کے معتبر اخباردی ہندوکے مطابق،نہ اصول اورنہ عملی تقاضے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایسا فیصلہ عجلت میں کیا جائے، انڈیاکوخوف یاناراضگی کے ڈرسے فیصلہ نہیں کرناچاہیے۔
ادھرلیک شدہ چارٹرکے مطابق،بعدکی ترامیم میں غزہ کاذکرتک ختم کردیاگیااوربورڈکو دیگر تنازعات تک پھیلانے کی تجویزشامل کی گئی جواقوامِ متحدہ کے متبادل کاتاثرمضبوط کرتی ہے۔ پاکستان کااس بورڈمیں شامل ہوناانڈیاکے لئے ایک واضح اشارہ ہے،خصوصاً اس صورت میں اگرمستقبل میں کشمیرجیسے تنازعات کوبھی اس فورم پرلایاگیا۔ خصوصاکشمیرکے تناظر میں،جہاں ٹرمپ ثالثی کی خواہش ظاہرکرچکے ہیں۔یہاں سوال امن کانہیں، اطاعت کابنتاجارہاہے۔امن اگرسوال کرنے کی آزادی چھین لے،تووہ امن نہیں ، ظلم ہے۔
حضرات!ٹرمپ کی جانب سے نیٹواوراقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری عالمی نظام کوعدم استحکام سے دوچارکررہی ہے۔ قومیں فیصلوں سے پہچانی جاتی ہیں،اورادارے اپنے انجام سے۔بورڈ آف پیس بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑاہوگا، جہاں اس سے پوچھا جائے گاکہ کیاتم نے امن کو مضبوط کیا،یاطاقت کو؟ یہ پس منظربورڈ آف پیس کی نوعیت کو مزید حساس بنادیتاہے۔
ٹرمپ نے کینیڈاکی دعوت منسوخ کرنے کی وجہ واضح نہیں کی،مگریہ حقیقت سامنے ہے کہ مارک کارنی نے چندروزقبل امریکی زیرِ قیادت عالمی نظام پرتنقیدکی تھیاوریہی تنقید شاید ناپسندکی گئی۔کارنی کی دعوت کی منسوخی شایدڈیوس میں امریکی زیر قیادت نظام پرکی گئی ان کی تنقیدکاردعمل تھی۔یہ سوال آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب امن کوطاقت کے تابع کیاجارہاتھا، تم کہاں کھڑے تھے؟مارک کارنی کی دعوت کی منسوخی اس بات کی علامت ہے کہ بورڈآف پیس اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے لئے تیارنہیں۔یہ واقعہ ادارے کے مزاج کوعیاں کرتاہے یہاں شمولیت اطاعت کے بغیر ممکن نہیں۔یہ ادارہ ہم آوازچاہتاہے،ہم خیال نہیں۔یہ وقت ہے کہ دنیافیصلہ کرے،اصول کی سیاست یا مصلحت کی سیاست۔دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔
چارٹرکے مطابق،ٹرمپ کوفیصلے ویٹوکرنے، ارکان کی تقرری وبرطرفی،حتی کہ پورے بورڈکو تحلیل کرنے اورجانشین نامزدکرنے کے اختیارات حاصل ہیںجو کسی بھی کثیرالقومی ادارے میں غیرمعمولی اور جمہوری ادارے کے لئے خطرناک ہیں۔جہاں انصاف نہیں،وہاں امن محض وقفہ ہوتا ہے ۔ یہ بورڈایک ایسے سامراجی وژن کے تحت قائم ہورہاہے جہاں طاقت،قبضہ اورغلبہ خارجہ پالیسی کے اوزار بن چکے ہیں اورامریکی خارجہ پالیسی میں طاقت، غلبے اور وسائل پر کنٹرول کاتصورنمایاں ہوچکاہے۔یہ صرف انڈیا یا پاکستان کامسئلہ نہیں،یہ عالمی ضمیرکا امتحان ہے۔کیادنیا اداروں کوافرادکے تابع کردے گی یاافراد کو قانون کے؟
بورڈآف پیس بظاہرامن کااستعارہ ہے،مگراس کے باطن میں طاقت کی وہی پرانی سیاست سانس لے رہی ہے جس نے دنیاکوبارہازخم دئیے ہیں۔تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امن وہی پائیدار ہوتاہے جوانصاف کی بنیاد پرقائم ہو،نہ کہ طاقت کے سائے میں۔اب سوال یہ ہے کہ تاریخ کس کے حق میں فیصلہ دے گی؟تاریخ ہمیں بارباریہ سبق دیتی ہے کہ وہ ادارے دیرپاہوتے ہیں جوقانون کے تابع ہوں،نہ کہ افرادکے۔ انڈیاہو یا پاکستان،گلوبل ساؤتھ ہویامغربی دنیایہ فیصلہ سب کو کرنا ہے کہ وہ امن کواصول کی بنیاد پرچاہتے ہیں یاطاقت کی نگرانی میں۔
امن کوئی عطیہ نہیں،ایک،خلاق عہدہے۔ اورجب تک یہ عہدانصاف ، شفافیت اورجواب دہی کے بغیر قائم کیاجائے گا،تاریخ اسے قبول نہیں کرے گی۔امن کوئی ادارہ نہیں،کوئی بورڈ نہیں، کوئی قراردادنہیں، ایک اخلاقی عہدہے،جو انصاف ، شفافیت اورجواب دہی کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا۔ اگر بورڈآف پیس ان اصولوں کامحافظ بنے،تو تاریخ اسے خوش آمدیدکہے گی اوراگریہ طاقت کے تسلسل کاذریعہ بنا،تو تاریخ اسے بھی اپنے کٹہرے میں کھڑاکرے گی۔ فیصلہ آج نہیں،مگر فیصلہ ہوگااوروہ فیصلہ تاریخ کرے گی۔