Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بدی بے حیائی ظلم وزیادتی

(گزشتہ سے پیوستہ)
ارشاد باری تعالیٰ ہے اے لوگو!جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلواس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا (النور21) حدیث میں ارشاد ہے جب تم میں حیاء نہ رہے تو جو جی چاہے کرو(سنن ابو دائود)اس سلسلے میں صاحب اقتدار لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ بد کاری کے اڈے ختم کریں۔ بداخلاقی کی ترغیب دینے والے قصے، اشعار، گانے، تصویریں، کلب، ہوٹل اور تفریح گاہیں جن میں مخلوط میل جول اور رقص و سرور کی محفلیں جمتی ہیں کی اشاعت فحش کے تمام ذرائع کا سدباب کرے اور ان جرائم پر باقاعدہ سزا دی جائے بے راہ روی کی ایک وجہ بے پردگی بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاٹ سمجھ کر اس کوبالکل ختم کر دیا ہے جبکہ حضور اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق پردے کی سختی سے تلقین فرمائی ہے۔محرم اور نا محرم کا امتیاز پیدا کر کے قوانین و ضوابط ارشاد فر مائے ہیں تاکہ ممکنہ برائی کو پھیلنے ہی نہ دیا جائے، جو آگے چل کر اسلامی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اس سلسلہ میں ازواج مطہرات کو بھی گھروں سے نکلنے کی ممانعت کر دی گئی تھی۔بدقسمتی سے فیشن پرستی اور دوسروں کی نقالی میں آج کل مسلمان بہت آگے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں، اس سے ایک طرف تو اسلامی اقدار مجروح ہوتی ہیں تو دوسری طرف معاشرے میں بگاڑ کے یہی لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں، حضورﷺ نے فرمایا ہے لعنت ہے ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں،حقیقت میں جہاں ہر شخص معاشرے کی اصلاح یا بگاڑ کا خود ذمہ دار ہوتا ہے وہاں معاشرے کو سدھارنے کی ذمہ داری حکام پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے قوانین پر عمل درآمد کریں اور لوگوں کو کرائیں جن سے معاشرہ بگاڑ کی طرف آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحی پہلو نکل سکے۔ نبی کریمﷺ نے زندگی بسر کرنے کا اسلوب لوگوں کو عملی طور پر سکھائے مسلمانوں کو بیکار ، فضول کاموں،گفتگو،کھیل تماشے کو وقت کی بر بادی گناہ کا ارتکاب فرمایااور ان سے منع فرما کر اپنی صلاحیتوں کو بامعنی اور تعمیری کاموں میں صرف کرنے پر زور دیا اور اس کی اصلاح اپنے گھر سے شروع کرنے کی تلقین فر مائی۔آج معاشرہ بدامنی،بے چینی، کے دور سے گزر رہا ہے۔قتل و غارت گری، دہشت گردی، ڈاکے، رہزنی،نسل کشی، زنا، شراب نوشی اور قمار بازی کا بازار گرم ہے۔شرعی احکام کی پابندی کے بجائے ان سے مذاق کیاجا رہا ہے اور نفرت پیدا کی جارہی ہے۔ایسے میں اس کی اصلاح کے لئے اسلامی احکامات کو بحیثیت نظام زندگی غالب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جو ایک صالح قیادت ہی کر سکتی ہے عصمت کی حفاظت اور بے حیائی کا سد باب کرنے کے لئے اسلام نے عورتوں کے لئے پردہ لازم قرار دیااور ساتھ ہی مردوں پر پابندی ہے کہ وہ غیر محرم عورتوں کی طرف لالچ بھری نظروں سے نہ دیکھیں بلکہ نگاہیں پست رکھنے کا حکم آیا ہے،کیونکہ ایسی نگاہ ڈالنے سے فتنہ کا ڈر ہوتا ہے جس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح عورتوں پر محارم کے علاوہ دوسروں کو دیکھنا حرام قرار دیا گیا ہے خواہ وہ بری نیت سے ہو یا کسی نیت کے بغیر ہو بلکہ نابینا مردوں سے بھی پردہ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔خوش نما لباس پہننا، زیور،سر منہ، ہاتھ وغیرہ کی آرائش جو عمو ماً عورتیں کرتی ہیں اس کو صرف اپنے خاوند کے لئے جائز قرار دیا گیا ہے باریک لباس زیب تن کرنا بھی منع ہے جس سے جسم نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کی بد اعمالیاں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں تو پہلے خدا کی رحمت اور قانون اسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر لے۔جب ا س پر بھی وہ اپنی روش نہ بدلے تو خدا کا قانون پاداش عمل حرکت میں آتا ہے اور عذاب آخرت کے علاوہ دنیا ہی میں اسے ذلت اور پستیوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے زندگی کا سرچشمہ اور نصب العین دین اسلام ہے۔ مسلمانوں کو دنیاوی عروج اسی کے ذریعے حاصل ہوا اور آئندہ بھی اسی کے سہارے زندہ رہنا ممکن ہو سکتا ہے جو قومیں اچھے اوصاف کو اپناتی ہیں ان کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دبا سکتی کیونکہ ملک اور وطن کی صحیح خدمت بھی دین ہی کے ذریعے ہو سکتی ہے محفوظ رکھے، آمین

یہ بھی پڑھیں