Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

اسمیش، دفاعی خود انحصاری کا فکری اعلان

عصرِحاضرمیں قومی دفاع محض سرحدوں کے تحفظ کانام نہیں رہابلکہ یہ ریاستی وقار،سیاسی خودمختاری اورفکری استقلال کاآئینہ دار بن چکا ہے۔اقوامِ عالم میں وہی ریاستیں باوقارسمجھی جاتی ہیں جودفاعی اعتبارسے نہ صرف خودکفیل ہوں بلکہ اپنی قوت کے استعمال میں اخلاقی ضبط اورفکری توازن بھی رکھتی ہوں۔دفاعی ٹیکنالوجی ریاستی خودمختاری،جغرافیائی توازن اورعالمی سیاست کا ایک بنیادی ستون بن چکی ہے۔اسلام نے طاقت کونہ جارحیت کاہتھیاربنایااورنہ کمزوری کا عذر؛ بلکہ اسے عدل،تحفظ اورامن کے قیام کاذریعہ قراردیا۔قرآن کایہ ابدی اصول اور ان (دشمنوں)کے مقابلے کے لئے جہاں تک تم سے ہوسکے قوت تیاررکھو۔ہر دور میں اسلامی ریاست کے دفاعی تصورکی بنیادرہاہے۔
یہ آیت محض عسکری تیاری کاحکم نہیں،بلکہ ایک ہمہ گیرفکری منشورہے،جس میں علم،حکمت،نظم، خودانحصار ی اوراخلاقی ذمہ داری سب شامل ہیں۔تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب امت نے قوت کوعلم کے تابع رکھاتووہ عادل بھی رہی اورغالب بھی؛اورجب قوت علم و اخلاق سے جدا ہوئی تووہ فتنہ بن گئی۔ایسے ہی فکری تناظر میں، سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے ورلڈ ڈیفنس شو2026 ء میں پاکستان کی جانب سے اسمیش ہائپرسونک میزائل کی رونمائی محض ایک عسکری خبر نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اعلان،ایک فکری دستک اورایک تاریخی اشارہ ہے کہ پاکستان دفاع کومحض طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کی جانب سے اسمیش ہائپرسونک میزائل کی تیاری اسی قرآنی تصورکی جدید تعبیرہے،جس میں ٹیکنالوجی،حکمت اورذمہ داری یکجانظرآتی ہے۔
پاکستان کی دفاعی صنعت کی جانب سے ورلڈ ڈیفنس شو 2026ء میں اسمیش ہائپرسونک اینٹی شپ و لینڈ اٹیک بیلسٹک میزائل کی رونمائی محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ ایک فکری ،تہذیبی اوراسٹریٹجک اعلان ہے۔زیرِنظرمقالہ اسمیش میزائل کی تکنیکی خصوصیات، دوہرے کرداراورعالمی دفاعی تناظرمیں اس کی اہمیت کاتجزیہ کرتاہے،ساتھ ہی اسلامی تصورِ قوت،ذمہ داری اوردفاعی اخلاقیات کی روشنی میں اس پیش رفت کاتنقیدی مطالعہ پیش کرتاہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے ورلڈڈیفنس شو2026ء میں جب پاکستانی ادارہ گلوبل انڈسٹریل اینڈڈیفنس سلوشنز(جی آئی ڈی ایس)عالمی اسٹیج پر جلوہ گرہوا،تواس کی پیشکش محض ایک ہتھیارکی نمائش نہ تھی بلکہ ایک فکری اعلان تھا۔اسی موقع پر پاکستان نے اسمیش ہائپرسونک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل متعارف کراکریہ واضح کر دیا کہ وہ دفاعی صنعت میں محض صارف نہیں بلکہ خالق اورمعمارکے منصب پرفائزہوچکاہے۔یہ میزائل سمندری اہداف کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے جدیدجنگی تقاضوں کے عین مطابق بناتاہے۔
عصرِحاضرکی دنیامیں دفاعی طاقت صرف بندوق یامیزائل کانام نہیں،بلکہ اس فکری خودمختاری کااظہارہے جوکسی قوم کودوسروں کی محتاجی سے نکالتی ہے۔جی آئی ڈی ایس کی جانب سے اسمیش میزائل کی نمائش اس بات کااعلان ہے کہ پاکستان اب دفاعی صنعت میں صرف پیروکارنہیں بلکہ شریکِ مکالمہ بن چکاہے۔یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ایک ریاست اپنی بقا کودرآمدشدہ تصورات کی بجائے اپنے علمی ،سائنسی اورتہذیبی سرمائے سے جوڑتی ہے اوریہی اسلامی تصورِدفاع کی بنیادہے۔
اسمیش میزائل کوپاکستانی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈڈیفنس سلوشنز نے ورلڈڈیفنس شو2026ء ،ریاض میں متعارف کرایا۔یہ میزائل ایک جدیدہائپرسونک اینٹی شپ او لینڈ اٹیک بیلسٹک پلیٹ فارم ہے،جودوہرے کردارکی صلاحیت رکھتاہے۔یہ پیش رفت اس امرکی علامت ہے کہ پاکستان اب محض دفاعی صارف نہیں بلکہ دفاعی تخلیق کارکے درجے میں داخل ہوچکاہے۔
قرآن مجید نے اہلِ ایمان کوقوت کی تیاری کاحکم دے کردفاع کومحض عسکری سرگرمی کے بجائے ایک فکری اوراخلاقی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں دفاعی قوت ہمیشہ علم ،نظم اوراخلاق کے تابع رہی ہے۔جدید ریاستی نظام میں یہ تصوردفاعی صنعت،خود انحصاری اوراسٹریٹجک خودمختاری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان، جو طویل عرصے تک دفاعی ضروریات کے لئے بیرونی ذرائع پرانحصارکرتارہا،اب بتدریج ایک فعال دفاعی صنعت کی جانب بڑھ رہاہے۔اسمیش میزائل اسی ارتقائی عمل کی ایک نمایاں کڑی ہے۔اسمیش کوجس غیرمعمولی رفتار،عمودی زاوئیے اوردرست رہنمائی کے ساتھ تیارکیاگیاہے،وہ جدیدعسکری فلسفے کی علامت ہے۔ ہائپر سونک رفتاراورتقریباعمودی حملہ اس حقیقت کا اظہارہے کہ جنگ اب محاذوں پرنہیں بلکہ نظاموں پرلڑی جاتی ہے۔یہ میزائل جدید فضائی ومیزائل دفاعی نظاموں کوچکمہ دینے کی صلاحیت رکھتاہے،جواس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان دفاع کوصرف ردِعمل نہیں بلکہ پیش بندی ڈیٹرنس کے طورپردیکھتاہیاور یہی عقلِ سلیم کاتقاضاہے۔
اکیسویں صدی میں جنگ کامفہوم تبدیل ہو چکا ہے۔اب عسکری برتری کادارومداررفتار، درستگی اوردفاعی نظاموں کوغیرومؤثربنانے کی صلاحیت پرہے۔ ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی اسی تبدیلی کی علامت ہے،جوآوازکی رفتارسے کئی گنا تیز ہوکرردِعمل کے وقت کونہایت محدود کر دیتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ،جنوبی ایشیاء اوربحرِہندکے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے طویل فاصلے تک درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اسمیش میزائل کوغیرمعمولی رفتار،نہایت درست رہنمائی اورتقریباعمودی زاویے سے حملہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیاگیا ہے۔ یہ خصوصیات اسے جدید فضائی اورمیزائل دفاعی نظاموں کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بناتی ہیں۔یوں یہ میزائل دشمن کی حفاظتی تہوں کوچیرکراپنے ہدف تک پہنچنے کی وہ صلاحیت رکھتاہے،جسے عسکری اصطلاح میں اسٹریٹجک سرپرائز کہا جاتا ہے۔اکیسویں صدی کی جنگیں میدانوں سے زیادہ ذہنوں،رفتاراورنظاموں کے درمیان لڑی جارہی ہیں۔ عالمی دفاعی تناظرمیں ہائپرسونک ٹیکنالوجی نے عسکری توازن کویکسربدل دیا ہے ،کیونکہ یہ دشمن کے ردِعمل کاوقت کم کردیتی ہے،میزائل ڈیفنس سسٹمزکوغیرمثر بناتی ہے،محدودمگر فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔مشرقِ وسطی،بحرِ ہنداورجنوبی ایشیامیں جغرافیائی کشیدگی کے باعث ایسے ہتھیاروں کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہواہے،جس نے دفاعی صنعت کوعالمی سیاست کامرکز بنادیاہے۔
اسمیش میزائل کوجی آئی ڈی ایس نے ایک جدیدہائپرسونک بیلسٹک پلیٹ فارم کے طورپر متعارف کرایاہے،جو سمندری اورزمینی دونوں اہداف کے خلاف مؤثرکرداراداکر سکتاہے ۔اینٹی شپ ترتیب میں اسمیش میزائل کی رینج 290 کلومیٹررکھی گئی ہے۔اس میں384 کلوگرام وزنی وارہیڈ نصب ہے جبکہ رہنمائی کے لئے ایچ ڈی جی این ایس اسسٹڈاینرشیل نیویگیشن سسٹم کے ساتھ ایکٹوریڈار سِیکراستعمال کیاگیاہے۔میزائل میں سنگل اسٹیج،ڈوئل تھرسٹ سالڈراکٹ موٹرنصب ہے،جواسے تیزرفتاری اورمستحکم پروازفراہم کرتی ہے۔
اینٹی شپ ترتیب میں وارہیڈاور ایکٹوریڈار سِیکرکے ساتھ اسمیش میزائل بحری جنگ کے اصولوں میں ایک نیاباب کھولتاہے۔سمندر،جو تجارت، توانائی اورجغرافیائی سیاست کا مرکز بن چکاہے،وہاں دفاعی برتری اب ناگزیرہوچکی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی درستگی ’’سی ای پی‘‘میٹریا اس سے کم ہے،جبکہ آخری مرحلے میں اس کی رفتارآوازسے دوگنا زیادہ ہوسکتی ہے، جواسے سمندری جنگ میں ایک مہلک ہتھیاربناتی ہے۔یہ خصوصیات اسمیش کوبحری دفاع میں ایک فیصلہ کن ہتھیاربناتی ہیں،خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں جدید میزائل ڈیفنس سسٹمزموجودہوں۔اسلامی تاریخ میں بحری قوت کوہمیشہ اہمیت دی گئی چاہے وہ خلافتِ عثمانیہ ہویااندلس۔اسمیش اسی روایت کاجدید مظہر ہے، جہاں سمندرکو کمزوری نہیں بلکہ تحفظ کاذریعہ بنایاگیاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں