Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

رمضان المبارک:اور ہماری ذمہ داریاں

ماہِ رمضان اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جو اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ محض ایک مہینہ نہیں بلکہ روحانی بیداری اور اصلاحِ باطن کا زمانہ ہے۔ گویا یہ وہ مرحلہ ہے جس میں بندہ اپنے باطن کو سنوارتا اور اپنے معمولات کو ترتیب دیتا ہے تاکہ اس مہینۂ صیام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ عبادات میں اضافہ، نفلی عبادات کا اہتمام، تلاوتِ قرآن کی کثرت اور دعا و استغفار کی پابندی دراصل اسی کیفیت کا حصہ ہیں۔مشہور عالمِ دین ابن رجب حنبلی نے اپنی معروف تصنیف لطائف المعارف میں لکھا ہے کہ عبادت کی کثرت اس لیے کی جاتی ہے تاکہ انسان کا نفس اطاعت کا عادی ہو جائے۔ ان کے نزدیک رمضان بندگی کا نقطۂ عروج ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو عبادت کے ماحول کا خوگر بنا لیتا ہے تو رمضان کی ساعتیں اس پر بوجھل نہیں ہوتیں بلکہ لذت بخش محسوس ہوتی ہیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل بھی اسی حقیقت کا آئینہ دار تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی مسلمان قرآن کی طرف خصوصی توجہ دیتے اور اپنی زکوٰۃ ادا کرتے تاکہ نادار اور محتاج لوگ رمضان کے دوران کسی پریشانی کے بغیر عبادت کر سکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کا استقبال محض الفاظ یا نعروں سے نہیں بلکہ عملی تیاری اور معاشرتی ذمہ داری کے احساس سے ہوتا تھا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:”شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ” (البقرۃ: 185)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رمضان کا اصل تعلق قرآن سے ہے۔ یہ ہدایت، بصیرت اور حق و باطل میں امتیاز کا مہینہ ہے۔ چنانچہ اس مہینے کا استقبال اسی وقت بامعنی ہوگا جب ہم اپنے تعلقِ قرآن کو مضبوط کرنے کا عزم کریں گے۔ اگر ہماری توجہ صرف ظاہری معمولات تک محدود رہے اور دل کی دنیا میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو یہ استقبال محض رسمی رہ جائے گا۔عصرِ حاضر میں “استقبالِ رمضان” کے عنوان سے مختلف تقریبات منعقد کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بعض عرب ممالک، خصوصاً مصر اور شام سے یہ روایت دیگر مسلم معاشروں تک پہنچی۔ ہمارے ہاں بھی رمضان سے قبل محافل، خطابات اور خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ بلاشبہ ان کا مقصد لوگوں کو رمضان کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور عبادت کی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے، جو ایک قابلِ تحسین جذبہ ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہی رمضان کا حقیقی استقبال ہے؟ اگر یہ سرگرمیاں محض رسم بن جائیں، یا ان میں نمود و نمائش شامل ہو جائے، تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ دین کے معاملات میں اصل معیار قرآن و سنت اور سلف صالحین کا طرزِ عمل ہے۔ ان کے ہاں رمضان کا استقبال عملی تیاری، نفس کی اصلاح اور عبادت کی رغبت بڑھانے سے ہوتا تھا، نہ کہ مخصوص تقریبات کے اہتمام سے۔رمضان کا سچا استقبال خود احتسابی سے شروع ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے اوقات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم انہیں کہاں صرف کر رہے ہیں۔ کیا ہم فضول مشاغل میں گھنٹوں ضائع کر دیتے ہیں جبکہ عبادت کے لیے وقت نہیں نکال پاتے؟ اگر ہم رمضان کے آغاز ہی سے اپنے معمولات میں تبدیلی لے آئیں، غیر ضروری مصروفیات ترک کر دیں اور اپنے شیڈول کو عبادت کے موافق بنا لیں تو یہی بہترین طرزِ عمل ہوگا۔ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ رمضان کے دوران ہمارا قرآن سے تعلق کیسا ہوگا۔ کیا ہم صرف ختمِ قرآن کی تعداد بڑھانے پر توجہ دیں گے یا اس کے پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش بھی کریں گے؟ قرآن کا نزول محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ ہدایت کے لیے ہوا ہے۔ اگر ہم اس پہلو کو نظر انداز کر دیں تو رمضان کی اصل روح ہم سے دور رہ جائے گی۔رمضان صرف انفرادی عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا بھی زمانہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رمضان میں زکوٰۃ ادا کر کے اس بات کا اہتمام کرتے تھے کہ معاشرے کا کوئی فرد محرومی کا شکار نہ ہو۔ آج ہمارے معاشرے میں بھی ضرورت ہے کہ ہم ایثار اور ہمدردی کو فروغ دیں۔ افسوس کہ بعض اوقات رمضان کے دوران مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے منفی رجحانات بھی سامنے آتے ہیں، جو اس مبارک مہینے کی روح کے منافی ہیں۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں رمضان کا استقبال کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں عدل، دیانت اور سخاوت کو اپنانا ہوگا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم نے دین کو اکثر رسمی مظاہر تک محدود کر دیا ہے۔ رمضان آتا ہے، مساجد آباد ہو جاتی ہیں، تراویح میں رش بڑھ جاتا ہے، مگر اگر ہمارے اخلاق میں بہتری نہ آئے تو یہ سب عارضی کیفیت رہ جاتی ہے۔ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے، یعنی دل میں اللہ کی عظمت اور جواب دہی کا احساس پیدا ہونا۔ اگر یہ احساس ہمارے اندر راسخ ہو جائے تو ہماری زندگی کے ہر پہلو میں تبدیلی آ سکتی ہے۔رمضان ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ یہ مہینہ ہمیں صبر، شکر، نظم و ضبط اور ایثار سکھاتا ہے۔ اگر ہم نے ان اوصاف کو اپنی مستقل عادت بنا لیا تو رمضان کے بعد بھی اس کی برکتیں ہمارے ساتھ رہیں گی۔آخر میں یہی کہنا مناسب ہے کہ استقبالِ رمضان ایک عظیم تصور ہے، مگر اس کا مفہوم محض تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اصل استقبال یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو پاک کریں، اپنی نیت کو درست کریں اور اپنی زندگی کو عبادت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو یقیناً رمضان ہمارے لیے رحمت، مغفرت اور نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔ ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ یہ مبارک مہینہ بھی دیگر مہینوں کی طرح گزر جائے اور ہم حسرت ہی کرتے رہ جائیں کہ ہم نے اس سے کیا حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھیں