Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

خاص ذہنوں کے لئے خاص مقام ضروری ہے

آپ نے شاعری میں یہ جملہ ضرور سنا ہوگا، یہ کہاں آگئےہم، مگر آج جو سوال ہمارے سامنے ہے وہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے: یہ کہاں جا رہے ہیں ہم؟ اب معاملہ کسی ایک غلط فیصلے یا وقتی بحران تک محدود نہیں رہا بلکہ اب پورا رخ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہمارے بہترین دماغ خاموشی سے اپنا سامان باندھ رہے ہیں۔ ہر قابل نوجوان کے ذہن میں یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا اس ملک میں اس کے لیے واقعی کوئی جگہ ہے؟ ہجرت جذباتی فیصلہ نہیں ہوتی بلکہ امید کے ٹوٹنے کے بعد اٹھایا جانے والا قدم ہوتی ہے۔ جب عزت، تحفظ، میرٹ اور ترقی کے مواقع میسر نہ ہوں تو انسان زمین سے زیادہ اپنے مستقبل کو ترجیح دیتا ہے۔ ہزاروں ڈاکٹر ملک چھوڑ چکے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ ہر جانے والا ڈاکٹر صرف ایک فرد نہیں بلکہ برسوں کی محنت، تجربہ اور خدمت کا جذبہ بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ جب علاج کرنے والے ہاتھ کم ہو جائیں تو بیماری صرف جسموں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورا نظام بیمار ہو جاتا ہے۔یہ صورتحال صرف ایک شعبے تک محدود نہیں۔ انجینئرز بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔
معاشی ماہرین مستحکم اور سنجیدہ نظام چاہتے ہیں جہاں ان کی رائے کو اہمیت دی جائے، آئی ٹی اور تحقیق سے وابستہ افراد ایسے ماحول کے متلاشی ہیں جہاں جدت کی حوصلہ افزائی ہو۔ مگر یہاں اکثر میرٹ سفارش کے نیچے دب جاتا ہے، صلاحیت سیاست کی نذر ہو جاتی ہے اور محنت کو وہ مقام نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ کیوں جا رہے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیوں رکیں؟ کیا انہیں یقین ہے کہ قانون ان کا محافظ ہے؟ کیا انہیں اعتماد ہے کہ ان کی قابلیت ضائع نہیں ہوگی؟ جب ناانصافی عام ہو جائے، بدامنی مستقل سایہ بن جائے اور کرپشن معمول بن جائے تو سب سے پہلے حساس اور باصلاحیت ذہن راستہ تلاش کرتے ہیں۔ جو نظام کو بہتر بنا سکتے تھے وہی سب سے پہلے مایوس ہو رہے ہیں، جبکہ طاقت کے مراکز اپنی جگہ مضبوطی سے قائم ہیں اور مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔اگر یہی روش جاری رہی تو یہ مسئلہ صرف اعلی تعلیم یافتہ طبقے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہنر مند افراد بھی بہتر وقار اور مواقع کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں گے۔ کیونکہ انسان صرف روزگار نہیں بلکہ عزت اور تحفظ بھی چاہتا ہے۔ خاص ذہنوں کے لیے خاص مقام ضروری ہوتا ہے؛ انہیں اعتماد، تحقیق کا ماحول، شفاف نظام اور برابر کا انصاف درکار ہوتا ہے۔ کامیاب قوموں نے اپنے ذہنوں کو محفوظ بنایا، تعلیم اور تحقیق کو ترجیح دی، اداروں کو مضبوط کیا اور میرٹ کو بنیاد بنایا، اسی لیے ان کے نوجوان ملک چھوڑنے کے بجائے ملک بنانے میں مصروف ہیں۔
ہمیں بھی تعلیم کو سیاست سے آزاد کرنا ہوگا، اداروں کو جوابدہ اور خودمختار بنانا ہوگا۔ قانون کو طاقتور کے تابع کرنے کے بجائے سب کے لئے برابر بنانا ہوگا۔حکومت کو نئی اصلاحات لانی ہوں گی۔ ایسے ماہر اور قابل افراد کے لئے نئے پروٹوکول بنانا ہوں گے۔ مثال کے طور پر ان کا شناختی کارڈ عام پاکستانی سے الگ ہونا چاہیے، ان کے لیے ٹیکس کی شرح کم ہونی چاہیے، اور انہیں ایسی مراعات ملنی چاہئیں جس سے انہیں اپنی اہمیت کا احساس ہو اور یہ یقین ہو کہ ریاست نہ صرف ان کی عزت کرتی ہے بلکہ ان کی خصوصی اہمیت کو بھی سمجھتی ہیاور سب سے بڑھ کر، نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کا مستقبل اسی سرزمین سے جڑا ہوا ہے۔اگر آج ہم نے سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ کھوکھلا ہوتا جائے گا۔ باہر سے عمارتیں کھڑی رہیں گی، سڑکیں بنتی رہیں گی، منصوبے اعلان ہوتے رہیں گے، مگر اندر سے خالی پن بڑھتا جائے گا۔ کیونکہ قومیں اینٹوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ ہوش میں آنا ہوگا، اور دیر ہونے سے پہلے جاگنا ہوگا۔یہ مسئلہ کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ادارے کا نہیں۔ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ والدین کو بھی سوچنا ہوگا، اساتذہ کو بھی، حکمرانوں کو بھی، اور خود نوجوانوں کو بھی کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔پاکستان کو زمین کی نہیں، ذہنوں کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ان ذہنوں کے لیے سازگار ماحول پیدا نہ کیا تو ایک دن ہمیں احساس ہوگا کہ ہمارے پاس سب کچھ تھا سوائے مستقبل کے۔فیصلہ ابھی کرنا ہے۔ کیونکہ جب ذہن ہجرت کر جائیں تو واپسی صرف یادوں میں رہ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں