Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

آئینی حقوق سے عملی مساوات تک کا سفر

قوموں کی پائیدار تعمیر ہمیشہ اس اصول پر ہوئی ہے کہ ہر انسان کو اس کی مکمل انسانی حیثیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے اور یہی اصول ہمیں صنفی مساوات کی بحث تک لے آتا ہے۔صنفی مساوات محض ایک سماجی اصطلاح نہیں بلکہ ایک فکری اور آئینی تصور ہے جو انسانی وقار، مساوی مواقع اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل سے جڑا ہوا ہے۔ انسانی تاریخ میں عورت کی حیثیت یکساں نہیں رہی۔ قدیم تہذیبوں میں اکثر عورت کو ثانوی درجہ دیا گیا، اسے جائیداد، سیاست اور تعلیم کے حق سے محروم رکھا گیا۔ تاہم وقت کے ساتھ فکری بیداری کی تحریکوں نے اس رویے کو چیلنج کیا۔ برصغیر میں بھی اصلاحی تحریکوں نے عورت کی تعلیم اور سماجی مقام کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ تحریکِ پاکستان میں خواتین کی شرکت اس امر کا ثبوت تھی کہ آزادی کی جدوجہد صرف مردوں تک محدود نہیں تھی۔ جلسوں، جلوسوں، طبی امداد اور سیاسی سرگرمیوں میں خواتین کا فعال کردار ایک نئے شعور کی علامت تھا۔
قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام نہ کریں۔ محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی جدوجہد اس وژن کی عملی تصویر تھی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں قانون سازی کے میدان میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قوانین، تیزاب گردی کے خلاف سخت سزائیں اور گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی اہم اقدامات ہیں۔ ان قوانین نے ریاست کے عزم کا اظہار کیا کہ صنفی تشدد ناقابل قبول ہے۔ سیاسی نمائندگی کے لیے مخصوص نشستوں کا نظام بھی آئینی ڈھانچے کا حصہ ہے جس کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کو نمائندگی دی گئی۔ بلدیاتی اداروں میں خواتین کی شمولیت نے نچلی سطح پر فیصلہ سازی میں ان کی آواز کو تقویت دی۔معاشی میدان میں صورتحال نسبتاً پیچیدہ ہے۔ موجودہ حکومت نے صنفی مساوات کے فروغ کے لیے بعض اہم اقدامات کیے ہیں۔جیسا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تسلسل اور اس میں توسیع نے لاکھوں خواتین کو براہ راست مالی امداد فراہم کی جس سے ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہوا۔ احساس پروگرام اور اس کی مختلف اسکیموں نے کم آمدنی والے گھرانوں میں خواتین کو مالی سہارا دیا۔ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام نے شفافیت کو بہتر بنایا اور خواتین کو مالیاتی نظام سے منسلک کیا۔ بعض صوبوں میں خواتین کے لئے خصوصی پولیس اسٹیشنز اور ہیلپ لائنز کا قیام بھی ایک مثبت قدم ہے جس سے متاثرہ خواتین کو قانونی معاونت تک رسائی ملی ہے۔ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری تربیت کے پروگراموں کے ذریعے خواتین کو آن لائن معیشت میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں خواتین کی شرکت بڑھانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ وہ جدید معیشت کا فعال حصہ بن سکیں۔ تعلیم صنفی مساوات کی بنیاد ہے۔ جب تک لڑکیوں کی شرح خواندگی میں نمایاں اضافہ نہیں ہوگا، وہ اپنے آئینی حقوق سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہو سکیں گی۔ دیہی علاقوں میں اسکولوں کی کمی، سکیورٹی مسائل اور معاشی مجبوریوں کے باعث بہت سی بچیاں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں۔
میڈیا بھی اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ عورت کو باوقار، باصلاحیت اور خودمختار کردار کے طور پر پیش کریں تو معاشرتی ذہن سازی میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ نصابِ تعلیم میں بھی صنفی توازن اور مساوی کرداروں کی نمائندگی ضروری ہے تاکہ نئی نسل برابری کو فطری حقیقت کے طور پر قبول کرے۔عدالتی نظام میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ خواتین سے متعلق مقدمات کے فوری فیصلے، قانونی معاونت کی فراہمی اور گواہوں کے تحفظ کا مؤثر نظام خواتین کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔ پولیس میں خواتین کی بھرتی بڑھانا اور انہیں ان کی قابلیت کے مطابق منصب دینا بھی وقت کی ضرورت ہے۔صنفی مساوات مرد اور عورت کے درمیان مسابقت کا نام نہیں بلکہ باہمی تکمیل کا اصول ہے۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی آبادی کے ہر فرد کو قومی دھارے میں شامل کرتی ہیں۔ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ اگر انہیں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تو ملک کی ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ آئینِ پاکستان نے ہمیں واضح راستہ دکھایا ہے، مگر اس راستے پر چلنے کے لیے مستقل مزاجی اور اجتماعی عزم درکار ہے۔اختتاماً یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صنفی مساوات کوئی مغربی نعرہ نہیں بلکہ انسانی وقار کا بنیادی تقاضا ہے۔ یہ اس آئینی عہد کی تکمیل کا نام ہے جو ریاست نے اپنے شہریوں سے کیا تھا کہ وہ ہر فرد کو بلا امتیاز مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرے گی۔ اگر عورت کو تعلیم، روزگار، تحفظ اور فیصلہ سازی میں برابر کا حصہ نہیں ملتا تو ترقی کا دعویٰ ادھورا رہ جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کے اقدامات امید کی ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں۔جب بیٹی خود کو محفوظ، بااختیار اور باوقار محسوس کرے گی، جب اس کی آواز کو سننا روایت نہیں بلکہ معمول بن جائے گا اور جب آئین کی دفعات معاشرتی رویوں میں ڈھل جائیں گی، تب ہم اعتماد سے کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنے قومی اور آئینی وعدے کو پورا کر دیا ہے۔ ایک منصف، متوازن اور باوقار پاکستان کی تعمیر اسی شعور اور اجتماعی عزم سے ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں