مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ پیچیدہ رہی ہے، مگر حالیہ حالات نے اس پیچیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگر حالات کو گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر بھی سامنے آتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پوری صورتحال میں وہ کچھ نہیں ہو رہا جو بظاہر نظر آ رہا ہے، بلکہ پردے کے پیچھے ایک طویل اور صبر آزما حکمتِ عملی کام کر رہی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ امریکہ کے جاسوس نے اپنا کام ایران میں نہیں بلکہ ایران کے جاسوس نے اپنا کام وائٹ ہاؤس میں پورا کیا ہے۔ یہ بات شاید سننے میں عجیب لگے، مگر اگر پچھلے بیس سال کی سیاست اور واقعات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو اس خیال میں وزن محسوس ہوتا ہے۔ ایران گزشتہ دو دہائیوں سے جس قسم کی تیاری کر رہا تھا، اس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے نادانستہ طور پر ایران کا ہی کام آسان کر دیا ہے۔ایران نے میدان سجایا، ایران نے جال بچھایا اور ہزاروں میل دور اپنے ہوم گراؤنڈ سے امریکہ کو اس جال میں پھنسا لیا۔ امریکہ نے شاید یہ سمجھا کہ وہ طاقت کے زور پر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا، لیکن ایران اس صورتحال کو جنگ کے طور پر نہیں بلکہ ایک طویل لڑائی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ جنگ اور لڑائی میں فرق ہوتا ہے۔ جنگ میں فوری فیصلہ ہوتا ہے جبکہ لڑائی طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ایران کی حکمت عملی یہی نظر آتی ہے کہ وہ اس لڑائی کو زیادہ سے زیادہ طویل کرے۔ ایران جانتا ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے۔ جتنا یہ تنازعہ لمبا ہو گا، اتنا ہی امریکہ کے اتحادی اس سے دور ہوتے جائیں گے اور امریکہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑی طاقت اپنے گھر سے ہزاروں میل دور طویل تنازعے میں الجھتی ہے تو اس کے نتائج اکثر اس کے حق میں نہیں نکلتے۔ایران شاید اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے لیے ہر گزرتا دن ایک موقع ہے جبکہ امریکہ کے لیے یہی وقت ایک بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مالی، سیاسی اور عسکری دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنے اتحادیوں کے سہارے میدان میں اترتا ہے اور وہی اتحادی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگیں تو وہ ملک خود کو ایک مشکل صورتحال میں پاتا ہے۔اسی لیے شاید دس دن کے اندر ہی اسرائیل کو بھی اس حقیقت کا احساس ہونا شروع ہو گیا ہے کہ یہ لڑائی آسان نہیں ہوگی۔ ایران نے برسوں کی تیاری کے بعد اپنے وسائل اور حکمت عملی کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ وہ فوری شکست سے بچ سکے اور مقابلے کو طول دے سکے۔ اس قسم کی حکمت عملی اکثر کمزور سمجھے جانے والے فریق استعمال کرتے ہیں تاکہ طاقتور فریق کو تھکا دیا جائے۔یہاں سوال صرف ایران اور امریکہ یا ایران اور اسرائیل کا نہیں بلکہ پورے خطے کا ہے۔ عرب ریاستیں اس خطے کی اہم طاقتیں ہیں اور ان کے فیصلے آنے والے وقت کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ ان کا اصل دوست کون ہے اور اصل دشمن کون۔مجھے لگتا ہے کہ عرب ریاستوں کو اپنی خارجہ پالیسی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ دہائیوں سے ان کا جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا ہے، مگر بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں شاید انہیں نئے راستوں پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ اگر وہ اپنے خطے میں امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں تو انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ مستقبل کی عالمی طاقتیں کون سی ہیں اور ان کے ساتھ کس طرح کے تعلقات فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں چین ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر مزید مضبوط ہو کر سامنے آئے گا۔ چین کی معاشی طاقت، اس کی سرمایہ کاری اور اس کا نسبتاً غیر مداخلت پسند رویہ بہت سے ممالک کے لیے کشش کا باعث بن رہا ہے۔ عرب ریاستوں کے لیے بھی یہ ایک قابلِ غور راستہ ہو سکتا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ عرب ریاستوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات شاید انہیں سلامتی کے بجائے مزید تنازعات میں الجھا سکتے ہیں۔ اس خطے کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں طاقت کے توازن میں معمولی تبدیلی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر دانشمندی سے فیصلے نہ کیے گئے تو امن و سکون کی وہ چڑیا جو اس خطے میں کبھی کبھار دکھائی دیتی ہے، شاید ہمیشہ کے لیے اڑ جائے۔آج بھی موقع موجود ہے کہ آنکھیں کھول کر حالات کا جائزہ لیا جائے۔ عالمی سیاست میں کوئی بھی ملک مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتا، بلکہ قومی مفادات ہی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ عرب ریاستوں کو بھی اسی اصول کے تحت اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔مجھے لگتا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ خطے کے ممالک جذبات کے بجائے حکمت اور بصیرت کے ساتھ فیصلے کریں۔ اگر انہوں نے بروقت درست سمت کا انتخاب کر لیا تو ممکن ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے۔ لیکن اگر پرانی روش برقرار رہی تو خطرہ یہی ہے کہ یہ خطہ طویل عدم استحکام اور کشمکش کا شکار رہے گا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو موقع دیتی ہے جو حالات کو سمجھ کر بروقت فیصلے کرتی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس خطے کے حکمران اس موقع کو پہچان پائیں گے یا نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ مستقل آنکھ بند ہونے سے پہلے آنکھ کھولنے کا یہی وقت ہے۔