Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کے ایچ خورشید کی یاد میں

11 مارچ 1987ء کو قائد اعظمؒ کے سیکرٹری اور صدر آزاد جموں کشمیر اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ان جیسے کردار اور اعلیٰ اوصاف کا حامل کوئی اور سیاستدان نظر نہیں آتا۔ کے ایچ خورشید سے میری پہلی ملاقات 1984ء میں لاہور ہائی کورٹ کے عقب میں ٹرنر روڈ پر ان کے دفتر میں میرے بڑے بھائی طارق محمود چوہدری کے ہمراہ ہوئی۔کے ایچ خورشید سے ملنے کا اشتیاق اس وجہ سے تھا کہ اُس شخصیت سے ملوں گا جنہوں نے قائد اعظم ؒکے ساتھ مل کر تحریک پاکستان کے فیصلہ کن دور میں شب و روز کام کیااور اپنی آنکھوں سے پاکستان بننے دیکھا تھا۔جاتے وقت میں یہی سوچ رہا تھا کہ انہوں نے برصغیر کے اہم رہنمائوں گاندھی، نہرو ، پٹیل اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت کو بڑی قربت سے دیکھا ہوگا اور وہ اُن کے بارے میں وہ کچھ بتاسکتےتھےجو عموماَ پڑھنے کو نہیں ملتا۔ پرائیویٹ سیکرٹری ہونے کے ناطے وہ قائد اعظم ؒکے ساتھ خلوت اور جلوت میں رہے اس طرح قائد کی شخصیت اور افکار کے بارے میں کوئی شخص اُن سے بہتر نہیں بتا سکتا تھا۔ پھر وہ تحریک آزادی کشمیر کے بھی چشم دید گواہ تھے اور اُن حقائق کوبڑی اچھی طرح جانتے تھے۔ آزادجموں کشمیر میں جمہوریت کی داغ بیل انہوں نے ہی ڈالی اور پھر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے آزاد جموں کشمیر کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطا لبہ کیا جس سے بہتر حکمت عملی پر کسی اور نہیں غور نہیں کیا اس طرح انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بہترین روڈ میپ دیا۔ انہی سوچوں میں مگن جب ہم اُن کے دفتر میں پہنچے تو انہوں نے خوش خلقی اوربڑی شفقت کے ساتھ ہمیںخوش آمدید کہا اور گفتگو کی ایک تفصیلی نشست ہوئی ۔
ریاست آزاد جموں کشمیر میں جمہوریت کے آغاز، تعمیر و ترقی اور مسئلہ کشمیر کو نئی جہت دینے کے لیے اپنی جماعت جموں کشمیر لبریشن لیگ قائم کی تھی۔خورشید حسن خورشید ریاست جموں کشمیرکی تمام اکائیوں یعنی وادی کشمیر، صوبہ جموں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور مہاجرین جموں کشمیر میں یکساں مقبول تھے اورسب کے مابین ایک رابطہ تھے یہ امتیاز کسی اور کشمیری رہنماء کے حصہ نہیں آیا۔کے ایچ خورشید بہت اچھی یاداشت کے مالک تھے اور اپنے کارکنوں کے نام تک انہیں یاد تھے۔ عام لوگوں سے بھی بہت اچھی طرح ملتے تھے اور ان سے مل کر کسی کو بھی کم مائیگی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ان کی موجودگی میں مجھے تقاریر کرنےکا موقع ملا جو میرے لیے ایک اعزاز ہے۔اُن کی وفات سے کچھ ہی عرصہ قبل ان کا پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مسئلہ کشمیر کے حوالے اہم خطاب سُنا اور بعد میں اُن سے ملاقات بھی ہوئی جو شائد آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ 1985 ء میں جب میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں کشمیری طلباء کی تنظیم جموں کشمیر سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کا جنرل سیکریٹری تھا تویونیورسٹی میں مسئلہ کشمیر پر ایک سیمینار منعقد کیا جس میں کے ایچ خورشید کو مہمان خصوصی کی حیثیت مدعو کیا۔ خورشیدصاحب نے کہا کہ جب مخلص سیاستدان زندہ ہوتے ہیں انہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن جب وہی دنیا سے چلے جاتے ہیں تو قوم ان کی خدمات کا اعتراف کرنا شروع کردیتی ہے۔ خورشید صاحب کا موقف تھا کہ سیاسی اور سفارتی جدوجہد سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہیے اورآزادکشمیر حکومت کو پاکستان بھی تسلیم کرے اور دنیا کے دیگر ممالک سے بھی یہ مطالبہ کیا جائے اور اس طرح آزادکشمیر حکومت خود بین الاقوامی سطح پر اپنی آزادی کی بات خود کرے۔ میرے ذاتی مشاہدہ کے مطابق بھی انہوں نے درست راستہ کی نشاندہی کی تھی ۔ جب ہم سویڈن میں مسئلہ کشمیر کی لابنگ کے لیےجاتے ہی تو اس کا واقعی احساس ہوتا ہے۔ خورشید صاحب کا کہنا تھا کہ قائد اعظم ؒکے بعد اگرحسین شہید سہروردی کو اُن کا جانشنین بنایا دیا جاتا تو پاکستان دو لخت نہ ہوتا اور آج پاکستان کے حالات بہت بہتر ہوتے
انہوں اپنی زندگی کا آخری خطاب وکلاء کنوینشن میرپور میں10مارچ 1988ء کو کیا ۔ انہوں نے وہ تاریخ ساز پیغام دیا جو آج بھی سب کے لیے مشعل راہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسان آتےجاتےرہتےہیں مگر اُن کے اصول ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور جو لوگ اصولوں کی خاطر زندہ رہتے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے امر ہوجاتے ہیں۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی خاطر جدوجہد کرنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔ بلاشبہ انہوں نے بالکل درست کہا تھا۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور اُن کے لیے جو احترام اور عزت ہے وہ شائد کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ اُن کے مخالفین بھی اُن کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ ان دامن ہر طرح کی کرپشن، لالچ اور مالی بد دیانتی سے پاک رہا جو آج کل کے سیاستدانوں کا طرہ امتیاز ہے۔ قائد اعظمؒ کے سیکرٹری، آزادکشمیر کے صدر اور قائد حزب اختلاف رہنے کے باوجود بیرسٹر کے ایچ خورشید وہ پوری عمر کرائے کے مکان میں رہے، وفات پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے ہوئی ا ور مرتے وقت جیب سے صرف 37 روپے نکلے۔ کیا آج پورے پاکستان اور آزادجموں کشمیر میں قومی سطح کا ایک بھی رہنما ہے جو اُن جیسا ہو۔

یہ بھی پڑھیں