Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

معاہدے کے نام

موجودہ دور میں مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاء کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال نے پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کا کردار نہ صرف اہم بلکہ فیصلہ کن بن چکا ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو شاید ہی کبھی ایسا وقت آیا ہو جب پاکستان کو بیک وقت اتنے حساس اور پیچیدہ علاقائی معاملات میں توازن قائم رکھنے کی ذمہ داری ملی ہو۔حالیہ دنوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ شدید بحث ومباحثےکامرکز بنا ہوا ہے۔ یہ معاہدہ کبھی قومی کامیابی اور سفارتی برتری کی علامت سمجھاجاتاتھا مگر آج بعض حلقےاسے سوالات کی زد میں لا رہے ہیں۔ عوامی سطح پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے کہ کہیں یہ معاہدہ پاکستان کو کسی ایسے تنازع میں نہ دھکیل دےجس کابوجھ اٹھانامشکل ہو۔اس معاہدے کواس کے پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ یہ کوئی معمولی سفارتی اقدام نہیں تھا بلکہ ایک ایسا قدم تھا جو اس وقت اٹھایا گیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ حالات تباہ کن جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، اور ہر لمحہ کسی بڑے تصادم کا امکان تھا۔ ایسے نازک وقت میں اس معاہدے کا ہونا پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔ اس پیش رفت کے اعلان پر نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی خوشی کا اظہار کیا گیا۔ بھارت میں سیاہ ماتم چھا گیااور پاکستانی عوام نے اسے اپنے حق میں ایک واضح برتری کے طور پر دیکھا۔مگر وقت کے ساتھ حالات نے نئی کروٹ لی ہے۔ آج وہی معاہدہ جسے کل قومی کامیابی سمجھاجارہا تھا، ایک نازک مسئلہ بن چکا ہے۔
عوامی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کو اس معاہدے کے تحت ایران کےخلاف کسی ممکنہ محاذ آرائی میں شامل ہونا پڑ سکتا ہے؟ یہ خدشات اپنی جگہ اہم ہیں،مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔بین الاقوامی معاہدےجامد نہیں ہوتے بلکہ ان کی تعبیر اور اطلاق وقت اور حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ پاکستان کی ریاست نے جب یہ معاہدہ کیا، تو اس کے پیچھے ایک واضح حکمتِ عملی کارفرما تھی۔ ایک ایسی حکمتِ عملی جو نہ صرف اس وقت پاکستان کو فائدہ پہنچاتی بلکہ اسے ایک مضبوط سفارتی پوزیشن فراہم کرتی۔ آج بھی یہی ریاست اس معاہدے کو برقرار رکھے ہوئے ہے، مگر بدلتے ہوئے حالات کے مطابق انتہائی احتیاط اور تدبر کےساتھ اسے آگےبڑھا رہی ہے۔ایران اور سعودی عرب کےدرمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک حقیقت ہے مگر اس کشیدگی میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت حالات کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا سکتی ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، مذہبی، معاشی،دفاعی اوراسٹریٹجک روابط انتہائی مضبوط ہیں۔ ایسے میں کسی ایک فریق کی جانب جھکائو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔پاکستان کی اصل طاقت اس کی غیرجانبدارانہ حیثیت میں مضمرہےجواسےایک ممکنہ ثالث کےطورپرپیش کرتی ہے۔ اگر پاکستان اس توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ نہ صرف خود کو ایک بڑے بحران سے محفوظ رکھ سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ عوامی سطح پر پیدا ہونے والی تشویش کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کےسوالات بجاہیں اورریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے حوالے سے اعتماد قائم رکھےمگر اس کےساتھ ساتھ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاستی فیصلے اکثر ایک وسیع ترتناظرمیں کیےجاتے ہیں، جن کے اثرات فوری طور پر محسوس نہیں ہوتے۔پاکستان ماضی میں بھی مشکل حالات سے کامیابی کے ساتھ نکل چکا ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران جس دانشمندی اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا گیا، وہ ایک مثال ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے آج بھی امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اس نازک صورتحال میں درست فیصلے کرے گا۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خطے میں موجود دیگر عالمی اور علاقائی طاقتیں بھی اس صورتحال کی شدت کو بڑھا رہی ہیں۔
ایران اورسعودی عرب کے درمیان تنازع کے علاوہ خلیجی ریاستیں اور بڑی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت پاکستان پر دبائو ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی حکمتِ عملی میں تحمل، توازن اور سفارت کاری کی صلاحیت کا مظاہرہ انتہائی ضروری ہے۔ معاہدے کے اصل مقصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے کسی جارحانہ کارروائی کا جواز نہیں بلکہ ایک متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا وسیلہ ہے۔ پاکستان کی ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی میں شامل ہونا پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں۔ بلکہ پاکستان کا کردار ہمیشہ سے امن قائم رکھنے اور فریقین کے درمیان ثالثی کا رہا ہے۔اس معاہدے کے ذریعے پاکستان نے یہ پیغام دیا ہے کہ خطے میں پیدا ہونے والے کشیدگی کے حالات میں ذمہ داری کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے قومی مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر پاکستان اس توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو وہ مستقبل میں ایک مضبوط اور بااثر ریاست کے طور پر ابھرے گا۔آخرکار، کسی بھی معاہدے کی اصل کامیابی اس کے اطلاق میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اس معاہدے کو صحیح معنوں میں بروئے کار لاتا ہے، تو یہی معاہدہ جو آج سوالات کی زد میں ہے، کل ایک بار پھر کامیابی کی علامت بن سکتا ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی ریاست نے دانشمندی، صبر اور حکمت کے ساتھ قدم بڑھایا۔ یہ روایت آج بھی زندہ ہے، اور امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان موجودہ خطے میں پیدا ہونے والے بحران کو بھی اسی مہارت اور توازن کے ساتھ قابو میں لے گا۔معاہدے کے نام پر پیدا ہونے والی یہ بحث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر قومی اور بین الاقوامی قدم کا اثر صرف آج یا کل پر نہیں بلکہ آنے والے برسوں پر بھی پڑتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی، ریاست کی حکمت عملی، اور عوامی اعتماد یہ تینوں عناصر آج خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور یہی عوامل پاکستان کو ایک ذمہ دار، مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر بااثر ریاست کے طور پر پیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں