دنیا اس وقت ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ بظاہر ہر طرف امن کی باتیں ہو رہی ہیں، عالمی فورمز پر استحکام کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ امن کی تلاش میں دنیا اس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں جو تھوڑا بہت سکون موجود تھا، وہ بھی دائو پر لگ چکا ہے۔ حالیہ کشیدگی نے، جو ایران اور امریکا کے درمیان سامنے آئی، اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ طاقت کی سیاست میں سب سے بڑی قیمت ہمیشہ امن کو چکانا پڑتی ہے۔اس کشمکش میں ہونے والے نقصانات کو اگر صرف اعداد و شمار کی نظر سے دیکھا جائے تو تصویر اُدھوری رہتی ہے۔ جانی و مالی نقصانات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اصل نقصان اس اعتماد، سکون اور استحکام کا ہے جو اس خطے کی پہچان بن چکا تھا۔ عرب ریاستیں، جو گزشتہ دہائیوں میں ترقی، استحکام اور نسبتا امن کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اب ایک نئے اضطراب کا شکار نظر آتی ہیں۔ یہ اضطراب صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ کوئی بھی جنگ دائمی نہیں ہوتی۔ آج نہیں تو کل، یہ کشیدگی بھی اپنے انجام کو پہنچے گی۔ ایران اپنی جغرافیائی حیثیت کے ساتھ برقرار رہے گا، جبکہ امریکا کا اس خطے میں کردار بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ اس معرکے میں فتح کس کی ہوئی اور شکست کس کا مقدر بنی، اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا باقی بچے گا؟ کیا اس خطے کا وہ توازن دوبارہ قائم ہو سکے گا جو برسوں کی محنت سے تشکیل پایا تھا؟تباہ شدہ عمارتیں اور برباد معیشتیں وقت کے ساتھ دوبارہ کھڑی کی جا سکتی ہیں، لیکن اعتماد اور تحفظ کا احساس وہ نازک عناصر ہیں جن کی بحالی آسان نہیں ہوتی۔ اس جنگ نے اس خطے میں ایک ایسی دراڑ ڈال دی ہے جو وقتی طور پر تو شاید بھر جائے، مگر اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ یہی دراڑ مستقبل کی سیاست، معیشت اور تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔اعتماد کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب یہ بنیاد کمزور پڑ جائے تو نہ صرف معیشت متاثر ہوتی ہے بلکہ اجتماعی نفسیات بھی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہے۔
حالیہ صورتحال نے اسی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، اور وہ یقین جو برسوں کی محنت سے قائم ہوا تھا، اب ایک نئی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں عوامی سطح پر بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس خطے نے بڑی طاقتوں پر حد سے زیادہ انحصار کر کے ایک طرح کا اندھا اعتماد اختیار کیا، جس کی قیمت اب چکائی جا رہی ہے۔ بدلتے ہوئے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ریاستیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، خود انحصاری کو فروغ دیں اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنائیں۔ صرف اسی صورت میں ایک پائیدار اور باوقار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔کوئی بھی ملک سپر پاور دوسروں ممالک کی غلط پالیسیوں کے باعث بنتا ہے، مگر اس کا سپر پاور کا درجہ ہمیشہ اپنی ہی غلطیوں سے زوال پذیر ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کی برتری کا خاتمہ شروع ہوا اور امریکہ نے عالمی قیادت کی بنیاد رکھی۔ آج ایک بار پھر تاریخ کروٹ لیتی دکھائی دے رہی ہے، اور ایران کی حالیہ جنگ ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھتی محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ تبدیلیاں وقتی طور پر چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں، مگر بعید نہیں کہ یہی حالات مستقبل میں ترقی کے نئے مواقع بھی فراہم کریں۔آنے والے برس اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ دراڑ کتنی گہری ہے اور اسے بھرنے میں کتنا وقت درکار ہوگا۔ وقتی بہتری ممکن ہے، مگر مکمل بحالی ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوگا۔ یہ حالیہ جنگ آج نہیں تو کل ختم ہو جائے گی، مگر اس کے اثرات کے لئے کیا دنیا تیار ہے؟ کیا عالمی معیشت اس ممکنہ تباہی کے اثرات کو برداشت کر پائے گی؟ بظاہر ایک فریق کی غلطی ہو سکتی ہے، مگر اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑتا ہے اور اس کے آثار اب ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اسی سلسلے کی ایک نمایاں کڑی بنتا جا رہا ہے۔ یوں ایک کی غلطی کی سزا سب پر بھاری پڑنے والی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ یہ دراڑ مکمل طور پر کبھی ختم نہیں ہوگی، تاہم امید کی جانی چاہیے کہ اس کے باوجود ایک نیا توازن، ایک نیا اعتماد اور ایک پائیدار امن جنم لے، جو اس خطے کے لئے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کر سکے۔