سورۃ الرحمٰن قرآنِ مجید کی ان سورتوں میں سے ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ دل میں اترتی ہیں۔ یہ سورۃ مکہ مکرمہ میں اس دور میں نازل ہوئی جب انسان کے دل کو بیدار کرنا، اسے اپنے رب کی پہچان دینا اور کائنات میں پھیلی ہوئی رحمت کا شعور عطا کرنا مقصود تھا۔ اس کی کل 78 آیات ایک حیرت انگیز ترتیب، ہم آہنگی اور روحانی لے کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں، جیسے پوری کائنات ایک تلاوت میں ڈھل گئی ہو۔ سورت کا آغاز ہی ایک عظیم اعلان سے ہوتا ہے، الرحمن، یعنی وہ رب جس کی رحمت ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ یہ صرف تعارف نہیں بلکہ پورے پیغام کی بنیاد ہے کہ یہ کائنات طاقت پر نہیں بلکہ رحمت پر قائم ہے۔اس سورۃ کی سب سے نمایاں خصوصیت وہ آیت ہے جو 31 مرتبہ دہرائی گئی: فبِایِ آلاِء ربِکما تکذِبانِ، یعنی تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلا گے۔ یہ تکرار محض الفاظ کی نہیں بلکہ ایک مسلسل آسمانی مکالمہ ہے۔ ہر نعمت کے بعد یہی سوال، ہر منظر کے بعد یہی پکار۔ کائنات کی تخلیق، انسان کی پیدائش، زمین و آسمان کا نظام، سمندروں کی گہرائیاں، پھلوں کی مٹھاس، میزانِ عدل اور پھر جنت کی بے مثال نعمتیںہر مرحلے پر یہی سوال جیسے رب اپنے بندے سے ہم کلام ہو، میں نے تمہیں یہ بھی عطا کیا اور وہ بھی، اب بھی تم انکار کرو گے؟ یہ تکرار دل کو جھنجھوڑتی ہے، غرور کو توڑتی ہے اور بندے کو شکر کے مقام تک لے جاتی ہے۔ یہ عقل سے بڑھ کر دل کی زبان ہے، جیسے کوئی محبوب بار بار پکارے: کیا تم مجھے پہچانتے نہیں؟
سورۃ میں ایک نہایت لطیف ترتیب یہ ہے کہ علم القرآن کو خلق الِنسان سے پہلے ذکر کیا گیا۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے وجود میں نہیں بلکہ اس ہدایت میں ہے جو اسے عطا کی گئی۔ جب انسان قرآن سے جڑتا ہے تو وہ نہ صرف خود کو پہچانتا ہے بلکہ اپنے رب کو بھی پہچان لیتا ہے۔ اسی طرح علمہ البیان کے ذریعے انسان کو دی گئی قوتِ بیان کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان کو صرف پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اسے سمجھنے، سوچنے اور اظہار کی قوت عطا کی گئی۔ یہ زبان، یہ عقل اور یہ شعور سب امانت ہیں اور ان کا استعمال حق، عدل اور خیر کے لئے ہونا چاہیے۔کائنات کے نظام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ کائنات ایک کامل توازن پر قائم ہے۔ جہاں بھی انسان اس توازن کو بگاڑتا ہے وہاں ظلم جنم لیتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انصاف، اعتدال اور توازن صرف معاشرتی اصول نہیں بلکہ خدائی نظام کا حصہ ہیں۔ سورۃ الرحمن ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ نعمتیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ ہوا، پانی، زمین، وقت اور خود زندگی سب نعمتیں ہیں مگر انسان اکثر غفلت میں مبتلا رہتا ہے۔ اسی لئے بار بار سوال کیا جاتا ہے کہ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلا گے۔ یہ دراصل شکر کی تربیت ہے۔ شکر صرف زبان کا عمل نہیں بلکہ دل اور زندگی کا رویہ ہے۔سورۃ میں ربِما کہہ کر انسان اور جن دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہر صاحبِ شعور اپنی ذمہ داری سے مفر اختیار نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ دنیا کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ آخرت کا ذکر اور جنت کی دلکش تصویر کشی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جبکہ اصل کامیابی آخرت میں ہے جہاں نعمتیں دائمی ہیں۔سورۃ الرحمن کی کثرت سے تلاوت ایک خاص روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ یہ صرف الفاظ کی ادائیگی نہیں رہتی بلکہ ایک باطنی سفر بن جاتی ہے۔ جو شخص دل کی حضوری کے ساتھ اسے پڑھتا ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ جیسے الفاظ نہیں بلکہ رحمت نازل ہو رہی ہو، جیسے ہر آیت دل کے کسی بند دروازے کو وا کر رہی ہو اور جیسے قاری اور کلام کے درمیان ہر پردہ اٹھتا جا رہا ہو۔
یہ اثر ہر ایک پر یکساں ظاہر نہیں ہوتا مگر جو اس میں ڈوب جائے وہ جان لیتا ہے کہ یہ سورۃ صرف سنی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔سورہ الرحمن انسان کو تین عظیم راستے دکھاتی ہے: پہچان، شکر اور توازن۔ اپنے رب کو پہچانو، اس کی نعمتوں کا دل سے اقرار کرو اور اپنی زندگی میں عدل و احسان کو قائم رکھو۔ یہی اس سورۃ کا مرکزی پیغام ہے۔ یہ سورۃ دراصل ایک مسلسل سوال ہے اور ہر قاری کے دل میں اس کا ایک جواب ہے۔ جب دل بیدار ہوتا ہے تو بے اختیار صدا بلند ہوتی ہے: اے میرے رب، میں تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تلاوت ذکر بن جاتی ہے اور ذکر ملاقات۔
انسانی زندگی میں ایک عجیب تضاد ہے، انسان ان چیزوں کے لئے لڑتا ہے جن کا وہ مالک نہیں اور جنہیں وہ اپنے ساتھ لے بھی نہیں جا سکتا۔ وہ خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ ہی چلا جاتا ہے، مگر درمیان کی زندگی میں میرا اور تیرا کا فریب اسے گھیر لیتا ہے۔ہم کہتے ہیں: میرا گھر، میری دولت، میرا مقام۔ مگر حقیقت میں یہ سب عارضی امانتیں ہیں۔ ہم مالک نہیں، صرف امین ہیں۔ گھر ہم سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا، دولت ہاتھ بدلتی رہتی ہے، حتی کہ جسم بھی مٹی میں لوٹ جاتا ہے۔ اصل ملکیت صرف خدا کی ہے اور یہی شعور بیداری کی ابتدا ہے۔پھر انسان کیوں لڑتا ہے؟ اس کا جواب نفس، خوف اور معاشرتی دبائو میں ہے۔ نفس ہمیشہ رہنا چاہتا ہے، خوف انسان کو مادی چیزوں سے باندھ دیتا ہے اور معاشرہ کامیابی کو دولت سے ناپتا ہے۔ اسی لئے انسان زیادہ اور زیادہ کی دوڑ میں لگا رہتا ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے۔اصل مسئلہ چیزوں کا استعمال نہیں، بلکہ ان کا غلام بن جانا ہے۔ جب مادی خواہشات غالب آ جائیں تو سکون ختم ہو جاتا ہے، رشتے کمزور ہو جاتے ہیں، اور انسان اپنی اصل کو کھو دیتا ہے۔
انسان دنیا حاصل کر لیتا ہے مگر خود کو کھو دیتا ہے یہی سب سے بڑا نقصان ہے۔اگر ہم زندگی کو ملکیت کے بجائے ذمہ داری سمجھیں تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ دولت خدمت بن جاتی ہے، طاقت انصاف کا ذریعہ، علم روشنی، اور زندگی ایک بامقصد سفر۔ کامیابی پھر جمع کرنے میں نہیں، دینے میں ہوتی ہے۔Jalaluddin Rumi، ایک عظیم شاعر اور روحانی استاد، ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقت ظاہری تقسیم سے کہیں بلند ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا میں رہے مگر اس کا غلام نہ بنے، کامیاب ہو مگر عاجزی رکھے، چیزوں کا مالک ہو مگر دل کو آزاد رکھے۔آخر میں سب پردے ہٹ جاتے ہیں۔ نہ دولت ساتھ جاتی ہے نہ مقام۔ جو باقی رہتا ہے وہ ہے: سچ، بھلائی، محبت اور شعور۔ یہی اصل وراثت ہے۔ہم مالک نہیں، مسافر ہیں۔ ہم جمع کرنے والے نہیں، امانت دار ہیں۔ جب یہ شعور آتا ہے تو زندگی بدل جاتی ہے جھگڑے کم ہو جاتے ہیں، لالچ ختم ہونے لگتا ہے، اور انسان حقیقت کے قریب آ جاتا ہے۔ایک خدا۔ سب اسکے بندے۔ ایک انسانی خاندان بنی آدم ،اور محبت ہماری بنیاد۔