Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

شریعت کے بغیر ہر راستہ گمراہی ہے

عصر حاضر کی روحانیت میں ایک نہایت نازک مگر خطرناک انحراف جنم لے رہا ہے ایسا انحراف جو تصوف کے نورانی پردے میں نفس کی تاریکیوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ محض فکری لغزش نہیں، بلکہ مقاماتِ عالیہ کے ساتھ کھیل ہے۔ جب بلند روحانی معانی کو ادنی خواہشات کے تابع کر دیا جائے تو یہ روحانیت نہیں رہتی، بلکہ تقدس کے نام پر نفس کی پرستش بن جاتی ہے۔انبیا کرام علیہم السلام کی سیرت اس باب میں سب سے روشن میزان ہے۔ انہوں نے خواہشات کے مقابلے میں ہمیشہ پاکیزگی، صبر اور ضبط کو اختیار کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے گناہ کے مقابلے میں قید کو ترجیح دی یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ روحانیت کا ابدی اصول ہے،بلندی وہ نہیں جو نفس کو آزاد کر دے، بلندی وہ ہے جو نفس کو اللہ کے حضور جھکا دے۔آج کچھ لوگ روحانیت کے نام پر انہی اصولوں کو الٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ انبیاء کی کہانیوں کو جذباتی جواز بنا لیتے ہیں اور روحانی کشش کو بے قابو رغبت کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک فریب ہے کیونکہ سچی روحانیت انسان کو بلند کرتی ہے، منتشر نہیں کرتی، وہ دل کو پاک کرتی ہے، نہ کہ خواہشات کو جواز دیتی ہے۔
اسی طرح بعض افراد حضرت خضر علیہ السلام کے واقعے کو غلط رنگ دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں کوئی باطنی اجازت حاصل ہے جس کے تحت وہ شریعت سے ہٹ کر عمل کر سکتے ہیں۔ یہ خیال نہ صرف باطل بلکہ گمراہ کن ہے، کیونکہ حضرت خضر علیہ السلام کا ہر عمل وحیِ الٰہی کے تحت تھا، نہ کہ ذاتی خواہش کے تابع اور اولیاء کرام کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے ظاہر و باطن دونوں میں شریعت کی کامل پیروی کے بعد ہی حقیقت کے دروازے کھلتے دیکھے۔حقیقت و معرفت کا دروازہ شریعت کے دروازے سے ہی کھلتا ہیاس کے بغیر ہر راستہ گمراہی کا سراب ہے۔اگر کوئی یہ کہے کہ وہ جذب یا روحانی مستی میں ہے، تو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ سچا جذب انسان کو دنیا سے بے خبر کر دیتا ہے، نہ کہ اسے مکمل شعور کے ساتھ حرام کی طرف لے جاتا ہے۔ جو کیفیت انسان کو حدود توڑنے پر آمادہ کرے، وہ جذب نہیں بلکہ فریب ہے ایک باریک شیطانی پردہ، جو نور کا لباس اوڑھ کر آتا ہے۔ایک سادہ مگر فیصلہ کن سوال ہر مدعی کے لئے کافی ہے،کیا وہی شخص اپنے لئے ان اصطلاحات روحانی تعلق یا باطنی محبت کو قبول کرے گا؟اگر نہیں، تو پھر دوسروں کے لئے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟اخلاق کا میزان ایک ہے جو اپنے لئے ہے، وہی دوسروں کے لئے بھی ہے۔جو شخص دوسروں کی عزت کے معاملے میں خود کو آزاد سمجھے مگر اپنے اور اپنے اہل کے لئے غیرت کے تقاضے قائم رکھے، وہ درحقیقت روحانیت کے نام پر نفس کی پیروی کر رہا ہے، نہ کہ کسی حقیقی مقام پر پہنچا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک عالمِ قید میں رہتے ہیںایسا عالم جہاں روح کی پرواز ممکن ہے مگر جسم شریعت کے دائرے میں بندھا ہے۔ انبیاء جو سب سے بلند مقام رکھتے تھے، وہی سب سے زیادہ شرعی حدود کے پابند بھی تھے۔ کسی نبی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ تکلیف سے آزاد ہو گیا ہے یا اب اس پر کوئی حد باقی نہیں۔جو شخص حدودِ الہی سے آزاد ہونے کا دعویٰ کرے، وہ دراصل ہدایت سے دور ہو رہا ہوتا ہے۔قدیم اہلِ معرفت نے شریعت اور حقیقت کے تعلق کو ایک حسین مثال سے واضح کیا ہے۔
شریعت کشتی ہے اور حقیقت سمندر کا خزانہ،جو کشتی کے بغیر خزانے تک پہنچنا چاہے گا، وہ ڈوب جائے گا اور جو خزانے کی تلاش میں کشتی کو توڑ دے، وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچے گا۔آج اگر کوئی اپنی ذات کے لئے حرام کا جواز پیش کرے تو یہ صرف فکری غلطی نہیں، بلکہ دین کے ساتھ خیانت ہے۔ سچا عارف جتنا بلند ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ اللہ کی حدود کا احترام کرتا ہے۔ادب ہی اصل روحانیت ہے، اور تقوی ہی اس کا ثبوت۔لہٰذا اپنے نفس، اپنے دل اور دوسروں کی عزتوں کے بارے میں اللہ تعالی کی ہدایت کا خیال رکھیں، کیونکہ شریعت ہی میزان ہے اور تقویٰ ہی نجات۔

یہ بھی پڑھیں