Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

فہم قرآن کے دو صحیح راستے

(گزشتہ سے پیوستہ)
قرآن کریم میں صفا اور مروہ کی سعی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’’فمن حج البیت اواعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما‘‘ جو شخص حج کرے یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ صفا مروہ کی سعی بھی کرے۔ اس جملہ کے ظاہری مفہوم کا تقاضہ یہ ہے کہ صفا مروہ کی سعی کی صرف اجازت دی گئی ہے اور وہ حج یا عمرہ میں کوئی ضروری امر نہیں ہے۔ یہ اشکال صحابہ کرامؓ کے دور میں بھی سامنے آیا، بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عروۃ بن زبیرؒ نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں یہ اشکال پیش کیا، ام المومنینؓ نے جواب دیا کہ جاہلیت کے دور میں قریش اور ان کے بعض حلیف قبائل تو حج اور عمرہ میں بیت اللہ کے طواف کے بعد صفا مروہ کی سعی کرتے تھے لیکن انصارِ مدینہ اوس اور خزرج کے لوگ صفا مروہ کی سعی نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کی جگہ قدید کے مقام پر واقع بت خانے مناۃ میں جایا کرتے تھے اور صفا مروہ کی سعی کو جاہلیت کی علامت قرار دیا کرتے تھے۔ لیکن جب فتح مکہ کے بعد مناۃ اور دیگر بت خانے توڑ دیے گئے تو اوس اور خزرج کو، جو دونوں انصار مدینہ کے قبیلے تھے، اشکال ہوا کہ وہ بیت اللہ کے طواف کے بعد کہاں جائیں گے؟
اس پر اللہ تعالی ٰنے انصار مدینہ سے کہا کہ صفا مروہ کی سعی جاہلیت کی بات نہیں بلکہ شعائر اللہ کی تعظیم کی بات ہے اس لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ صفا مروہ کی سعی بھی کر لی جائے۔ ام المومنینؓ کا ارشاد ہے کہ ’’لاجناح علیہ‘‘ کا جملہ انصار مدینہ کے لیے کہا گیا ہے جو اسے حرج اور جاہلیت کی بات سمجھا کرتے تھے۔ ام المومنینؓ کی اس وضاحت کی روشنی میں غور فرمائیں کہ اگر یہ وضاحت سامنے نہ ہو اور اس آیت کا یہ پس منظر، جسے ہماری اصطلاح میں شانِ نزول کہا جاتا ہے، علم میں نہ ہو تو اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اور اسی وجہ سے آج بھی بعض متجددین اسی شبہ کا شکار ہیں جس کا اظہار حضرت عروہ بن زبیرؓ نے کیا تھا لیکن ان کا شبہ ام المومنینؓ کی وضاحت کے بعد دور ہو گیا تھا جبکہ ہمارے دور کے متجددین مسلسل مغالطہ کا شکار ہیں۔
حضرت قدامہ بن مظعونؓ بدری صحابی تھے، حضرت عمرؓ کے برادر نسبتی تھے اور ان کے دور خلافت میں بحرین کے گورنر تھے۔ ان کے بارے میں رپورٹ ملی کہ وہ کبھی کبھی شراب پیتے تھے، انکوائری کرائی گئی تو رپورٹ درست ثابت ہوئی، حضرت عمرؓ نے انہیں طلب کر لیا اور پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی کبھی تھوڑی بہت پیتے ہیں اور اس لیے پیتے ہیں کہ قرآن کریم نے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہ انہیں قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ سے مغالطہ ہوا تھا جو شراب کی حرمت و ممانعت کے بعد ہے اور جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’لیس علی الذین آمنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا‘‘ جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے ان پر کوئی حرج نہیں جو انہوں نے تھوڑی بہت چکھ لی۔ حضرت عمرؓ کو ان کی زبان سے یہ سن کر سخت غصہ آیا اور فرمایا کہ اگر تم بدری صحابی نہ ہوتے تو میں تمہاری چمڑی اتار دیتا۔ خدا کے بندے یہ تمہارے بارے میں نہیں کہا گیا بلکہ جب شراب کی حرمت و ممانعت کا اعلان ہوا اور اسے قرآن کریم میں ’’رجس‘‘ گندگی قرار دیا گیا تو بعض صحابہؓ کو اشکال ہوا کہ ہمارے جو بھائی شراب کی حرمت کے اعلان سے پہلے پیتے تھے اور اسی حالت میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں تو کیا یہ ’’رجس‘‘ گندگی ان کے پیٹوں میں ان کے ساتھ گئی ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کرتے رہے انہوں نے شراب کی حرمت سے پہلے جو شراب پی لی ہے اس میں ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔ گویا ’’لا جناح‘‘ شراب کی حرمت کے بعد کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے کے حوالہ سے ہے۔یہاں بھی میں اس بات پر غور و فکر کی دعوت دوں گا کہ اگر اس آیت کا یہ شان نزول سامنے نہ ہو جو حضرت عمرؓ بیان کر رہے ہیں تو اس کا صحیح مفہوم سمجھنا ممکن نہیں ہے، اور اسی وجہ سے اس آیت کے بارے میں بھی بعض متجددین مغالطے کا شکار ہیں اور لوگوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔میں نے چند واقعات آپ کو یہ بات سمجھانے کے لیے پیش کیے ہیں کہ قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے مغالطے اور الجھن کا شکار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، یہ فطری چیز ہے اور بڑے بڑے لوگ بڑے بڑے مغالطوں کا شکار ہوتے رہے ہیں، لیکن اس کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم ان مغالطوں پر اڑ جائیں یا انہیں اپنی عقل اور سمجھ سے ہی حل کرنے کی کوشش کرتے رہیں، بلکہ ایسے کسی بھی مغالطے، الجھن، غلط فہمی، کنفیوژن اور اشکال کو دور کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت تلاش کی جائے اور اسے اللہ تعالیٰ کی منشا سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر یہ ضروری ہے کہ جس آیت کریمہ کے بارے میں الجھن پیدا ہو رہی ہے اس کے پس منظر اور شانِ نزول کو معلوم کرنے کی کوشش کی جائے جو ظاہر ہے کہ کسی صحابیؓ سے معلوم ہو گی۔کوئی صحابی ؓ ہی یہ بتائے گا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی اور کسی ماحول اور تناظر میں اس کا نزول ہوا تھا۔اس طرح قرآن کریم کے صحیح فہم کے لیے ہمارے پاس دو ہی راستے اور معیار ہیں: ایک سنت رسولؐ اور دوسرا اقوال صحابہ کرامؓ۔ ان دو اصولوں کو اگر ہم پلے باندھ لیں تو قرآن کریم کو سمجھنے میں کہیں بھی کوئی الجھن پیش نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فہم قرآن کریم کی نعمت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین

یہ بھی پڑھیں