تاریخ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بعض تعلقات وقتی مفادات، سیاسی مجبوریوں یا بدلتے عالمی حالات کے تابع ہوتے ہیں جبکہ کچھ رشتے اعتماد، وفاداری، باہمی احترام اور مشترکہ مستقبل کے خوابوں پر استوار ہو کر زمانے کی سختیوں سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اور چین کا تعلق بھی انہی نایاب تعلقات میں شمار ہوتا ہے جنہیں محض سفارتی روابط کہنا ناانصافی ہوگی کیونکہ یہ رشتہ دو ریاستوں کے درمیان رسمی تعلقات سے کہیں بڑھ کر ایک ایسی آہنی دوستی کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے عالمی سیاست کے ہر اتار چڑھا، سرد جنگ کی تلخیوں، علاقائی تنازعات، عالمی دبا اور معاشی تغیرات کے باوجود اپنی مضبوطی، استحکام اور اعتماد کو برقرار رکھا۔ جب دنیا دو مخالف گروہ میں تقسیم تھی، سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھے اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی صورتیں جنم لے رہی تھیں، تب پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کے قریب آنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب چین عالمی تنہائی کا شکار تھا اور پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور سلامتی کے تقاضوں کے باعث ایک مضبوط اور قابل اعتماد دوست کی تلاش میں تھا۔ 1951ء میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور یہ تعلقات رفتہ رفتہ ایک ایسی دوستی میں ڈھلتے گئے جس کی مثال بین الاقوامی سیاست میں کم ہی ملتی ہے۔ پاکستان ان اولین اسلامی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ میں چین کی نمائندگی کے مسئلے پر بھی پاکستان نے بھرپور حمایت کی۔پاک چین دوستی کی بنیاد کسی ایک وقتی مفاد پر نہیں بلکہ اس حقیقت پر قائم ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے استحکام، سلامتی اور ترقی کو اپنی مشترکہ کامیابی سمجھتے ہیں۔
1965ء کی جنگ ہو یا 1971ء کے حالات، ایٹمی پروگرام کا دبا ہو یا عالمی تنہائی کے ادوار، چین نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی۔ اسی طرح پاکستان نے بھی چین کے بنیادی قومی مفادات، خصوصا تائیوان، تبت اور سنکیانگ کے معاملات پر واضح اور دوٹوک حمایت جاری رکھی۔ یہ تعلق اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ دونوں ممالک کے سیاسی نظام، ثقافتی روایات، زبانیں، مذہبی پس منظر اور معاشی ڈھانچے مختلف ہونے کے باوجود اعتماد کی سطح کبھی کم نہیں ہوئی۔ عالمی سیاست میں اکثر تعلقات مفادات کی تبدیلی کے ساتھ سرد مہری کا شکار ہو جاتے ہیں مگر پاک چین دوستی مسلسل مضبوط ہوتی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے آل ویدر اسٹریٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ یعنی ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری قرار دیا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کے پیچھے صرف سفارتی خوبصورتی نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط عملی تعاون، قربانیوں اور مشترکہ وژن کی داستان موجود ہے۔ چین نے پاکستان کے انفراسٹرکچر، دفاعی پیداوار، توانائی منصوبوں اور صنعتی ترقی میں جو کردار ادا کیا وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ شاہراہِ قراقرم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہا جاتا ہے، جو صرف ایک سڑک نہیں بلکہ دوستی، اعتماد اور قربانی کی علامت ہے۔ ہزاروں پاکستانی اور چینی انجینئرز اور کارکنوں نے دشوار گزار پہاڑوں میں کام کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کی ایک نئی راہ کھل سکے۔ بعد ازاں دفاعی تعاون کے میدان میں جے ایف 17تھنڈر طیارہ، میزائل ٹیکنالوجی، بحری تعاون اور عسکری تربیت نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوا کہ سیاسی اور دفاعی تعلقات جتنے مضبوط ہیں، معاشی اور تجارتی روابط اس سطح تک نہیں پہنچ سکے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں چین کے عظیم الشانبیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹواور اس کے اہم ترین منصوبیچین پاکستان اقتصادی راہدارینے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے تاریخی موڑ پر لا کھڑا کیا۔ سی پیک دراصل محض سڑکوں، بندرگاہوں یا بجلی گھروں کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ اکیسویں صدی کی جغرافیائی سیاست اور معاشی حکمتِ عملی کا اہم ترین باب ہے۔ گوادر کی بندرگاہ سے لے کر کاشغر تک پھیلا ہوا یہ منصوبہ پاکستان کو ایشیا، مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر ایک اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
(جاری ہے)