دنیا کی سیاست میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب تجارت، سفارت کاری، انسانی حقوق اور آزادی صحافت ایک ہی منظرنامے میں سمٹ کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہٗ سویڈن اور ناروے بھی کچھ ایسا ہی موقع ثابت ہوا ہے۔ بظاہر یہ دورہ اقتصادی تعاون، سبز ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، خلائی تحقیق اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لئے تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایک ایسے سوال کو بھی نمایاں کر دیا جسے عالمی برادری مسلسل نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیا معاشی مفادات انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر فوقیت حاصل کر سکتے ہیں؟بھارتی وزیراعظم اور سویڈش قیادت کی ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تجارت کو آئندہ پانچ برسوں میں دوگنا کرنے اور ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے عزائم کا اظہار کیا گیا۔ نریندر مودی نے اپنی روایتی سفارتی زبان میں بھارت اور سویڈن کے تعلقات کو ’’جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور انسان دوست ترقی‘‘ پر مبنی قرار دیا۔ یہ وہی بیانیہ ہے جو نئی دہلی گزشتہ چند برسوں سے عالمی سطح پر پیش کرتا آ رہا ہے۔ لیکن سفارتی بیانات کی چمک دمک کے پسِ منظر میں کچھ ایسے سوالات بھی موجود تھے جو محض معاشی اعداد و شمار سے دبائے نہیں جا سکتے تھے۔
سویڈن کے معروف اخبار ’’آفتن بلادت‘‘ میں شائع ہونے والا جیکب روڈن اسٹرینڈ کا مضمون اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ مضمون نگار نے نہ صرف سویڈش حکومت کو یاد دلایا کہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سویڈن کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہے ہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی خاطر ان اصولوں پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے؟ ان کا استدلال تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی خدشات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔یہ خدشات محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی ایک حالیہ سماعت میں سابق امریکی سفارت کار اسٹیفن جے ریپ نے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے اور تشدد کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات یہ ماحول صرف شدت پسند گروہوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ریاستی اداروں کی خاموشی یا عدم مداخلت بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اسی طرح ’’کرسچن سولیڈیرٹی انٹرنیشنل‘‘ کی رپورٹ میں 2025 ء کو بھارت میں مسیحیوں کے خلاف تشدد کا مسلسل پانچواں ریکارڈ سال قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عبادت گاہوں پر حملوں، مذہبی اجتماعات میں مداخلت، دھمکیوں اور تشدد کے سینکڑوں واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ بعض ریاستوں میں نافذ نام نہاد اینٹی کنورڑن قوانین بھی تنازع کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا استعمال بعض اوقات مذہبی اقلیتوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قوانین زبردستی یا دھوکے سے مذہب تبدیل کروانے کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔
اتر پردیش، جو بھارت کی سب سے بڑی اور سیاسی طور پر انتہائی اہم ریاست ہے، ان مباحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مختلف رپورٹس میں ایسے واقعات کا ذکر ملتا ہے جن میں مذہبی اجتماعات پر حملے کیے گئے یا پادریوں اور مذہبی کارکنوں کو قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ان واقعات کی نوعیت اور ان کے اسباب پر مختلف آرا موجود ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کے مذہبی آزادی کے ریکارڈ پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔
سویڈن میں اٹھنے والی اس بحث سے قبل ناروے میں ایک اور واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ناروے کی صحافی ہیلی لینگ نے ایک مشترکہ تقریب کے دوران بھارتی وزیر اعظم سے براہ راست سوال کیا کہ وہ آزاد میڈیا کے سوالات کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔ مودی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا، لیکن صحافی کا بعد ازاں دیا گیا بیان دنیا بھر میں موضوعِ گفتگو بن گیا۔ ان کا کہنا تھا: ’’مجھے معلوم تھا کہ وزیر اعظم مودی کو سوالات پسند نہیں، لیکن سوال پوچھنا میری ذمہ داری تھی۔‘‘ نارویجین صحافی نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا کہ آزادیٔ صحافت کے معاملہ میں ناروے دنیا میں پہلے نمبر ہے جبکہ بھارت کا نمبر 157ہے۔ مذکورہ صحافی کا بیان دراصل آزاد صحافت کے بنیادی فلسفے کا خلاصہ ہے۔ صحافت کا کام اقتدار کے ایوانوں سے سوال کرنا ہے، چاہے وہ سوال کسی مقامی سیاست دان سے ہو یا دنیا کے طاقتور ترین رہنماؤں میں سے کسی ایک سے۔ یہی وجہ ہے کہ ناروے کی اس صحافی کے سوال نے صرف مودی حکومت ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر آزادی? صحافت کی اہمیت کے بارے میں بھی نئی بحث چھیڑ دی۔
بھارتی حکومت اور اس کے حامی روایتی ہٹ دھرمی اور حقائق کا سامنے کا نہ کرنے کی پالیسی کواپنانتے ہوئے ان تنقیدوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بھارت ایک متحرک جمہوریت ہے جہاں آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق فراہم کرتا ہے، جبکہ بعض بین الاقوامی رپورٹس زمینی حقائق کا مکمل عکس پیش نہیں کرتیں۔ ان کے نزدیک بھارت کی تیز رفتار معاشی ترقی، آزاد عدلیہ، متنوع سیاسی نظام اور فعال انتخابی عمل اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک جمہوری راستے پر گامزن ہیلیکن دنیا کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ہے، عالمی رائے جانتی ہے کہ بھارت نے جموں کشمیر کو عوام کو ان کے پیدائشی حق ِ خود آرادیت سے محروم کررکھا ہے۔ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کرتا اور ریاست جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے۔
سوال یہ نہیں کہ بھارت ایک بڑی جمہوریت ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی جمہوریت کو تنقید اور جواب طلبی سے بالاتر سمجھا جا سکتا ہے؟ سویڈن اور ناروے کے میڈیا نے اپنے طرزِ عمل سے یہی پیغام دیا ہے کہ معاشی مفادات کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور آزادی? اظہار جیسے اصولوں کو پس منظر میں نہیں دھکیلا جا سکتا۔نریندر مودی کا یہ دورہ شاید تجارتی معاہدوں اور اقتصادی اعلانات کے حوالے سے یاد رکھا جائے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، بلکہ سوال پوچھنے، جواب دینے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا نام بھی ہے۔ اور جب تک یہ سوالات موجود ہیں، عالمی ضمیر کی یہ جواب طلبی بھی جاری رہے گی۔