بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث ہے، مگر اس کی دہشت گردی کا اصل شکار خود بلوچ عوام، خواتین، بچے اور ترقی کے خواب ہیں۔ یہ تنظیم کسی سیاسی یا قوم پرست جدوجہد کی نمائندہ نہیں بلکہ ایک پرتشدد گروہ ہے جس نے عام شہریوں کا خون بہا کر، خواتین کو خودکش جیکٹس پہنا کر اور بیرونی ایجنڈوں پر عمل کر کے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خواتین کو خودکش حملوں کے جال میں پھنسانا انسانیت کی تذلیل ہے۔کالعدم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ نے 2022 ء سے خواتین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مکروہ حکمت عملی اپنائی۔ تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات سے واضح ہوا کہ ان میں سے اکثر خواتین کو سوشل میڈیا پر جنسی اسٹحصال ، جذباتی بلیک میلنگ اور قومی ہیروئن بنانے کے جھوٹے وعدوں سے ورغلایا گیا۔ بعض کیسز میں ذاتی ویڈیوز اور خاندانی عزت کو دا پر لگا کر انہیں مجبور کیا گیا۔ لائبہ بلوچ جیسی نوجوان لڑکیوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہیں کس طرح نام نہاد حقوقی کارکنوں کے ذریعے عسکری گروہوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ یہ عمل بلوچ روایات، اسلام اور خواتین کے وقار تینوں کی کھلی توہین ہے۔ دہشت گردی کے لئے خواتین کا استحصال بی ایل اے کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بی ایل اے اور اس کی سیاسی فرنٹ تنظیمیں، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی)کا نام بھی لیا جاتا ہے، عام بلوچ کو دوہرے استحصال کا شکار بنا رہی ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں کو لاپتہ افراد کے نام پر ورغلا کر پہاڑوں پر بھیجا جاتا ہے اور دوسری طرف خواتین کو حقوق کے نعروں میں الجھا کر خودکش بمبار بنایا جاتا ہے۔ مرنے کے بعد انہی نوجوانوں کی لاشوں پر سیاست کی جاتی ہے اور لواحقین کو ریاست کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے۔
بی وائے سی جیسی تنظیمیں سوشل میڈیا پر مظلومیت کا بیانیہ بناتی ہیں مگر جب بی ایل اے سکول بس پر حملہ کرتی ہے یا مزدوروں کو قتل کرتی ہے تو خاموش رہتی ہیں۔ یہ دوغلا پن ثابت کرتا ہے کہ ان کا مقصد بلوچ کے مسائل کا حل نہیں بلکہ انتشار کو ہوا دینا ہے۔ عام بلوچ آج تعلیم، صحت اور روزگار مانگتا ہے، نہ کہ مزید لاشیں۔ پاکستان کے ریاستی ادارے متعدد بار شواہد کے ساتھ یہ مقف پیش کر چکی ہے کہ کالعدم بی ایل اے کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مالی معاونت، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔ 2016ء میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کل بھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ وہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا۔ ڈی عسکری ترجمان کی پریس بریفنگز میں فنڈنگ کی رسیدیں، آڈیو کالز اور افغانستان-ایران راہداری کے استعمال کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے گئے۔ بی ایل اے کے حملوں کا ٹارگٹ سی پیک، گوادر پورٹ اور چینی انجینئرز کا ہونا بھی اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ اس تنظیم کا اصل مقصد بلوچ حقوق نہیں بلکہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور چین-پاکستان شراکت کو سبوتاژ کرنا ہے۔ یہ پراکسی جنگ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بی ایل اے نے بلوچستان کے ہر ترقیاتی منصوبے کو نشانہ بنایا۔ ریلوے ٹریکس کو بارود سے اڑانا، گیس پائپ لائنوں پر حملے، کوئلہ کانوں میں مزدوروں کا قتل، اور اساتذہ و ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ 2024ء میں دکی کی کوئلہ کان میں 20مزدوروں کا قتل، موسی خیل میں 23مسافروں کا قتل، اور جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400سے زائد شہریوں کو یرغمال بنانا، یہ سب اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو بلوچستان کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنا چاہتی ہے۔ جب سکول، ہسپتال، سڑک اور ڈیم بنانے والے محفوظ نہیں ہوں گے تو سب سے زیادہ نقصان خود عام بلوچ کا ہوگا۔
بی ایل اے کی بندوق نے بلوچ نوجوان کو روزگار کے بجائے قبرستان کا راستہ دکھایا ہے۔ برطانیہ نے 2006ء میں بی ایل اے کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جبکہ امریکہ نے 2019ء میں بی ایل اے پر پابندیاں عائد کیں۔مگر یہ کافی نہیں۔ بی ایل اے کی قیادت، فنانسنگ نیٹ ورک اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا ونگ اب بھی کئی مغربی ممالک سے کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کے تحت شہریوں پر جان بوجھ کر حملہ، اغوا اور خودکش بمباری دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ بی ایل اے پر جامع پابندیاں عائد کرے، اس کے اثاثے منجمد کرے، سفری پابندیاں لگائے اور اس کے سہولت کاروں کو بین الاقوامی عدالتوں میں لائے۔ جب تک عالمی برادری اس گروہ کو آزادی پسند اور دہشت گرد کے فرق سے نہیں دیکھے گی، بلوچستان میں خون بہتا رہے گا۔بلوچستان کے مسائل سیاسی ہیں اور ان کا حل پارلیمنٹ، عدالت اور مذاکرات میں ہے۔ مگر بی ایل اے نے اسلحے کو سیاست کا متبادل بنا کر خود بلوچ قوم کو یرغمال بنا لیا ہے۔ خواتین کو خودکش جیکٹ پہنانا، بچوں سے بھری بسوں کو نشانہ بنانا، اور غیرملکی ایجنڈوں پر عمل کرنا کسی صورت قومی جدوجہد نہیں کہلا سکتا۔ یہ خالص دہشت گردی ہے۔ پاکستان کی ریاست، سول سوسائٹی اور خود بلوچ عوام کو مل کر اس بیانیے کو شکست دینا ہوگی۔ عالمی برادری پر بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بی ایل اے پر پابندیاں لگا کر یہ پیغام دے کہ شہریوں کا قتل اور عورتوں کا استحصال کسی بھی نظرئیے یا قومیت کے نام پر قابلِ قبول نہیں۔ بلوچستان کو امن، ترقی اور تعلیم چاہیے نہ کہ مسلح دہشت گرد جتھے جو ازلی دشمن ہندوستان کی ایما پر بلوچ معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں۔