قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سبق نہ صرف بیان کیے بلکہ ان سبقوں کو ایسے عظیم واقعات اور عظیم ترین شخصیات کے ذریعے پیش کیا کہ آج بھی ان سے روشنی حاصل ہوتی ہے۔ انہی سبقوں میں سے ایک انتہائی اہم اور جامع سبق سورہ الکہف میں بیان ہوا ہے۔ یہ سبق علم، صبر اور حکمت کا سبق ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے مشہور واقعے کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو قرآن میں اس لئے بیان فرمایا کہ یہ نہ صرف ایک تاریخی قصہ ہے بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کے لیے ایک زندہ رہنما اصول ہے۔ ایک طرف اللہ کے عظیم نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں جنہیں تورات جیسی آسمانی کتاب عطا کی گئی تھی اور دوسری طرف حضرت خضر علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ نے خاص علم لدنی سے نوازا تھا۔ ان دونوں کے درمیان ہونے والا سفر مکالمہ اور تین عجیب واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ ظاہری علم کے ساتھ باطنی حکمت بھی ضروری ہے۔ علم کے ساتھ صبر بھی لازمی ہے اور حکمت کے بغیر کوئی بھی عمل ادھورا رہ جاتا ہے۔واقعہ یوں ہے کہ ایک دن حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک بڑی مجلس میں خطاب فرما رہے تھے۔ کسی نے سوال کیا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں آئی کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کیا۔ اللہ نے وحی فرمائی کہ ہمارا ایک بندہ ہے جسے ہم نے خاص رحمت اور علم عطا کیا ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فورا درخواست کی کہ وہ اس بندے سے ملنا اور اس سے علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک نمک زدہ مچھلی ساتھ لے کر چلو۔ جب مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی جائے وہیں ملاقات ہو گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے نوجوان ساتھی یوشع بن نون کے ساتھ مچھلی لے کر دو سمندروں کے سنگم کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں تھکاوٹ کے باعث وہ ایک چٹان کے پاس سو گئے۔ وہاں ایک چشمہ تھا۔ مچھلی اس پانی سے زندہ ہوئی اور سمندر میں چلی گئی۔ ساتھی نے دیکھا مگر حضرت موسی کو نہ جگایا۔ جب کافی فاصلہ طے ہو گیا تو حضرت موسیٰؑ نے کھانا مانگا تو ساتھی نے مچھلی والا واقعہ بتایا۔ حضرت موسیٰؑ نے فرمایا یہی وہ مقام ہے جس کی ہم تلاش کر رہے تھے۔ دونوں واپس لوٹے اور وہاں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔حضرت موسیٰؑ علیہ السلام نے درخواست کی کہ کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللہ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے کیونکہ تم میرے بعض کاموں کی حکمت نہیں جانتے۔ حضرت موسی نے وعدہ کیا کہ انشا اللہ صبر کروں گا اور آپ کی بات نہیں ٹالوں گا۔ حضرت خضر نے شرط رکھی کہ تم مجھ سے کوئی سوال نہیں کرو گے جب تک کہ میں خود نہ بتاں۔پھر سفر شروع ہوا۔ پہلا واقعہ کشتی کا تھا۔ وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ غریب کشتی والوں نے انہیں مفت سوار کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی میں سور اخ کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا آپ نے لوگوں کو ڈبونے کے لیے کشتی خراب کی ہے یہ تو بہت برا کام ہے۔ حضرت خضر ؑنے یاد دلایا کہ تم نے صبر کا وعدہ کیا تھا۔دوسرا واقعہ ایک بستی میں پیش آیا۔ وہاں ایک لڑکا کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے مار ڈالا۔ حضرت موسی سخت برہم ہوئے اور کہا کیا آپ نے بغیر قصور کے ایک بے گناہ کی جان لے لی یہ تو بہت بڑا ظلم ہے۔تیسرا واقعہ اس بستی میں ہوا جہاں لوگوں نے انہیں کھانا دینے سے انکار کر دیا۔ وہاں ایک دیوار گرنے والی تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے اپنے ہاتھوں سے درست کر دیا۔ حضرت موسی نے کہا اگر چاہتے تو اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔یہاں حضرت موسی علیہ السلام صبر نہ کر سکے اور جدائی کا فیصلہ کر لیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا اب میں تمہیں ان کاموں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔کشتی غریب لوگوں کی تھی۔ آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی چھین لیتا تھا۔ سور اخ کر کے کشتی کو عیب دار بنا دیا گیا تاکہ بادشاہ اسے نہ لے جائے۔ یہ اللہ کی رحمت تھی۔
دوسرے واقعہ کی حکمت یہ ہے کہ لڑکے کے والدین مومن تھے۔ وہ لڑکا بڑا ہو کر کفر اور نافرمانی کا باعث بننے والا تھا۔ اللہ نے چاہا کہ والدین کو اس کے بدلے ایک صالح اولاد ملے۔ یہ بھی اللہ کی رحمت تھی۔دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا۔ ان کا باپ نیک شخص تھا۔ اللہ نے چاہا کہ لڑکے بالغ ہو جائیں اور اپنا خزانہ خود نکال لیں۔ اگر دیوار گر جاتی تو خزانہ ضائع ہو جاتا۔ یہ بھی اللہ کی رحمت تھی۔حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے کیے۔ یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کر سکے۔اس عظیم واقعے سے تین بڑے سبق نکلتے ہیں۔ پہلا سبق علم کا ہے۔ علم دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک ظاہری علم جو کتابوں اور تعلیم سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسرا باطنی علم جو اللہ کی خاص توفیق سے ملتا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام جیسے عظیم نبی بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا علم محدود ہے۔دوسرا سبق صبر کا ہے۔ صبر صرف مصیبت پر نہیں بلکہ ان باتوں پر بھی ہے جو ہماری فوری سمجھ سے بالاتر ہوں۔ آج کے معاشرے میں صبر برداشت اور تحمل تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم کسی کی بات برداشت نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خیالات سننے کی بجائے فورا رد عمل دیتے ہیں۔ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے۔ چھوٹی سی بات پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی معاملات میں عدم برداشت عروج پر ہے۔ جب اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے بلند مرتبہ شخص کو صبر کی تربیت دی جا رہی ہے تو ہم عام انسانوں کو اس سبق کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔تیسرا سبق حکمت کا ہے۔ حکمت کا مطلب ہے کسی کام کے باطنی مقصد کو جاننا۔ ظاہری طور پر برا لگنے والا کام بھی اللہ کی رحمت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آج ہم سطحی طور پر فیصلے کر لیتے ہیں۔ کسی کی پوری کہانی سنے بغیر اسے برا کہہ دیتے ہیں۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ ہم حالات کو اللہ کی حکمت کے تناظر میں دیکھیں۔اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو قرآن میں اس لیے محفوظ کیا کہ یہ واقعہ انسان کو تواضع سکھاتا ہے۔ ب سے بڑا عالم ہونے کا دعوی کرنے والا نبی بھی اللہ کے ایک بندے سے علم سیکھنے جاتا ہے۔ یہ اللہ کی عظمت اور انسانی کمزوری کا اعتراف ہے۔آج کے دور میں جہاں معلومات کا سیلاب ہے مگر حکمت کی کمی ہے جہاں جذبات غالب ہیں مگر صبر ناپید ہیتو اس واقعے کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کی ان تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔