Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

انوکھا لاڈلا

گزشتہ نسلوں سے ہمیں جو دانائی کے موتی ورثے میں ملے ہیں، ان میں ایک نہایت گہری اور بامعنی کہاوت یہ ہے کہ ’’بچے کو سونے کے چمچ سے کھلاؤ، مگر اس پر شیر کی نگاہ رکھو۔‘‘ یہ مختصر سا جملہ دراصل تربیتِ اولاد کے ایک مکمل فلسفے کا نچوڑ ہے۔ بچوں کو محبت، آسائش اور مواقع فراہم کرنا والدین کی ذمہ داری ہے، لیکن ان نعمتوں کے ساتھ نگرانی، نظم و ضبط اور اخلاقی تربیت بھی لازم ہے۔ بے حد و حساب محبت اکثر غرور کو جنم دیتی ہے، جبکہ محبت سے خالی سختی دلوں میں بغاوت پیدا کرتی ہے۔ کامیاب تربیت کا راز انہی دونوں کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرنے میں پوشیدہ ہے۔
بدقسمتی سے بہت سے والدین اور قریبی عزیز اس توازن کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ محبت کے نام پر وہ بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں، ہر غلطی پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور ہر ناجائز حرکت کا دفاع کرتے ہیں۔ جو چیز ابتدا میں معصوم شفقت دکھائی دیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ ایک خطرناک عادت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ اس کی زندگی میں کوئی حد نہیں، کسی غلطی کا کوئی نتیجہ نہیں اور کسی حق کے ساتھ کوئی ذمہ داری وابستہ نہیں۔ آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں یہ تصور جڑ پکڑ لیتا ہے کہ قوانین دوسروں کے لئے ہیں، اس کے لئے نہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر آزادی اور من مانی میں فرق کھو بیٹھتے ہیں اور بے احتیاطی کو خود اعتمادی سمجھنے لگتے ہیں۔
اس ناقص تربیت کے نتائج آج ہمارے معاشرے میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اخبارات آئے دن ایسی المناک ٹریفک حادثات کی خبریں شائع کرتے ہیں جن میں قیمتی گاڑیاں خطرناک رفتار سے دوڑتی ہوئی انسانی جانوں کو کچل دیتی ہیں۔ بے گناہ راہگیر زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں، خاندان غم کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں اور قیمتی املاک تباہ ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات نوجوان ڈرائیور خود بھی اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔ تحقیقات اکثر ایک ہی پریشان کن حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں؛ گاڑی ایک ایسے کم عمر لڑکے کے ہاتھ میں تھی جو نہ تو قانونی طور پر ڈرائیونگ کا اہل تھا اور نہ ہی اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا، لیکن اسے لاکھوں روپے مالیت کی طاقتور گاڑی چلانے کی اجازت حاصل تھی اور اس پر کوئی مؤثر نگرانی بھی نہیں تھی۔
ایسے حادثات محض ایک لمحے کی غفلت کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ برسوں کی بے احتیاطی اور بے جا نرمی کا حاصل ہوتے ہیں۔ حادثے سے بہت پہلے خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہوتی ہیں۔ بچے کے رویے میں تکبر، قواعد سے بے اعتنائی اور اختیار سے نفرت کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں، مگر والدین اور عزیز اسے درست کرنے کے بجائے اس کی صفائیاں پیش کرتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے رویوں کو خود اعتمادی یا سماجی حیثیت کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ بچے کی ناراضی سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یوں وہ انجانے میں ایک ایسے سانحے کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں جو کسی بھی وقت رونما ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ذمہ داری صرف اس نوجوان کے کندھوں پر عائد نہیں ہوتی جو جرم یا غلطی کا مرتکب ہوا ہو، بلکہ ان تمام افراد پر بھی ہوتی ہے جنہوں نے اس کے رویوں کو پروان چڑھایا۔ ہر ناجائز خواہش کی تکمیل، ہر غلطی سے چشم پوشی اور ہر بے ضابطگی پر خاموشی دراصل تباہی کی طرف بڑھایا جانے والا ایک اور قدم تھا۔ معاشرہ اکثر آخری واقعے پر توجہ مرکوز کرتا ہے مگر اس طویل سلسلہ غفلت کو فراموش کر دیتا ہے جس نے اس انجام کو جنم دیا۔
یہ اصول صرف خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ قوموں اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ انسانی فطرت بنیادی طور پر ایک جیسی رہتی ہے، خواہ اس کا اظہار ایک فرد میں ہو یا ایک ریاست میں۔ جب کسی شخص یا ملک کو بار بار اس کے اعمال کے نتائج سے محفوظ رکھا جائے تو اس کے اندر جوابدہی سے بے نیازی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ احتیاط کمزور پڑ جاتی ہے، ضبط ختم ہونے لگتا ہے اور حد سے تجاوز کرنا معمول بن جاتا ہے۔
بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس حقیقت کو امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی دہائیوں سے اسرائیل کو واشنگٹن کی جانب سے غیر معمولی سفارتی، سیاسی، عسکری اور معاشی حمایت حاصل رہی ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں، اسرائیل پر تنقید میں اضافہ ہوا، امریکہ نے اکثر اپنے ویٹو کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اتحادی کو احتساب یا مذمت کی قراردادوں سے بچایا۔ نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو، اس مسلسل حمایت نے یہ تاثر پیدا کیا کہ اسرائیل اپنی پالیسیوں کو بامعنی نتائج کے خوف کے بغیر جاری رکھ سکتا ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں