یار طرح دار نے خاصی جدوجہد کے بعد خود کو کرسی میں گھسایا اور بولا’’ اس بھاری بھرکم جثے کا کو ئی علاج ہے‘‘؟میری اس دوست اور اس کی گھڑانما توند سے آشنائی کو اب عرصہ بیت چکا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کی توند بھی نئے طول و عرض سمیٹ چکی تھی۔’’ اس کا علاج تو ہے مگر میرے پاس نہیں‘‘، وہ تنک کر بولا ’’تم ماہر خوراک ہو ، تمہارے پاس بھی علاج نہیں تو پھر کس کے پاس ہے؟ میں نے کہا’’ اس کا علاج تو پہلے بھی تمہارے پاس تھا اور اب بھی تمہارے پاس ہی ہے۔ ـ‘‘
میرے پاس تو بس مرض ہے، اب تو اپنا آپ بھی پرایا سا لگتا ہے۔ آئینہ دیکھوں توایک چھوڑ دو دو توندیں جب نظر آتی ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔’’ شکر ہے تم نے اس کو مرض تو سمجھا، جب توند آگے چلنا شروع ہو جائے تو سمجھ لو صحت اب پیچھے جا رہی ہے۔ ‘‘وہ سوچنے لگا پھر بولا’’ سچ کہتے ہو، جہاں جاتا ہوں، توند پہلے پہنچ جاتی ہے، چلتے ہوئے اپنے قدم بھی نہیں دیکھ پاتا‘‘۔ میں نے کہا’’ قدم ہی دکھائی نہ دیں تو راستے کا تعین کرنا مشکل ہو ہی جاتا ہے ۔وہ اضطرابی انداز میں گویا ہوا’’میں کوشش تو کرتا ہوں، کھانا پینا بہت کم کردیتا ہوں، چہل قدمی کرنا شروع کرتا ہوں۔ ‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا’’ یہ کھانا پینا چھوڑنے کے بجائے اس میں نظم و ضبط لانے سے ٹھیک ہو گا۔ تمھیں ڈٹ جانا ہوگا اپنے عزم پر ، رہنے سہنے کے ڈھنگ کو بدلنا آسان نہیں لیکن علاج اسی میں ہے۔ وہ مجھے دیکھتا رہا پھر بولا’’ کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں وزن کم کرو ورنہ جلدی مر جائو گے، کیا ایسا ہی ہے‘‘؟ میں نے ایک آہ بھری اور کہا۔’’ دیکھو موت تو اٹل ہے،موٹاپا موذی بیماریوں کی جڑ ہے اور یہ آپ کی زندگی کو اجیرن بنادیتا ہے۔ زندگی جتنی بھی ہو تندرست وتوانا ر ہنی چاہیے۔ انسان با آسانی چل پھر سکے، اٹھ بیٹھ سکے، طویل نہیں، صحت مندزندگی کی ضرورت ہے چاہے جتنی ہو‘‘۔’’ وزن میں اضافہ عارضہ قلب اورذیابیطس کا موجب بنتا ہے۔ فشار خون کی الجھنوں کے ساتھ ساتھ، جگر ، گردے اور دیگر اعضاء اپنا کردار صحیح دا نہیںکر پاتے اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ‘‘۔ اس نے سراسیمگی سے مجھے دیکھا۔’’ اچھا میں اس پر پورا عمل کروں گا، کیا کرنا ہوگا مجھے، لیکن ٹھہرو مجھے صحیح سے سمجھائو یہ سب ہوتا کیسے ہے اور ٹھیک کیسے ہو گا۔میں نے اس کی طرف کرسی کھسکائی اور بولا’’دیکھو یہ سارا کھیل توانائی کا ہے جس کو ہم حرارے (کیلوریز)کہتے ہیں،انسان کو اپنی دن بھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کچھ توانائی چاہیے۔ اگر تمہارے جسم کو ۲۰۰۰ حراروں کی ضرورت ہے اور تم ۲۵۰۰ یا ۳۰۰۰ حرارے لے رہے ہو تو کیا ہوگا؟ یہ فالتو حرارے جسم میںچربی کی شکل میں مسکن بنانا شروع کر دیں گے۔تمہارے ساتھ بھی یہی ہوا ہے اور اب تک ہو رہا ہے۔ ‘‘ اس نے ایک آہ بھری اور بولا۔ ’’ تو کیایہ جمع شدہ چربی ذائل نہیں ہو سکتی؟‘‘ہو سکتی ہے مگر اس میں عمل اور عزم دونوں درکار ہوں گے۔ تمہیں اپنی ضرورت سے کچھ کم حرارے جسم کو دینے ہیںتاکہ جسم باقی کے حرارے اپنی جمع شدہ چربی سے لینا شروع کر دے۔اور یہ عمل آہستہ آہستہ کرنا ہے تاکہ کمزوری بھی نہ ہو اور پٹھوں کا وزن نہ کم ہو۔ لوگ یہ غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ کھانا یکدم بہت کم کر کے یہ سوچتے ہیں کہ چربی جلدی گھلنا شروع ہو جائے گی مگر اس سے نتیجہ الٹ نکلتا ہے ۔ اس سے کمزوری بھی بڑھتی ہے اور اس عمل کو انسان زیادہ دیر تک کر بھی نہیں پاتا۔
اس کا ایک اور بھی طریقہ ہے کہ تم حرارے اتنے ہی لو مگر جسم کی ضرورت کو بڑھا لو، وہ ایسے کہ صبح شام سرعت قدمی کرو، متحرک زیادہ ہو جائو، ورزش یا کوئی کھیل کود شروع کر دو، اس سے جسم کو حراروں کی ضرورت بڑھ جائے گی اور یوں درکار اور لئے گئے حراروں میں فرق آجائے گا جو ہم نے کرنا ہے۔ مگر موثر طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک ساتھ دونوں صورتوں کو اختیار کریں، کچھ کھانے پینے سے حراروں کو کم کریں اور دوسری طرف زیادہ متحرک ہو کر اس فرق میں تھوڑا اضافہ کر لیں تاکہ جسم اس فرق کو اپنی چربی ذائل کر کے پورا کرے۔ ‘‘ اس نے ایک آہ بھری’’ ضرورت سے کم حرارے لینے کا عام آدمی کیسے سمجھے گا؟ میں نے کہا۔’’ اس کی ضرب تقسیم کا طریقہ تو موجود ہے ، کوئی بھی غذائی ماہر تمہیں اس حوالے سے ہدایات اور رہنمائی دے دے گا مگر ایک بہت آسان نسخہ اسلام نے بتا دیا ہے بس اس پر عمل کر لو، وہ یہ کہ اپنی بھوک چھوڑ کر کھائو، یہ کرو گے تو پھر تم جو بھی چاہو کھا سکو گے کیونکہ تمہیں ابھی کوئی اور بیماری چپکی نہیں ہے۔ اس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔میں نے کہا’ لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اب فرض کرو تم نے ۱۵۰۰ حرارے دن بھر میں لینے ہیں تو ان کو بھی یک دم نہیں لینا، یہ نہ ہو ناشتے ہی میں ۱۵۰۰ حرارے پورے کر کے باقی سارا دن بھوک کاٹو، اس سے پھر فرق نہیں پڑنا۔ ان حراروں کو ایک تو تھوڑی تھوڑی مقدار میں سارا دن میں تقسیم کر کے لینا ہے تاکہ بھوک بھی نہ لگے اور کسی ایک وقت میں بھی جسم کو زیادہ حراروں کا بوجھ نہ ملے، دوسرا یہ خیال کرنا ہے کہ نشاستہ دار اجزا (کاربو ہائیڈریٹس )کو کم سے کم غذا میں شامل کرو۔ اپنی توانائی کی ضرورت پروٹین اور صحت افزاء چربی سے پوری کرو۔ روٹی کا استعمال کرنا ہو تو مکمل گندم کی بنی ہوئی کھائو اور میدے سے بنی اشیاء،چاول، تلی ہوئی اشیاء اور چینی کا استعمال ترک کر دو۔ دیسی گھی، مکھن ، انڈے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔سبزی کھائو، پھل کھائو مگر اس کی مقدار کا دھیان رکھنا ہے کہ جو ہدف حراروں کا مقرر ہو اس سے زیادہ نہ ہونے پائے۔ہر غذا اور اس میں موجود حراروں کی معلومات بھی اب باآسانی دستیاب ہوتی ہیں اور سب سے بڑی بات ، کوشش کرو، اپنے آپ کو تنائو سے دور رکھو، چھوٹی موٹی الجھنوں، پریشانیوں سے گھبرانا نہیں ، خوش رہنا سیکھو، ہنستے ہنساتے رہا کرو۔ کھانے کے اوقات بنائو اور رات کو وقت پر جلدی سو جایا کرو ۔وہ سنتا رہا پھر گویا ہوا۔’’ ایک بات میں بھی بتائوں، یہ معاشرہ ہمیں نظم وضبط سے جینے نہیں دیتا۔محتاط رہنے والوں کا بلا وجہ تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ذیابیطس کا مریض خود پرہیز کر رہا ہو گا اور اس کے آگے پیچھے لوگ اسے میٹھا پیش کر کے کہ رہے ہوتے ہیں کہ چھوڑو پرہیز یہ ڈاکٹرز تو یونہی کہتے رہتے ہیں ‘‘ وہ بولے جا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کے صحت کو یقینی بنانے کے لئے کیسے انسان کو معاشرے کی بے تکلفانہ اقدار سے بھی لڑنا پڑتا ہے۔محفل طعام میںقرابت داروں اور احباب کے یارانوں کا بھرم رکھنا پرہیز میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ہم سب کو انصرامِ وزن پر کاربند شخص کے لئے معاون کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ اس کا عزم متزلزل نہ ہونے پائے اوروہ نظم و ضبط کے ساتھ ایک تندرست اور متحرک زندگی کی منزل پا سکے۔