Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

انوکھا لاڈلا

(گزشتہ سے پیوستہ)
بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس حقیقت کو امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی دہائیوں سے اسرائیل کو واشنگٹن کی جانب سے غیر معمولی سفارتی، سیاسی، عسکری اور معاشی حمایت حاصل رہی ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر، خصوصاً اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں، اسرائیل پر تنقید میں اضافہ ہوا، امریکہ نے اکثر اپنے ویٹو کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اتحادی کو احتساب یا مذمت کی قراردادوں سے بچایا۔ نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو، اس مسلسل حمایت نے یہ تاثر پیدا کیا کہ اسرائیل اپنی پالیسیوں کو بامعنی نتائج کے خوف کے بغیر جاری رکھ سکتا ہے۔
غزہ میں دیکھے جانے والے دل دہلا دینے والے مناظر، لبنان میں بار بار کی جانے والی فوجی کارروائیاں اور وہ متعدد اقدامات جنہیں عالمی برادری کے بڑے حلقوں نے تنقید کا نشانہ بنایا، اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے رہے۔ ہر واقعے کے بعد مذمت ضرور ہوئی، لیکن جوابدہی کے لئے مؤثر دباؤ اکثر مفقود رہا۔ نتیجتاً ناقدین کے مطابق اسرائیلی قیادت کے اعتماد میں اضافہ ہوتا گیا کہ اس کے اقدامات کو اس کا طاقتور ترین اتحادی مسلسل تحفظ فراہم کرتا رہے گا۔
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کیا، جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات ترک کرنے کی دھمکی دی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’’پاگل‘‘ قرار دیا اور انہیں یاد دلایا کہ اگر ان کی حمایت نہ ہوتی تو وہ مشکلات کا شکار ہو سکتے تھے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ بیروت پر حملے کی دھمکی اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
اس مکالمے کی ہر تفصیل تاریخی جانچ پڑتال میں کس حد تک درست ثابت ہوتی ہے، اس سے زیادہ اہم وہ سبق ہے جو اس واقعے سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس والدین کی مانند ہے جو اچانک محسوس کرتا ہے کہ جس بچے کی ہر غلطی معاف کی جاتی رہی، وہ اب نصیحت سننے اور ہدایت ماننے کیلئے تیار نہیں۔ غیر مشروط حمایت وقتی طور پر وفاداری تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن وہ اس اختیار کو بھی کمزور کر دیتی ہے جو ضرورت کے وقت نظم و ضبط نافذ کرنے کیلئے درکار ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جوابدہی، خواہ خاندان کے اندر ہو یا اقوام کے درمیان، دشمنی کا اظہار نہیں بلکہ ذمہ داری کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ جو والد اپنے بچے کی اصلاح کرتا ہے، وہ دراصل اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ جو دوست غلطی کی نشاندہی کرتا ہے، وہ بڑے نقصان سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح وہ اتحادی جو قانون اور اصولوں کی پابندی پر زور دیتا ہے، دراصل وقتی مصلحت کے بجائے دیرپا استحکام کا خواہاں ہوتا ہے۔
تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ بے لگام طاقت شاذ و نادر ہی اعتدال پر قائم رہتی ہے۔ وہ پھیلتی رہتی ہے یہاں تک کہ کسی مزاحمت سے ٹکرا جائے۔ جوابدہی کا فقدان ہم آہنگی پیدا نہیں کرتا بلکہ محض تصادم کو مؤخر کر دیتا ہے۔ جتنی دیر اصلاح میں کی جائے، اتنا ہی مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ بعد میں سامنے آتا ہے۔ لاڈ پیار میں پلنے والا بچہ بالآخر حقیقت سے ٹکراتا ہے، اور بے قید ریاست آخرکار ایسے نتائج کا سامنا کرتی ہے جن سے بروقت نصیحت اور دانشمندانہ رہنمائی کے ذریعے بچا جا سکتا تھا۔
اسی لیے ہمارے بزرگوں کی حکمت آج بھی پوری معنویت کے ساتھ ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ محبت کو کبھی لاڈ میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، حمایت کو اندھی تائید نہیں بننا چاہیے، اور اختیار کو ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ جڑا رہنا چاہیے۔ چاہے معاملہ گھر کی چار دیواری کا ہو، سڑک کا ہو یا عالمی سیاست کے وسیع میدان کا، اصول ایک ہی رہتا ہے۔ جو لوگ چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہیں، وہ اکثر اس وقت بے بس ہو جاتے ہیں جب وہی غلطیاں قابو سے باہر ہو جائیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والے سانحات، خواہ وہ جان لیوا ٹریفک حادثات ہوں یا تباہ کن جنگیں، ہمیں یہی یاد دلاتے ہیں کہ آج نظر انداز کی گئی ذمہ داری کل کہیں زیادہ ہولناک صورت اختیار کرکے لوٹتی ہے۔
بلاشبہ، محبت کی آنکھ کے ساتھ نگرانی کی آنکھ بھی ضروری ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو افراد، خاندانوں اور قوموں کو اس بھاری قیمت سے بچا سکتا ہے جو بے لگام لاڈ پیار اور غیر مشروط رعایت بالآخر وصول کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں