Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

تاریخ کے اسباق اور قومی بیداری کی ناگزیر ضرورت

(گزشتہ سے پیوستہ)
وقت گزرنے کے ساتھ کئی پوشیدہ حقائق منظرِ عام پر آئے۔ خطے کے متعدد سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور مبصرین نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بیرونی کردار کے مختلف پہلوؤں کو تسلیم کیا۔ بعد ازاں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے بعض بیانات نے بھی اس تاثر کو تقویت دی کہ بھارت نے پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنے کے لیے فعال حکمتِ عملی اختیار کی تھی۔ ان اعترافات نے ان شبہات کی مزید توثیق کی جنہیں بہت سے لوگ عرصہ دراز سے درست سمجھتے رہے تھےتاہم یہ داستان 1971ء پر ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بعد کی دہائیوں میں بھی مختلف صورتوں میں جاری رہیں۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی طویل عرصے تک بدامنی اور تشدد کی لپیٹ میں رہی جس کے اثرات قومی استحکام اور اقتصادی ترقی پر مرتب ہوئے۔ اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کے حوالے سے بھی وقتاً فوقتاً خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ انہیں ایسے شواہد حاصل ہوئے ہیں جو بعض معاند بیرونی عناصر کے کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔علاقائی حالات میں آنے والی تبدیلیوں نے ان چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ہمسایہ افغانستان میں رونما ہونے والے حالات نے بھی کئی مرتبہ سلامتی کے منظرنامے کو نئی جہتیں عطا کیں اور ان قوتوں کے لیے مواقع پیدا کیے جو پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتی تھیں۔ خواہ یہ مداخلت براہِ راست ہو، پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ہو یا اطلاعاتی جنگ کی شکل میں، مقصد ایک ہی رہا: داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا۔
آج کے دور میں مقابلے کے نئے میدان وجود میں آ چکے ہیں۔ حساس علاقوں میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے اور ان طبقات کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں جو ماضی میں پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری اور وابستگی کا بھرپور اظہار کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے اس برق رفتار دور میں جنگ صرف سرحدوں اور افواج تک محدود نہیں رہی۔ بیانیے، تصورات اور گمراہ کن معلومات اب ایسے ہتھیار بن چکے ہیں جو معاشروں کی سوچ اور رویوں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔تاریخ کا سبق نہایت واضح ہے۔ قومی سلامتی صرف عسکری قوت سے محفوظ نہیں ہوتی بلکہ اس کی حقیقی بنیاد اتحاد، شعور اور استقامت پر استوار ہوتی ہے۔ ایک بیدار قوم وہ ہوتی ہے جو اپنی داخلی ہم آہنگی کی قدر کو پہچانتی ہے اور اختلاف، فتنہ، گمراہ کن اطلاعات اور بیرونی چالبازیوں کا شکار ہونے سے انکار کر دیتی ہے۔ کسی بھی بیرونی سازش کے خلاف سب سے مضبوط حصار ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد اور وابستگی کا وہ رشتہ ہے جو وقت کے ہر امتحان میں ثابت قدم رہے۔تاریخ کا مقصد محض ماضی کے واقعات کو دہرانا نہیں ہوتا۔ اس کا اصل فریضہ مستقبل کی راہوں کو روشن کرنا ہے۔ ماضی کے سانحات کو دائمی تلخی کا سبب بنانے کے بجائے انہیں اتحاد، بصیرت اور بیداری کی اہمیت کی یاد دہانی بنانا چاہیے۔ اگر پاکستان کو ایک مستحکم، خوشحال اور باوقار مستقبل کی جانب اعتماد کے ساتھ بڑھنا ہے تو اسے اپنی تاریخ سے مسلسل سبق سیکھنا ہوگا، اپنے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا اور قومی یکجہتی کی اس روح کو زندہ رکھنا ہوگا جس نے اسے بے شمار مشکلات کے باوجود قائم و دائم رکھا ہے۔ تاریخ کا آئینہ ہمیں صرف یہ نہیں دکھاتا کہ ہم نے کیا کھویا، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ آئندہ ایسے نقصانات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں