Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

آلودگی کی تباہی اور اداروں کی بے حسی

پاکستان ماحولیاتی تباہی کے ایک بھاری طوفان کا شکار ہے۔ پچھلے سال پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ ملک قرار پایا۔ یہ آلودگی ہوا پانی مٹی اور جنگلات سب کو نگل رہا ہے۔ ہماری موجودہ نسلیں تو متاثر ہو ہی رہی ہیں آنے والی نسلوں کی بنیاد بھی ہل رہی ہے۔ ورلڈ انوائرمنٹ ڈے دو ہزار چھبیس پر جب پاکستان کے گرین ایکشن پلان کا ذکر کیا جا رہا تھا تو دل میں سوال اٹھ رہا تھا کہ کیا یہ حقیقت ہے یا صرف ایک خواب۔ شدید گرمی کی لہریں، پائیدار ترقی کے دعوے جنگلات کی بحالی اور آلودگی روکنے کے وعدے سب کاغذوں تک محدود ہیں۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان جیسے شہروں میں سانس لینا بھی مشکل ہو چکا ہے۔عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق باریک ذرات کی مقدار صحت کے لئے مقررہ حد سے تیرہ گنا زیادہ ہے۔لاہور اور کراچی میں یہ مقدار سردیوں میں سو سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ دھند کا یہ دھواں پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے ہر سال قومی پیداوار کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ لوگ ہوا کی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔یہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ بچے سانس کی بیماریوں دمہ اور الرجی کا شکار ہو رہے ہیں۔ بزرگ بھی پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ مزدور طبقہ جو دن بھر باہر کام کرتا ہے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ لاہور میں دھند،اتنی گھنی اور بے پناہ مقدار میں پھیل جاتی ہے کہ وہ زمروں یعنی ٹڈی دل کی طرح پورے شہر کو ڈھک لیتی ہے۔۔ سکول بند ہو جاتے ہیں سڑکیں سنسان پڑ جاتی ہیں اور کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے۔
حکومت دھند روکنے کا پلان بناتی ہے مگر نافذ کچھ نہیں ہوتا۔ اینٹی دھند گاڑیاں، سپرے اور جرمانے صرف عارضی اقدامات ہیں جو جڑوں تک نہیں پہنچتے۔ شدید گرمی کی لہریں موت کی لہریں بن چکی ہیں۔ کراچی اور سندھ کے علاقوں میں درجہ حرارت چوالیس سے چھیالیس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ ہیٹ سٹروک سے کئی لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے ان گرمی کی لہروں کو کئی گنا خطرناک بنا دیا ہے۔ شہروں میں عمارتیں اور آلودگی مل کر گرمی کو اور بڑھا رہی ہے۔ حکومت گرمی کے خلاف پلان بناتی ہے مگر عمل درآمد صفر ہے۔ پانی کی قلت، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور صحت کے شعبے کی ناکامی غریبوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے۔جنگلات کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ پاکستان میں جنگلات صرف پانچ فیصد علاقے کو ڈھانپتے ہیں جبکہ عالمی معیار پچیس فیصد ہے۔ غیر قانونی کٹائی، آبادی کا دبا اور بغیر پلاننگ کے رہائشی آبادیوں کی توسیع نے جنگلات کو تباہ کر دیا ہے۔ ہر آنے والی حکومت اربوں درخت لگانے جیسے پروگراموں کا بہت شور مچاتی ہے مگر حقیقت میں قدرتی جنگلات مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کا ایک اہم اور خطرناک سبب بے تحاشا درخت کنی ہے۔ خاص طور پر ہمارے سیاحتی پہاڑی علاقوں میں غیر قانونی اور بے رحمانہ درخت کاٹنے نے قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سوات، مری، گلیات، کاغان اور دیگر خوبصورت پہاڑی علاقوں میں درختوں کو کاٹ کاٹ کر پہاڑوں کو ننگا کر دیا گیا ہے۔ جہاں کبھی گھنے جنگلات ہوا کو صاف رکھتے تھے، بارشوں کو متوازن بناتے تھے اور مٹی کو محفوظ رکھتے تھے وہاں آج ننگے پہاڑ نظر آتے ہیں۔اس بے دریہ درخت کنی نے نہ صرف ہوا میں کاربن کی مقدار بڑھا دی ہے بلکہ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید گرمی کی لہروں کا خطرہ بھی بڑھا دیا ہے۔ اگر اسی طرح درخت کاٹنے کا سلسلہ جاری رہا تو ہمارے پہاڑی علاقے جلد ہی بالکل بنجر ہو جائیں گے اور ماحولیاتی تباہی کی شدت مزید بڑھ جائے گی۔ یہ صرف ماحول کی تباہی نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اس کی وجہ سے سیلابوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مٹی کا کٹا ہو رہا ہے اور ہوا میں کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ راوی، ستلج، جہلم یا دریائے سندھ ہوں سب کی حالت ابتر ہے۔ صنعتی فضلہ، دوائیوں کی باقیات اور سیوریج کی گھریلو نالیاں بغیر کسی رکاوٹ کے ان ندیوں میں بہائی جا رہی ہیں۔نوے فیصد سے زیادہ آبادیوں کا گندا پانی بغیر صاف کیے ندیوں اور دریاوں میں جاتا ہے۔دست، ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ مٹی بھی زہریلی ہو چکی ہے۔ کیمیکل کھادیں، کیڑے مار ادویات اور صنعتی زہر نے زرعی زمین کو خراب کر دیا ہے۔ فصل کی پیداوار کم ہو رہی ہے اور کھانے کی چیزوں میں زہریلے عناصر داخل ہو رہے ہیں۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومتی ادارے وزارت موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسیاں اور صوبائی محکمے جیسے کچھ نہ کرنے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں۔ قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔
صنعتیں، اینٹوں کے بھٹے اور گاڑیاں بغیر فلٹر کے چل رہی ہیں۔ کرپشن، سیاسی مداخلت اور وسائل کی کمی نے ماحولیاتی کاموں کو مفلوج کر دیا ہے۔ گرین ایکشن پلان کا اعلان ہوتا ہے، تجدید پذیر توانائی، درخت لگانے اور آلودگی روکنے کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر بجٹ کم، نگرانی نہ ہونے کے برابر اور کرپشن پر جواب دہی بالکل غائب ہے۔ پاکستان میں اوزون کی تہہ کے تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ایک وفاقی ادارہ موجود ہے جسے نیشنل اوزون یونٹ یا اوزون سیل کہا جاتا ہے۔یہ ادارہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر ایگزیکٹو کمپلیکس، جی ایٹ میں واقع ہے۔اس یونٹ کا بنیادی کام مونٹریال معاہدے کے تحت اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والے کیمیکلز، جیسے ایئر کنڈیشنرز اور فریجز میں استعمال ہونے والی گیسوں کے استعمال کو کم کرنا اور اس سلسلے میں پالیسیاں بنانا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اقدامات بھی پاکستان کو دنیا میں آلودہ ترین ملکوں کی فہرست میں نیچے نہیں لا سکے۔آلودگی کا سب سے بڑا شکار ہماری نئی نسلیں ہیں۔ بچوں کی نشوونما رک رہی ہے، ذہنی صلاحیتوں میں کمی آ رہی ہے اور دائمی بیماریاں نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں۔ غریب لوگ جو شہروں کے نچلے علاقوں میں رہتے ہیں سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ امیر لوگ ایئر پیوریفائر اور ایئر کنڈیشنر خرید سکتے ہیں مگر غریب سانس لینے کے لیے بھی مجبور ہیں۔ دیہی علاقوں میں گھریلو دھواں اور پانی کی آلودگی خواتین اور بچوں کی صحت تباہ کر رہی ہے۔ یہ طبقاتی آلودگی ہے جو عدم مساوات کو مزید بڑھا رہی ہے۔اس تباہی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ صنعتی اور گاڑیوں کے اخراج پر سخت جرمانے اور نگرانی ہونی چاہیے۔ قدرتی جنگلات کی حفاظت اور مقامی لوگوں کی شمولیت سے درخت لگانے کے کام کیے جائیں۔ گندے پانی کی صفائی کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں اور کھیتی باڑی کو قدرتی طریقوں سے کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ سورج اور ہوا کی توانائی کو ترجیح دی جائے۔ تعلیم کے نصاب میں ماحولیات کو شامل کیا جائے اور نوجوانوں کو آگے لایا جائے۔ کرپشن کی فوری روک تھام کی جائے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے مگر ہم بطور قوم خود بھی اپنی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اگرحکومت اور سرکاری ادارے ابھی بھی نہ جاگے تو پائیدار ترقی کے خواب صرف خواب ہی رہیں گے۔ وقت ختم ہو رہا ہے۔ ہماری نسلیں آلودگی کے اس ہیکل سے تباہ ہو رہی ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی توجہ نہ کی تو ہماری نسلیں باقی نہیں رہیں گی جو اس تباہی کو یاد کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں