ماضی کی طرح اس بجٹ میں بھی کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں ہے، عوام کو خاص ریلیف ملا ہے اور نہ ہی کاروباری افراد کے لئے کوئی خصوصی پیکیج رکھا گیا ہے۔ صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لئے ٹیکسز اور یوٹیلیٹیز کی مد میں کوئی خاص رعایت نہیں دی گئی اور نہ ہی زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے کاشتکاروں کو کوئی اچھا پیکیج دیا گیا ہے۔ خداجانے ان کی کیا نیت ہوتی ہے لیکن یہ ہمیشہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں کاشتکار رل جاتا ہے۔ ابھی بھی کاشتکاروں کی زندگی اجیرن ہے، مسلم لیگ ن دور کے پہلے سال میں کسانوں کو گندم کی قیمت نہیں ملی، اگلے سالوں بارڈر بند ہونے کی وجہ سے پھلوں اور اجناس کی قیمتیں زمین بوس ہوگئیں لیکن لیگی قیادت کسانوں کے مسائل سے لاتعلق رہی۔ ویسے تو ہر آنے والی حکومت کا یہ وطیرہ رہا یے کہ وہ بجٹ کو آمدنی اور اخراجات کے میزان سے بڑھ کر نہیں دیکھتیں لیکن عوامی مسائل کے حوالے سے جو بے حسی مسلم لیگ ن کے دور میں ہوتی ہے وہ کسی اور کے عہد میں نہیں ہوتی۔ یہ درست ہے کہ بجٹ بنیادی طور پر آمدن اور اخراجات کا میزان ہی ہوتا ہے لیکن حکومت کے معاشی ماہرین کا یہ کارنامہ ہوتا ہے کہ وہ اس میں ایسا توازن پیدا کردیتے ہیں جس سے ملکی ترقی کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور کاروبار فروغ پاتے ہیں۔ کوشش کی جاتی ہے کہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے اور کاروبار خواہ وہ حکومتی سطح پر ہو یا پرائیویٹ سیکٹر کا ہو کے ذریعے ریاستی آمدنی کا ہدف پورا کیا جائے۔ بدقسمتی سے تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں ریاستی آمدنی حاصل کرنے کا آسان طریقہ عوام کی بنیادی ضروریات پر ڈائریکٹ ٹیکس لگانا ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی یہ روش نہیں بدلی۔ آج بھی حکومت اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ پیٹرول، بجلی اور گیس پر ہوشربا ٹیکس لگا کر وصول کر رہی ہے۔ رہی سہی کسر کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس لگا کر پوری کی جاتی ہے۔
کسی حکومت کے معاشی ماہرین کی کارکردگی اور معیار چیک کرنا ہو تو اول یہ دیکھیں کہ انہوں نے حکومتی آمدنی کو حاصل کرنے کے ذرائع کیا رکھے ہیں۔ دوم، یہ دیکھیں کہ انہوں نے حکومتی اخراجات کو کیسے کم ترین سطح پر لایا ہے۔ کاروبار مملکت چلانے کے لئے ضروری اخراجات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن عوام بھوک اور افلاس کا شکار ہو رہی ہو جبکہ دوسری طرف حکومتی اکابرین کی عیاشیاں اور اللے تللے ختم ہونے میں نہ آئیں، یہ نہیں ہونا چاہئیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہوتا آیا ہے۔ حکومت کے وزیروں اور افسروں کے پروٹوکول چیک کریں، ریاست کے وسائل کو آگ جیسے پاکستان میں لگائی جاتی ہے دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو گا جہاں ایسے ہوتا ہو۔ میں عرض کر رہا تھا کہ معاشی ماہرین کا امتحان یہ ہوتا ہے کہ اخراجات کم کر کہ آمدنی میں اس طرح اضافہ کیا جائے تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے اور ترقی کا سفر بھی نہ رکے۔ معذرت کے ساتھ پاکستان میں آج تک ایسا کوئی وزیر خزانہ نہیں آیا۔ کم از کم میں نے اپنی شعوری زندگی میں تو کوئی ایسا مہان معیشت دان نہیں دیکھا جس نے ریاستی کاروبار کو بڑھانے کے لئے نئی راہیں نکالی ہوں اور اس کے لئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیوں کی بنیاد رکھی ہو۔ جو وزیر خزانہ آیا اس کی قابلیت محض اس حد تک تھی کہ رواں سال کیسے گزرے گا۔ چنانچہ اس نے قومی خزانے کا میزان برقرار رکھنے کے لئے عوام کی چیخیں نکال دیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا نام آیا لیکن جو آیا وہ آئی ایم ایف کا پٹھو اور وفادار ہی آیا۔ پاکستانی قوم کا ہمدرد اور احساس رکھنے والا وزیر خزانہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ اسحق ڈار کے بارے میں لوگوں کی رائے تھی کہ وہ کچھ مختلف انداز سے سوچتے ہیں لیکن انہیں بھی باوجوہ ناکامی کا سامنا رہا۔ آج ماہر معیشت کے نام پر ایک اور گمنام شخص وزارت خزانہ کے منصب پر فائز ہے اور ماضی کے گمنام معاشی ماہرین کی طرح عوام اور پاکستان ان کی فنکاریاں بھگت رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں مذید بھگتیں گے۔ ان سے کہیں بہتر تھا کہ مسلم لیگ ن اسحق ڈار کو وزیر خزانہ بنا دیتی ، کم از کم وہ پاکستان میں کاروبار کی ترویج کے لئے بہتر اقدامات تجویز کرتے۔
اس سال کا بجٹ میرے نزدیک پاکستان میں کوئی خاص کاروباری سرگرمی لانے کا سبب نہیں بنے گا۔ توقع تھی کہ پراپرٹی کے کاروبار کو تقویت دینے کے لئے، خاص طورپر متحدہ عرب امارات سے انوسٹمنٹ واپس لانے کے لئے حکومت پراپرٹی کی ٹرانزیکشنز یعنی خرید و فروخت پر ٹیکسز کا بوجھ خاطر خواہ کم کرے گی لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ حکومت نے فائلر کی حد تک ٹیکس ریٹ تھوڑا سا کم ضرور کیا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ حکومت نے اصل ایشو کو ایڈریس نہیں کیا۔ گزشتہ تین سالوں میں پراپرٹی کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی کی وجہ فائلرز اور نان فائلرز کی وہ سلیب ہے جس نے پاکستان میں پراپرٹی کا کاروبار نہ صرف ٹھپ کر دیا بلکہ ملکی زر مبادلہ یو اے ای اور دیگر ممالک کی پراپرٹی مارکیٹ میں ٹرانسفر ہوا۔ آج توقع کی جا رہی تھی کہ متحدہ عرب امارات کے مخصوص حالات کی وجہ سے حکومت پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ریلیف دے گی تاکہ سرمایہ کار واپس پاکستان کا رخ کریں لیکن لگتا ہے یا تو بجٹ بنانے والے سرے سے ہی اس مسئلے سے نابلد ہیں یا پھر آئی ایم ایف نے اپنی کٹھ پتلیوں کو ایسا کرنے سے روک دیا ہے۔ حکومتیں اپنے قومی مفادات پر کیسے سمجھوتہ کر لیتی ہیں اس کو سمجھنے کے لئے یہ مثال کافی ہے۔ اگر حکومت پراپرٹی میں انوسٹمنٹ کو واپس لانے میں سنجیدہ ہوتی تو لیٹ فائلر کا سلیب ختم کرتی اور نان فائلر پر ساڑھے گیارہ اور بارہ فیصد ایڈوانس ٹیکس کو کم کر کے اسے مناسب سطح پر لے آتی۔ اس وقت خریدار پر ایڈوانس ٹیکس کم ہے لیکن فروخت کنندہ پر اس سے دوگنا ٹیکس عائد ہے یعنی کان ادھر سے پکڑو یا دوسری طرف سے، بات ایک ہی ہے۔ آج سے تین سال قبل ایڈوانس ٹیکس فائلر کے لئے 3 فیصد جبکہ نان فائلر کے لئے 6 فیصد تھا، اگرچہ یہ بھی زیادہ تھا لیکن اس سے کام چل رہا تھا۔ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت نے فائلر اور نان فائلر کا موجودہ سلیب متعارف کروایا۔ اس نے نہ صرف پراپرٹی کے کاروبار کو تباہ کیا بلکہ سرمایہ کاروں کو ملک سے بھگا دیا۔ ایک اندازے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی پراپرٹی مارکیٹ میں بیس ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری پاکستانیوں کی ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت اس سرمایہ کو واپس پاکستان لائے تا کہ ملکی معیشت کو سہارا ملے۔ اگر حکومت مخلص ہے اور ملکی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کر رہی تو اسے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس دوبارہ اس سطح پر لانا چاہئیے جہاں یہ آج سے تین سال قبل تھا، ہو سکے تو اس سے بھی اور کم کر دینا چاہیے۔