Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

سردار ایاز صادق اور پارلیمانی تاریخ کا نیا باب

قوموں کی ترقی کا پیمانہ محض ان قوانین یا اداروں سے نہیں ناپا جاتا جو وہ تشکیل دیتی ہیں، بلکہ اس امر سے جانچا جاتا ہے کہ ان کی قیادت کن ہاتھوں میں ہے اور وہ قیادت وقت کے تقاضوں کے مطابق اداروں کو کس حد تک ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حقیقی قیادت صرف اختیار کے استعمال کا نام نہیں بلکہ رواداری، فراخ دلی، دوراندیشی اور عوامی مفاد سے غیر متزلزل وابستگی کا مظہر ہوتی ہے۔ ایسی صفات نہ تو ایک دن میں حاصل ہوتی ہیں اور نہ ہی مسلسل جدوجہد کے بغیر برقرار رہ سکتی ہیں۔ تنقید کے مقابل صبر، مشکلات کے سامنے استقامت اور دشوار راستوں پر اصلاحات کا علم بلند رکھنے کا حوصلہ ہی ایک رہنما کو ممتاز بناتا ہے۔ عصرِ حاضر کے پاکستان میں اگر چند شخصیات ان اوصاف کی حقیقی نمائندگی کرتی ہیں تو تین مرتبہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے والے سردار ایاز صادق ان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
عظیم قیادت کی پہچان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے اداروں کو بہتری کی جانب گامزن کرے۔ اپنی پوری پارلیمانی زندگی میں سردار ایاز صادق نے عاجزی اور عزم کا ایسا حسین امتزاج پیش کیا ہے جو کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے ایک جانب اتفاقِ رائے کی فضا کو فروغ دیا اور دوسری جانب بامعنی اصلاحات کے ذریعے قومی اسمبلی کو ایک جدید، مؤثر اور جوابدہ ادارے میں ڈھالنے کی مسلسل کوشش کی۔ ان کی قیادت محض ایوان کی کارروائی چلانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا اصل جوہر قومی اسمبلی کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں نمایاں نظر آتا ہے۔
ان کی سرپرستی میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں رائٹ سائزنگ، مالی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی جدیدیت پر مشتمل ایک جامع پروگرام نافذ کیا گیا جو اپنی نوعیت کی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ایسے وقت میں جب عوامی وسائل شدید دباؤ کا شکار ہیں اور دنیا بھر کی حکومتیں زیادہ مؤثر اور کفایت شعار نظامِ حکمرانی کی تلاش میں ہیں، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے دانشمندانہ مالی انتظام کا ایک روشن نمونہ پیش کیا ہے۔ محتاط منصوبہ بندی، کفایت شعاری کی پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 ء کے دوران تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جو سیکریٹریٹ کے کل بجٹ شدہ اخراجات کے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
اس کامیابی کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ ادارے کی کارکردگی یا ملازمین کی فلاح و بہبود پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہونے دیا گیا۔ سیکریٹریٹ میں منظور شدہ آسامیوں کی تعداد 1725 سے کم کرکے 1344 کر دی گئی، لیکن نہ کسی ملازم کو برطرف کیا گیا اور نہ ہی کسی کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ انسانی وسائل کے انتظام کی ایک بالغ نظر حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں سزا کے بجائے دانشمندانہ تنظیم نو کے ذریعے کارکردگی کو بہتر بنایا گیا۔
اسی طرح غیر تنخواہی اخراجات میں کمی کے لئے مضبوط مالی نگرانی، خریداری کے شفاف اور معقول طریقہ کار، توانائی کے تحفظ کی مہمات اور انتظامی امور پر سخت کنٹرول متعارف کرایا گیا۔ ان اقدامات نے نہ صرف نمایاں مالی بچت پیدا کی بلکہ جوابدہی اور ذمہ دار طرزِ حکمرانی کی ایک نئی ثقافت کو بھی فروغ دیا۔ ایسے دور میں جب اداروں پر عوامی اعتماد کا انحصار شفافیت اور مالی احتیاط پر بڑھتا جا رہا ہے، یہ اصلاحات دیگر اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں۔
تاہم اس اصلاحاتی سفر کا سب سے انقلابی پہلو اسپیکر قومی اسمبلی کا ’’پیپر لیس پارلیمان‘‘ کا خواب تھا۔ کئی دہائیوں سے پارلیمانی امور کاغذات کے انباروں، رپورٹس، ایجنڈوں، نوٹسز اور قانون سازی سے متعلق دستاویزات پر منحصر رہے ہیں۔ پارلیمانی امور کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن نے اس روایت کو یکسر بدل دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کی الیکٹرانک ترسیل نے کاغذ کے استعمال، طباعت کے اخراجات اور انتظامی تاخیر میں نمایاں کمی لائی ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ کے مقاصد کو بھی تقویت بخشی ہے۔ یہ تبدیلی اس شعور کی عکاس ہے کہ جدید ٹیکنالوجی محض سہولت نہیں بلکہ عصری حکمرانی کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں