تحریک پاکستان کی بنیاداوراغیارکی سازشیں
(گزشتہ سے پیوستہ) اس کے بعدبرطانوی حکومت نے’’مسئلہ ہند ‘‘ کاحل ڈھونڈنے کیلئے بہت سی کو ششیں کیں جن کی تفصیل کتابوں میں محفوظ ہے لیکن ساری کو ششیں اوراسکیمیں ایک ایک کرکے ناکام ہوگئیں۔سیاسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ
(گزشتہ سے پیوستہ) اس کے بعدبرطانوی حکومت نے’’مسئلہ ہند ‘‘ کاحل ڈھونڈنے کیلئے بہت سی کو ششیں کیں جن کی تفصیل کتابوں میں محفوظ ہے لیکن ساری کو ششیں اوراسکیمیں ایک ایک کرکے ناکام ہوگئیں۔سیاسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ
(گزشتہ سے پیوستہ) اسی پس منظرمیں حضرت قائداعظم نے علی گڑھ میں1944میں خطاب کے دوران کہاتھاکہ پاکستان اسی دن وجودمیں آگیاتھاجس دن ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھاکیونکہ مسلمان ایک مخصوص انداززندگی،ایک منفردکلچراورسوچ کی نمائندگی کرتاہے جوہرلحاظ سے
پاک وہندکی صدیوں پرپھیلی ہوئی تاریخ کامطالعہ کیاجائے توغوروفکرکے نئے دریچے کھلتے ہیں اوریوں محسوس ہوتاہے جیسے قیام پاکستان کی بنیادکئی صدیا ں پہلے رکھ دی گئی تھی اوربعد ازاں تاریخ حالات کواس مقصدکیسانچے میں ڈھالتی رہی،اسی لئے بعض مؤرخین
اسرائیل پرایرنی بیلسٹک میزائلوں کے بعد بڑھتی ہوئی خاموشی کے طوفان میں حیرت انگیزتلاطم جاری ہے اورخطے میں ممکنہ ردِٓعمل کے بارے میں خطرناک قسم کی خبریں بھی گونج رہی ہیں کہ آیایہ حملہ کیسااورکس نوعیت کاہوگا؟فریقین اب ایک دوسرے
11مئی 1995ء کوجوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاکے معاہدے میں فریق ممالک نے یہ ایک مرتبہ پھرسرجوڑکرفیصلہ کیاتھاکہ عدم پھیلاکامعاہدہ غیرمعینہ مدت تک مؤثر رہنا چاہیے۔ اس معاہدہ کا آغاز 1970میں ہواتھااورابتدائی طورپراِس معاہدے کی مد 25برس رکھی گئی تھی۔اسی لیے
(گزشتہ سے پیوستہ) 1956ء میں جب اسرائیل برطانیہ اور فرانس نے نہرسوئزپرقبضہ کرنے کیلئے جنگ کاآغازکیا تو اس وقت مریکی صدرآئزن ہاورنے اس جنگ پرشدید ناراضی کااظہار کیااوراسرائیل کودھمکی دی جس کے نتیجے میں اسرائیل نے چندمہینوں میں تمام مصری
یہ سوچ بہت عام ہے کہ یہودی یااسرائیلی اس قدرچالاک اورذہین قوم ہے کہ امریکہ جواس وقت دنیاکی واحدسپرپاورہے بظاہر اسرائیل کی مرضی کے کچھ بھی نہیں کرتایاکرسکتا۔ پوری دنیاکی معیشت پریہودیوں کاقبضہ ہے۔میڈیاپرکوئی موضوع یاخبران کی مرضی کے بغیرچل
(گزشتہ سے پیوستہ) امریکا کی خطے میں عسکری موجودگی ہی کی وجہ سے اسرائیل اپنی بے مہارطاقت کے استعمال سے ساری دنیاکیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ اس حوالے سے واشنگٹن میں پالیسی انسٹیٹیوٹ ولسن سینٹر میں مڈل ایسٹ پروگرام
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اسرائیل پرحالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کے بعدخطے میں’’طوفان سے قبل خاموشی‘‘جیساماحول ہے۔ایک جانب اسرائیل کے ردِعمل کاانتظارتودوسری جانب اسرائیل پرحملے کے حوالے سے امریکی صدر جوبائیڈن سے سوال پوچھے جارہے ہیں جبکہ امریکی انتخابات کی
(گزشتہ سےپیوستہ) یادرہے کہ2022ء میں ایک براہموس میزائل پاکستان میں آگراتھاجس کے بارے میں انڈین وزارت دفاع کی جانب سے کہاگیاتھاکہ پاکستان کی حدودمیں گرنے والابراہموس میزائل حادثاتی طور پر انڈیاسے فائرہواتھا۔اس لئے یہ عین ممکن ہے کہ ’’انڈیابراہموس کوپاکستانی