ناروے اور سویڈش پریس کی مودی سے جواب طلبی
دنیا کی سیاست میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب تجارت، سفارت کاری، انسانی حقوق اور آزادی صحافت ایک ہی منظرنامے میں سمٹ کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہٗ سویڈن اور
دنیا کی سیاست میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب تجارت، سفارت کاری، انسانی حقوق اور آزادی صحافت ایک ہی منظرنامے میں سمٹ کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہٗ سویڈن اور
11 مارچ 1987ء کو قائد اعظمؒ کے سیکرٹری اور صدر آزاد جموں کشمیر اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ان جیسے کردار اور اعلیٰ اوصاف کا حامل کوئی اور سیاستدان نظر نہیں آتا۔ کے ایچ خورشید سے میری پہلی ملاقات 1984ء
یورپ اور امریکہ میں اس وقت ایک عجیب تضاد بیک وقت موجود ہے۔ایک طرف تارکینِ وطن اور مسلمانوں کے خلاف خوف، نفرت اور شکوک کی سیاست زوروں پر ہے، دائیں بازو کی جماعتوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، اور بیانیہ
سویڈن کے سابق وزیراعظم اور یورپی سیاست کے ایک نمایاں رہنما کارل بلدنے حال ہی میں ایک ایسا سچ بیان کیا ہے جسے مغربی دنیا عرصہ دراز سے نظرانداز کر رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ
دنیا کی تاریخ انسانی آزمائشوں سے بھری پڑی ہے، لیکن کچھ آزمائشیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر امتحان لگتی ہیں، مگر درحقیقت وہ قوموں کی فکری بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک ہمہ جہت حقیقت ہے: ’’فتنہ‘‘۔
یورپ اور سویڈن میں اس وقت تعطیلات کا دور ہے ۔ گرمیوں میں یہاں کے باشندے اکثر چھٹیوں پر جاتے ہیں، ساحلوں کا رْخ کرتے ہیں، پُرفضا مقامات یا پرسکون شہروں کا رُخ کرتے ہیں۔ لیکن اسی ماحول میں ایک
تاریخ انسانی میں ہمیشہ حق اور باطل کی قوتوں کے درمیان معرکہ آرائی رہی ہے ۔ تمام انبیاء اکرام اپنے اپنے دور میں باطل اور برائی کی قوتوں کے سامنے حق کا پرچم بلند کرتے رہے۔ حضرت خلیل اللہ ؑ
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو اس کشیدگی کے دوران ثالثی کے کردار میں سامنے آئے، نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان
انسان فطری طور پر ایک سماجی حیوان ہے۔ وہ تنہا رہنے کے لیے نہیں بنایا گیا، بلکہ اس کی روح، اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کا انحصار دوسروں کے ساتھ میل جول، تعلقات اور معاشرتی سرگرمیوں پر ہے۔ لیکن
ڈاکٹر افضل مرحوم سویڈن میں پاکستان کے سابق سفیر تھے۔ وہ ا علیٰ تعلیم یافتہ اور دانشور تھے جنہوں نے کئی ایک کتابیں لکھیں۔ ان کی پیدائش 1919ء میں ہوئی اور 1938ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم