Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پی ٹی آئی، تابوت اور آخری کیل

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور میاں محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ تشدد پر اکسانے والی زبان کا استعمال پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ یہ طرزِ فکر و عمل سابق حکمراں جماعت کو بالآخر پھندے میں پھنسا دے گا، اسی سے ملتا جلتا تبصرہ پچھلے دنوں پی ٹی آئی کے گھر کے بھیدی حسن چوہدری نے بھی کیا تھا جو پی ٹی آئی یوتھ ونگ یوکے اینڈ یورپ کے بانی صدر تھے لیکن پھر نظریاتی اختلاف کی وجہ سے مرشد کا یہ باغی مریدپارٹی چھوڑ گیا، اپنے ایک مرچ مصالحہ انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان تابوت میں لیٹ کر اندر سے کیل لگا رہا ہے، پی ٹی آئی یوتھ ونگ یوکے اینڈ یورپ کے صاحب فکر بانی صدر حسن چوہدری نے پی ٹی آئی اور عمران خان کو کیوں چھوڑا اس حوالے سے انہوں نے انٹرویو کے دوران بڑے سنسنی خیز انکشافات کیے، حسن چوہدری پچھلے کئی برسوں سےبانی پی ٹی آئی کےسخت ناقد ہیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی کی ان کی پالیسی اور سانحہ9 مئی کےحوالے سے بار بار موقف بدل کر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سازشیں کرنے کی ان کی انتشاری پالیسی کے تناظر میں حسن چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران تابوت میں لیٹ کر اس کو اندر سے خود کیل لگا رہے ہیں اور ان کے ساتھ جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ ان کی اپنی منافقانہ اور سازشی پالیسیوں کا کیا دھرا ہے، حسن چوہدری نے پالیسی ایشوز پر نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پانچ چھ سال قبل پی ٹی آئی کو خیرباد کہا اور اس کے بعد سے وہ یہ گفتگو مسلسل کرتے آ رہے ہیں اور آج حالات جس نہج پر جا رہے ہیں انہوں نے مرشد کے اس باغی مرید کے خدشات کو بڑی حد تک درست بھی ثابت کر دیا ہے، حسن چوہدری برطانیہ میں مقیم اوور سیز پاکستانی ہیں اور ایک صحافی اور پی ٹی آئی کے پرانے کارکن اور 12 ، 13 برس پی ٹی آئی اوور سیز کے اہم رہنما بھی رہے اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سینٹرل سیکرٹریٹ میں انتہائی اعلی سطح کی حساس ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے، پی ٹی آئی اور بانی چیئرمین کو انہوں نے کیوں چھوڑا ؟ اس حوالےسےایک خصوصی انٹرویو میں حسن چوہدری نے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں۔ گھر کے بھیدی کی حیثیت سے لنکا ڈھاتے ہوئے حسن چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جو اصل شخصیت ہے وہ بظاہر تاثر سے بالکل مختلف ہے، طویل عرصہ ان کے قریب رہ کر جب یہ منافقت دیکھی تو دل پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی سے اچاٹ ہو گیا ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی شخصیت کا یہ ایک بڑا عجیب پہلو ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو بہت امیر آدمی ہے وہ بہت سیانا ہے، اور دوسرے یہ کہ جو بھی بندہ اول فول بک سکتا ہے وہ فرنٹ مین ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا واریئرز کا گالم گلوچ والا کلچر بھی اسی لیے پروان چڑھا، پی ٹی آئی والوں کے اختلاف رائے برداشت نہ کرنے اور ڈیجیٹل دھشت گردوں کا روپ دھار لینے والے موجودہ کلٹ سٹائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حسن چوہدری نے کہا کہ جو تحریک انصاف نظریاتی کارکنوں نے جوائن کی تھی وہ موجودہ پی ٹی آئی سے بالکل الگ تھی، انہوں نے کہا کہ جو تحریک انصاف ہم نے جوائن کی تھی وہ یہ نہیں تھی اور جو یہ تحریک انصاف ہے اس کی ہمیں کوئی سمجھ نہیں آتی ، اوور سیز پاکستانی تو اس جماعت میں اس لیے آئے تھے کہ اس جماعت کے ذریعے پاکستان بہتر ہو گا لیکن پی ٹی آئی والوں نے اسے مزید بدتر کر دیا ہے۔حسن چوہدری کا کہنا ہے کہ معروف گلوکار ابرار الحق سمیت وہ بہت سے پوٹینشل رکھنے والے اوور سیز پاکستانیوں کو پی ٹی میں لے کر آئے ،اسی زمانے میں انہیں پی ٹی آئی یوتھ ونگ یوکے اینڈ یورپ کا پہلا صدر مقرر کیا گیا، مراد سعید اور فیصل جاوید سمیت پی ٹی آئی کے بہت سے مرکزی رہنما ان کے پاس یوکے میں آ کر ٹھہرتے رہے، حسن چوہدری نے بتایا کہ وہ مانچسٹر میں پی ٹی آئی کی بنیاد رکھنے والی بانی ٹیم میں شامل تھے، انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اٹلی ، ناروے ، ڈنمارک ، سپین ، فرانس کے دورے کیئے وہاں بھی پی ٹی آئی یوتھ ونگ کی تنظیمیں قائم کیں، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عمران خان نظریاتی ورکرز کو پیچھے دھکیل کر خوشامدی ٹولے کو اپنے قریب لے آئے ہیں تو ان کا دل ٹوٹ گیا، ایسے لوگ قیادت نے اپنے گرد جمع کر لیے جو ان کے دن کو دن اور رات کو رات کہتے تھے، حسن چوہدری کا کہنا ہے کہ جب پارٹی کو الیکٹ ایبلز نے آ کر ہائی جیک کر لیا تو ہمارا اس پالیسی پر بھی سخت اختلاف پیدا ہو گیا کہ یہ تو وہی پرانی سیاست پی ٹی آئی نے خود پر مسلط کر لی ہے جس سوچ کیخلاف ہم تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوئے تھے، جب خان صاحب نے شاہ محمود کو پی ٹی آئی جوائن کروائی تو میں نے لکھا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ خان صاحب ہم سیاسی ورکرز کیلئے ہلکی پھلکی دال کی ڈش تیار کر رہے ہیں لیکن انہوں نے تو اس دال میں حرام جانور کا گوشت شامل کر کے ساری ہانڈی خراب کر دی ہے، اب یہ ٹھیک نہیں ہو سکتی،حسن چوہدری کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی سینٹرل سیکرٹریٹ میں جو کچھ ہوتا تھا اس حوالے سے ہمیں پہلے سے خدشات تھے لیکن جب میں نے اسے جوائن کیا اور وہاں جو کچھ ہو رہا تھا میں اس کی تہہ تک پہنچا تو وہ اس سے بھی بدترین صورتحال تھی جو ہمارے خدشات تھے، وہاں پارٹی کی تنظیم سازی کی حالت یہ تھی کہ جیسے بندروں کا تماشا لگا ہوا ہے۔ کسی صوبائی تنظیم کے صدر یا سیکرٹری کو خود پتہ نہیں ہوتا تھا کہ اس نے ضلعی یا تحصیل سطح پر کتنے ہیڈ بدلے ہیں یا کس ونگ کی گراس روٹ لیول پر کیا اسٹینڈنگ ہے، جو شخص عمران خان کے کان آکر بھر دیتا تھا وہ اسی کے مطابق آرڈر جاری کر دیتے تھے۔
تحریک انصاف کے مستقبل کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حسن چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مستقبل تاریک ہے، حسن چوہدری کا موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے قریبی لوگوں کی غلطیوں کی سزا پوری پارٹی بھگت رہی ہے، پی ٹی آئی کارکنوں کی اکثریت امن پسند اور قانون و آئین کا احترام کرنے والی ہے اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ عمران خان نے اپنی ہوس اقتدار میں شدت پسندی کو رواج دے کر پوری ایک نوجوان نسل کو خراب کر کے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، حسن چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا ورکر ملی ٹینٹ نہیں تھا، دہشت گردی اس کی سوچ نہیں، عمران خان کی بے سمت سیاست اور ہر قیمت پر اقتدار کی ہوس کی وجہ سے آج یہ صورتحال ہے کہ ہر کارکن کے گھر پر پولیس چھاپے مار رہی ہے، لوگوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، لاپتہ کیا جا رہا ہے، حسن چوہدری نے اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کرے ، جو قیادت اور تنظیم حقیقی معنوں میں انتہاپسند اور انتشاری ٹولہ ہے اسے الگ طریقے سے ڈیل کرے اور عام ورکرز کو جن کی فیملیز پرامن اور شریف پاکستانی عوام پر مشتمل ہیں ان کے ساتھ نرمی کے ساتھ ڈیل کیا جائے اور انہیں پرامن زندگی کی طرف واپس آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔نیوزپروگرام میں میزبان شوکت پراچہ سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے مزید کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے مارشل لا کا صرف نام سنا ہے ، کبھی مارشل لا دیکھا نہیں۔آئین میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کو لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے لیے بھی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ یہ حرکت کر کے پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی اپنے تابوت میں خود کیل ٹھونک رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں