Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شٹل ڈپلومیسی

مشرقِ وسطیٰ گزشتہ دو ہفتوں سے غیر معمولی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان براہِ راست حملوں، امریکہ اور ایران کے مذاکرات، لبنان کی صورتحال اور پاکستان و خلیجی ممالک کی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی سیاست کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان ایک بار پھر سفارتی منظرنامے کے مرکز میں دکھائی دے رہا ہے، اور اس کی بڑی وجہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متحرک سفارت کاری ہے۔ جسے ہم بجا طور پر شٹل ڈپلومیسی قرار دے سکتے ہیں، گزشتہ ڈیڑھ دو ہفتوں کے دوران پیش آنے والے واقعات پر نظر ڈالیں تو ایک مربوط سفارتی سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف جنرل روڈولف ہائیکل نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور عسکری روابط کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ یہ محض ایک رسمی فوجی ملاقات نہیں تھی بلکہ ایسے وقت میں ہوئی جب لبنان خود خطے کے بحران کا اہم کردار بنا ہوا ہے۔اس کے فوراً بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ اسی دوران انہوں نے ترکی، قطر، سعودی عرب، برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے بھی مسلسل مشاورت جاری رکھی۔ اس سفارتی رابطہ کاری میں پاکستان کو ایک اہم فریق کے طور پر شامل رکھا جانا اس بات کی علامت ہے کہ اسلام آباد کی رائے کو خطے میں وزن دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ کی جی ایچ کیو آمد اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات نے بھی یہ واضح کیا کہ خلیجی ریاستیں پاکستان کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہیں۔ بحرین، سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اس وقت نئی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔اسی سلسلے کی ایک اور اہم کڑی وزیر داخلہ محسن نقوی کا تہران کا خصوصی دورہ ہے، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خصوصی پیغامات ایرانی قیادت تک پہنچائے ہیں۔ یہ اقدام اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ پس پردہ سفارتی کوششوں میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اعلی سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ رہے ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق فنی مذاکرات کی نگرانی کی جا سکے۔ اگر یہ پیش رفت اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہے تو پاکستان کا کردار مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔ان تمام واقعات کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے اگر ایک تسلسل میں دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستان آج صرف جنوبی ایشیا کا ملک نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی بڑی سفارتی بساط پر بھی ایک مثر کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک کی عسکری اور سیاسی قیادت کے رابطوں کا ایک اہم مرکز اسلام آباد اور راولپنڈی بن چکے ہیں۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام مسائل حل ہو چکے ہیں، لیکن موجودہ سفارتی سرگرمیاں اس جانب ضرور اشارہ کرتی ہیں کہ خلیج میں مستقل یا طویل المدت جنگ بندی کے امکانات پہلے کے مقابلے میں زیادہ روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں کشیدگی کم ہوتی ہے یا کوئی پائیدار سفارتی پیش رفت سامنے آتی ہے تو پاکستان کی ثالثی اور رابطہ کاری کو یقینا ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جائے گا۔یہ منظرنامہ بھارت کے لیے بھی باعثِ غور ہے۔
برسوں تک نئی دہلی خود کو خطے اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ناگزیر سفارتی پل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن موجودہ بحران میں عالمی توجہ پاکستان کی طرف مرکوز دکھائی دے رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جس مقام تک پہنچنے کا خواب نریندر مودی کی حکومت برسوں سے دیکھ رہی تھی، وہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سرکردگی میں پاکستان نے اپنی متوازن حکمت عملی، عسکری اعتبار اور فعال سفارت کاری کے ذریعے قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔سیاست میں فیصلے نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے پہچانے جاتے ہیں۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ موجودہ سفارتی کوششیں کس حد تک دیرپا امن کا راستہ ہموار کرتی ہیں، مگر ایک حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ اس وقت پاکستان عالمی سفارتی منظرنامے میں پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں نظر آ رہا ہے، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس سفارتی سرگرمی کے اہم کرداروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ خطے کے سب سے اہم ملک کا یہ کردار کسی کی نوازش نہیں، بلکہ پاکستان کی مسلسل محنت ، امن سے لگن اور مشرق وسطیٰ میں بھارتی و اسرائیلی گٹھ جوڑ کے مقابلے کیلئے پاکستان ، ایران، ترکی، عرب ہم آہنگی سے عبارت ہے، اور یہ مقام حاصل کرنے کیلئے جس جرات رندانہ کی ضرورت تھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلاشبہ اس کا عملی مظاہرہ کرکے دکھا دیا ہے۔
جو ہاتھ بڑھا کے اٹھا لے مینا، اسی کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں