چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ
(گزشتہ سے پیوستہ) اور قرآن کریم نے جو بیان فرمایا ہے ”ضربت علیھم الذلۃ“ (آل عمران ۱۱۲) ان کی تقریباً اٹھارہ سو سال تک یہ کیفیت رہی ہے، اور کہیں ان کی کوئی ریاست نہیں تھی۔ ہمارے ساتھ ان کا
(گزشتہ سے پیوستہ) اور قرآن کریم نے جو بیان فرمایا ہے ”ضربت علیھم الذلۃ“ (آل عمران ۱۱۲) ان کی تقریباً اٹھارہ سو سال تک یہ کیفیت رہی ہے، اور کہیں ان کی کوئی ریاست نہیں تھی۔ ہمارے ساتھ ان کا
موجودہ تناظر میں عالمی طور پر ہمارا سب سے بڑا ٹکراؤ یہود سے ہے، تو آج ان کے حوالے سے بات ہوگی۔ یہودیت اس وقت تعداد کے لحاظ سے کوئی بڑا مذہب نہیں ہے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہیں۔لیکن اثر و
بزرگان دین کا تذکرہ محبت و برکت کے علاوہ راہ نمائی کیلئے بھی ہوتا ہے۔ بلکہ قرآن کریم نے ہمیں احکام و قوانین پر براہ راست عمل کرنے کی بجائے بزرگان دین کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے اور
(گزشتہ سے پیوستہ) موجودہ حالات میں مسلمانوں کی تیسری ذمہ داری عرض کرنا چاہوں گا۔ لڑائیوں میں سیاسی لڑائی بھی ہوتی ہے، ہتھیاروں کی لڑائی بھی ہوتی ہے اور معاشی لڑائی بھی ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ
(گزشتہ سے پیوستہ) اس حوالے سے تیسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آخر ہم بھی مسلمان ہیں، وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں، ہمارا بھی کوئی فرض بنتا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ہمیں کہہ رہے ہیں
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس وقت عالم اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے اہم فلسطین، بیت المقدس اور فلسطینیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث بھی ہے اور تمام لوگ اپنے اپنے دائرے
ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خبرِ واحد‘‘ کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا؟ میں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ بتایا کہ تھرڈ ایئر کا
جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ مسلمانوں کی مائیں ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت تک مسلمان خواتین کے لیے آئیڈیل اور اسوہ ہیں اور نبی کریمؐ کا گھریلو نظام اور خاندانی ماحول پوری نسلِ انسانی کے
(گزشتہ سے پیوستہ) اس کا تازہ ترین مظہر یہ ہے کہ قطر کا ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ انہوں نے دنیا کے سب سے مہنگے اور بڑے ٹورنامنٹ کا
(گزشتہ سے پیوستہ) حضرت ابوذر غفاریؓ کا معمول یہ تھا کہ جیسے کپڑے خود پہنتے تھے ویسے ہی نوکروں کو پہناتے تھے۔ ایک دن آپؓ کے ایک دوست نے آپؓ سے کہا آپ نے جو اتنا قیمتی لباس پہنا ہوا